ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
اكستان |
|
ہیں۔ اور اِن سے پہلے راوی محمد بن عمر بن الرومی کے بجائے محمد بن جعفر الفیدی آئے ہیں جس سے محمد بن جعفر کی ذمّہ داری کا بوجھ تقسیم ہوگیا۔ اور شریک بن عبد اللہ النخعی القاضی ہیں۔ امام مسلم نے اِن سے روایت لی ہے۔ امام بخاری نے تعلیق لی ہے۔ یحییٰ بن معین نے اِن کی توثیق کی ہے۔ عجلی نے کہا ہے کہ وہ ثقہ اور حسن الحدیث ہیں۔ عیسیٰ بن یونس نے کہا کہ میں نے اِن سے زیادہ علم میں وَرَع اختیار کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ تو ایسی صورت میں (اِن کا تفرد بھی حسن شمار ہوگا۔ چہ جائیکہ اِن کے ساتھ جب حدیث ابی معاویہ والی سند بھی ملالی جائے (یعنی اَب اِس حدیث کی سندیں بھی جدا جدا راویوں سے ڈبل ہوگئیں) اور اِس پر یہ اعتراض کہ بعض راویوں نے صنابحی کا سند میں ذکر نہیں کیا، نہیں آسکتا۔ کیونکہ خود حضرت سوید ابن ِ غفلة ایسے تابعی ہیں جو مُخَضْرَمْ ہیں (یعنی جنہوں نے جاہلیت کا قبل اَز اسلام زمانہ بھی دیکھا ہے) اور اُنہوں نے خلفاء اَربعہ کو پایا ہے اور اِن سے روایات سُنی ہیں۔ اور صنابحی کا ذکر کرنا مزید سند کو متصل ہی کرنا ہے۔ اور ابوالفرج (ابن ِ جوزی) نے اور اِن کے سواء کسی اَور نے بھی شریک کی حدیث میں توڑ کرنے والی کوئی اور بات نہیں ذکر کی۔ سوائے اِس کے کہ اُنہوں نے موضوع قرار دینے کا ایک دعوٰی کیا ہے۔ جلال الدین سیوطی نے اِس کے بعد حافظ ابن ِ حجر کا اِس حدیث کے بارے میں فتوٰی اور فیصلہ نقل کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : ''اُنہوں نے فرمایا کہ اِس حدیث کو حاکم نے مستدرک میں بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صحیح ہے۔ اور ابوالفرج ابن الجوزی نے اِن سے اختلاف کیا اور اسے موضوعات (باطل) میں ذکر کیا اور کہا کہ یہ جھوٹی من گھڑت ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ دونوں کی بات غلط ہے اور حدیث حسن کی قسم کی ہے، نہ تو صحت کے درجہ کو پہنچتی ہے اور نہ کذب کے درجہ تک گری ہے۔ اور اِس کے بیان کرنے میں طوالت ہے۔ لیکن اِس حدیث کے بارے میں یہ ہی بات (کہ وہ حسن ہے) قابل ِ اعتماد ہے۔ انتہٰی '' جلال الدین سیوطی نے لکھا کہ میں نے حافظ ابن ِ حجر کی تحریرمیں سے جہاں اُنہوں نے اور حدیثوں کا جواب لکھا ہے اِس حدیث کے بارے میں دیکھا۔ اُنہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ حاکم نے اِس حدیث کا ایک شاہد پیش کیا ہے وہ حدیث جابر ہے۔ پھرحافظ جلال الدین نے وہ روایت مع سند نقل کی ہے۔ جلال الدین نے فرمایا کہ حافظ ابن ِ حجر نے لسان المیزان میں ذہبی کی روایت عَنْ اَبِیْ مُعَاوِیَہْ والی کے بارے میں فرمایا ہے کہ ذہبی نے اِسے موضوع قرار دیا ہے۔ (لیکن) اِس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں جو مستدرک حاکم میں