ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
مانتے ہیں ایک کلمے والے کے گرد چکر لگا رہے ہیں طواف کر رہے ہیں لیکن آپس میں لڑ رہے ہیں وَلَا تَنَازَعُوْ فَتَفْشَلُوْ وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ اِس کا نتیجہ کیا ہوا کہ دُشمن اگرچہ بیت اللہ سے دُور ہے لیکن اُس کے باوجود ہم کو نقصان پہنچا رہاہے گولیاں بیت اللہ پر بر سارہا ہے۔ قریب ہم ہیں دین کے کیونکہ ہم مسلمان ہیں لیکن دین کے قریب ہونے کے باوجود جوہمارا دُشمن ہے وہ ہمارے دین کو نقصان پہنچا رہاہے اور ہم اپنے دین کو نہیں بچارہے بیت اللہ کو ہم نہیں بچا رہے ۔اِس وقت ہماری آپس کی لڑائیاں اور اِختلافات کریں ،اِختلاف کریں جو کرناہے لیکن اُس کی حد میں رہ کر۔ ایک صاحب نے مجھے بتایا وہ دُنیا دارہیں میرے پاس آئے،اَب اُنہوں نے داڑھی رکھی لی ہے کاروباری آدمی ہیں کہنے لگے کوئی پانچ چھ ماہ کی بات ہے میں مدینہ منورہ میں تھا ایک صاحب کے ساتھ کھڑا تھا تو دوتین آدمی بھی ساتھ تھے تو ہم وہاں کھڑے تھے تو اِتنے میں مولانا فضل الرحمن صاحب بھی وہاں آگئے عمرے پر گئے ہوئے ہوں گے۔ وہ کوئی جمعیت کا آدمی نہیں ہے سیاسی طور پر کچھ نہیں ہے بس جیسے علماء سے تعلق اور محبت رکھتے ہیں دُنیادار آدمی ، کہنے لگے میں وہاں کھڑا تھا فلاں فلاں مذہبی لوگ بھی موجود تھے علماء اُن کے پاس تو مولانا بھی آگئے اتفاقًا وہاں سے گزر رہے تھے تو اُن عالموں میں سے جو داڑھی والے تھے اُن میں سے ایک نے کہا دیکھ رہے ہو اُس کی شکل پر کتنی لعنت برس رہی ہے ۔کہنے لگے کہ میری تو جیسے پیروں تلے زمین نکل گئی دیکھیںدُنیادارکے جذبات اوردیندارکی بے خوفی ۔ کہتاہے کہ میرادل ہِل گیا ایک مسلمان کو یہ کلمہ کہہ دیا، عالم کا لفظ نہیں کہا اُس نے،اُس نے کہاایک مسلمان کو یہ بات کہہ دی کم اَزکم درجہ میں مسلمان تو ہے اور مسلمان پر لعنت کرنا حرام ہے آپ خود پڑھتے ہیں حدیث میں، جس نے کسی مسلمان پرلعنت بھیجی اور وہ لعنت کا مستحق نہیں تو وہ لعنت اُسی پر واپس آتی ہے، العیاذ باللہ۔ تو یہ جو بے اِعتدالیاں ہیں یہ دین کی محنت کو تباہ کر رہی ہیں، ہم تباہی کے دہانے پر جا رہے ہیں۔ تو سیاست بہت خطرناک کام ہے دل گردے کا کام ہے اِس میں گالیاں پڑتی ہیں۔ نبی علیہ الصلوٰة والسلام پر قاتلہ حملے ہوئے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بھی ہوئے سیاست کے وجہ سے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے سیاست میں قاتل سیاسی تھے،وہ مجوسی تھا سیاسی مخالفت کرتا تھا۔ اُن کے بعد حضرت عثمان ِ غنی رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اُن کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ شہید ہوگئے اُن کے بعد حضرت حسن ،حسین شہید ہوگئے