ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2008 |
اكستان |
|
حضرت والد صاحب جمعیت کے اَمیر تھے اِتنے اِتنے بڑے خط غلاظت بھرے گالیوں کے بہتانوں کے ایسے ایسے آتے تھے کہ دل چاہتاتھا کہ وہ ہاتھ آجائے آدمی اُس کو چیرپھاڑدیںلیکن اُف بھی نہیں کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک بات ہورہی تھی مخالف کی جس نے حضرت کو بڑا تنگ کیا تھا اور ہمارا جانی دُشمن مرتے دم تک رہا۔ اُس کا تذکرہ ہوا اور گھرمیں عورتیں بھی بیٹھی تھیں ہماری والدہ اور بہنیں بھی تھیں تو کسی نے سخت جملہ میں اُسے بُرا کہہ دیا، فرمایایہ کیوں کہہ دیا تم نے یہ کہہ کر تو تم بھی اُسی جیسی ہوگئیںاُس کی صف میں شامل کرلیا اپنے کو اَجرو ثواب ختم ہوگیا ایسا مت کرو۔ تو بھائی دیکھیے سیاست حضرت نبی علیہ السلام نے کی جب آئے تو مخالف ہوگئے لوگ، جب تک سیاست پر عمل نہیں کر رہے تھے تو چونکہ اُن کی چوہدراہٹ پر آنچ نہیں آرہی تھی وہ بُرا نہیں کہتے تھے (بلکہ) آپ کواَمین کہتے تھے آپ کو سچا کہتے تھے آپ سے جھگڑے حل کرواتے تھے۔ جس دن نبی علیہ السلام نے یہ اعلان کیا اُنہیں (خیال)ہواکہ اَوہو یہ تو ہماری سیاسی موت ہے اگر یہ آگے آگئے تو پھر ہماری سیاسی موت ہوگی وہی مخالف بن گئے جو کل تک اَمین بھی کہتے تھے اور سب کچھ مانتے تھے مخالف اَور دُشمن ہوگئے۔ تو یہ سیاست کا راستہ دل گردے کا راستہ ہے بہت خطرناک راستہ ہے بہت مشکل راستہ ہے ہر ایک اِس میں نہیں آسکتا اور ہر ایک کو آنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ بہت مکار لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو سیاسی طورپر مکاری کرتے ہیںسادہ لوگوں کو بہکا دیتے ہیں۔ اَب جب ایک سادہ آدمی جائے گا اور وزیر اعظم اُٹھ کر کھڑے ہوکر ملے گا پھر جاتے ہوئے جوتے بھی سیدھے کرے گا اور گاڑی میں بیٹھتے وقت دروازہ بھی کھولے گا اور بٹھائے گا تو یہ کہے گا یہ بہت اچھا ہے لیکن جو عالم ایسا ہوگا جو سیاسی داؤ پیج بھی جانتا ہے وہ سمجھ رہا ہوگا کہ یہ پوری مکاری اور عیاری کررہا ہے وہ اُس کی اِس چیز سے ہر گز متأثر نہیں ہوگا لیکن عام آدمی متأثر ہوجائے گا۔ تو دیکھیے بھائی آپ اگر مولانا فضل الرحمن صاحب کا ساتھ نہیں دے سکتے تو خدا کے لیے بُرا بھی نہ کہیے کیونکہ اُن کا کچھ نہیں بگاڑرہے اپنا بگاڑرہے ہیں۔ مؤمن تو ہیں مسلمان تو آپ اُنہیں مانتے ہیں، کہ نہیں مانتے؟ اگر آپ دیانةً اُنہیں کافر سمجھتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے آپ مخالفت کرلیں میری طرف سے اِجازت ہے اور مجھے بھی آکر قائل کرلیں میں بھی آپ کے ساتھ مل کر اُن کی مخالفت اُسی وقت شروع کردُوں گا جس دن آپ کی دلیل کو سمجھ لوں گا اور میں دعوت دوں گا سب کو کہ تم بھی