Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008

اكستان

20 - 64
ہیں۔ اور اِن سے پہلے راوی محمد بن عمر بن الرومی کے بجائے محمد بن جعفر الفیدی آئے ہیں جس سے محمد بن  جعفر کی ذمّہ داری کا بوجھ تقسیم ہوگیا۔ اور شریک بن عبد اللہ النخعی القاضی ہیں۔ امام مسلم نے اِن سے روایت   لی ہے۔ امام بخاری نے تعلیق لی ہے۔ یحییٰ بن معین نے اِن کی توثیق کی ہے۔ عجلی نے کہا ہے کہ وہ ثقہ اور   حسن الحدیث ہیں۔ عیسیٰ بن یونس نے کہا کہ میں نے اِن سے زیادہ علم میں وَرَع اختیار کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ تو ایسی صورت میں (اِن کا تفرد بھی حسن شمار ہوگا۔ چہ جائیکہ اِن کے ساتھ جب حدیث ابی معاویہ والی سند بھی ملالی جائے (یعنی اَب اِس حدیث کی سندیں بھی جدا جدا راویوں سے ڈبل ہوگئیں) اور اِس پر یہ اعتراض کہ بعض راویوں نے صنابحی کا سند میں ذکر نہیں کیا، نہیں آسکتا۔ کیونکہ خود حضرت سوید ابن ِ غفلة ایسے تابعی ہیں جو  مُخَضْرَمْ  ہیں (یعنی جنہوں نے جاہلیت کا قبل اَز اسلام زمانہ بھی دیکھا ہے) اور اُنہوں نے خلفاء اَربعہ کو پایا ہے اور اِن سے روایات سُنی ہیں۔ اور صنابحی کا ذکر کرنا مزید سند کو متصل ہی کرنا ہے۔ اور ابوالفرج (ابن ِ جوزی) نے اور اِن کے سواء کسی اَور نے بھی شریک کی حدیث میں توڑ کرنے والی کوئی اور بات نہیں ذکر کی۔ سوائے اِس کے کہ اُنہوں نے موضوع قرار دینے کا ایک دعوٰی کیا ہے۔ 
جلال الدین سیوطی نے اِس کے بعد حافظ ابن ِ حجر کا اِس حدیث کے بارے میں فتوٰی اور فیصلہ نقل کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے  :  ''اُنہوں نے فرمایا کہ اِس حدیث کو حاکم نے مستدرک میں بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صحیح ہے۔ اور ابوالفرج ابن الجوزی نے اِن سے اختلاف کیا اور اسے موضوعات (باطل) میں ذکر کیا اور کہا کہ یہ جھوٹی من گھڑت ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ دونوں کی بات غلط ہے اور حدیث حسن کی قسم کی ہے، نہ تو صحت کے درجہ کو پہنچتی ہے اور نہ کذب کے درجہ تک گری ہے۔ اور اِس کے بیان کرنے میں طوالت ہے۔ لیکن اِس حدیث کے بارے میں یہ ہی بات (کہ وہ حسن ہے) قابل ِ اعتماد ہے۔  انتہٰی  '' 
جلال الدین سیوطی نے لکھا کہ میں نے حافظ ابن ِ حجر کی تحریرمیں سے جہاں اُنہوں نے اور حدیثوں کا جواب لکھا ہے اِس حدیث کے بارے میں دیکھا۔ اُنہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ حاکم نے اِس حدیث کا ایک شاہد پیش کیا ہے وہ حدیث جابر ہے۔ پھرحافظ جلال الدین نے وہ روایت مع سند نقل کی ہے۔ جلال الدین  نے فرمایا کہ حافظ ابن ِ حجر نے لسان المیزان میں ذہبی کی روایت  عَنْ اَبِیْ مُعَاوِیَہْ  والی کے بارے میں فرمایا ہے کہ ذہبی نے اِسے موضوع قرار دیا ہے۔ (لیکن) اِس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں جو مستدرک حاکم میں
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 اَنصار کون ہیں ؟ 5 3
5 بیعت ِ عقبہ چار ہیں : 6 3
6 مدینہ منورہ تشریف لانے کی دعوت : 6 3
7 ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ابن ِ دغنہ کی طرف سے اَمان : 7 3
8 حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تلاوت و عبادت اور کفار کی بوکھلاہٹ : 7 3
9 اَمان کا اِختتام : 7 3
10 پیشن گوئی کہ اَنصار کم ہوجائیں گے : 8 3
11 '' غلطی'' سے مراد : 8 3
12 ملفوظات شیخ الاسلام 10 1
13 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 10 12
14 حکیم فیض عالم صدیقی کی بے راہ رَوی 13 1
15 حضرتِ اقدس کا خط 13 14
16 آپ نے پھر دریافت کیا ہے کہ ''اِن الفاظ کا روایات کے سلسلہ میں کیا مقام ہے ؟'' 13 14
17 وفیات 22 1
18 مدارس میں مجالسِ ذکر کے قیام کی ضرورت و اہمیت 23 1
19 جواب اَز حضرت شیخ الحدیث 24 18
20 .جواب اَز مولانامحمدیوسف بنوری 26 18
21 اہم اِشکال : 27 18
22 جواب اَز حضرت شیخ الحدیث 28 18
23 اِشکال کاجواب : 29 18
24 اِس پرمولانابنوری کا جواب آیا : 31 18
25 جوابُ الجواب اَز حضرت شیخ الحدیث 33 18
26 عو ر توں کے رُوحانی امراض 35 1
27 عورتیں اوررُسوم کی پابندی : 35 26
28 رسوم ورواج کی جڑوبنیاد عورتیں ہیں : 36 26
29 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّةُ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّة 37 1
30 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 37 29
31 وضومیں چہرہ کے دائرے میں موجودداڑھی 39 1
32 یہاں دوطرح سے دلیل بنتی ہے : 47 31
33 حاصل کلام : 47 31
34 حاصل کلام یہ اُمور ہیں : 47 31
35 بقیہ : حضرت فاطمہ کے مناقب 48 29
36 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
37 تین صحابی جن کی جنت مشتاق ہے : 49 36
38 تین چیزوں سے بری شخص جتنی ہے : 49 36
39 حضور ۖ سوتے وقت تین مرتبہ یہ دُعاء پڑھتے تھے : 50 36
40 دینی مسائل 52 1
41 ( تولیدکے جدیدطریقے ) 52 40
42 ۔ مصنوعی تخم ریزی : (Artificial Insemination) 52 40
43 2 ۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی : (Test Tube Fertilisation) 52 40
44 3 ۔ اِنسانی کلوننگ :(Human Cloning) 53 40
45 یہودی خباثتیں 55 1
46 برطانیہ میں یہودی صحافت : 55 45
47 - 2 فرانس : 55 45
48 - 3 رُوس : 58 45
Flag Counter