ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
اكستان |
|
یہ ہے کہ اَبُوْالصَّلْتِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنِ صَالِحِ الْھِرَوِیُّ عَنْ اَبِیْ مُعَاوِیَةَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ مُّجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَّرْفُوْعًا۔ اور اِن عبد السلام کے بارے میں کافی گفتگو کی گئی ہے۔ نسائی نے کہا لَیْسَ بِثِقَةٍ۔ دارِ قطنی اور ابن ِ عدی نے کہا مُتَّہَم ۔ دارِ قطنی نے یہ لفظ بھی بڑھایا ہے کہ رَافِضِیّ۔ اور ابوحاتم نے کہا کہ میرے نزدیک وہ صدوق نہیں ہیں۔ اور ابوزرعہ نے اِن کی حدیث کی تصویب کی ہے۔ (لیکن) اس سب کے باوجود حاکم نے کہا کہ حَدَّثَنَا الْاَصَمُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسِیّ یَعْنِی الدَّوْرِی قَالَ کہ دَوری نے کہا کہ میں نے ابوالصلت کے بارے میں یحییٰ بن معین سے دریافت کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ ثقہ ہیں۔ میں نے کہا کہ اُنہوں نے ابومعاویہ سے حدیث اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ بیان کی ہے تو اُنہوں نے جواب دیا کہ محمد بن جعفر الفیدی نے بھی بیان کی ہے اور وہ ثقہ ہیں اُنہوں نے (بھی) ابومعاویہ سے روایت کی ہے۔ اور صالح جزرہ نے بھی ابن ِ معین سے ایسا ہی سوال و جواب نقل کیا ہے۔ پھر حاکم نے محمد بن یحییٰ بن الضریس سے جوکہ ثقہ اور حافظ ہیں عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ الْفَیْدِیْ عَنْ اَبِیْ مُعَاوِیَةَ روایت کی ہے۔ اِس کے بعد علائی نے فرمایا کہ اَب ابوالصلت عبد السلام اپنی ذمّہ داری سے سبکدوش ہوگئے۔ اور ابومعاویہ ثقہ ہیں مامون (محفوظ) ہیں۔ وہ اُن بڑے مشائخ اور بڑے حفاظ میں ہیں کہ جن پر سب کو اتفاق ہے۔ اور وہ اعمش سے لینے میں متفرد ہیں۔ علائی نے فرمایا کہ اِس میں کیا بات ہے اور کون سی محال چیز پیش آرہی ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام اِس قسم کی بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمادیں۔ اور جس کسی نے بھی اِس پر اعتراض کیا ہے اور اِسے موضوع (باطل) کہا ہے اُن میں سے کسی نے بھی یحییٰ بن معین سے اِن صحیح روایتوں کا جواب نہیں دیا (ابن ِ معین کی رائے جن کے بارے میں آئی ہے) پھر اِس کے ساتھ ساتھ ایک روایت اِس کی شاہد بھی ہے جو ترمذی نے دی ہے۔ اور یہی روایت و سند ابومسلم کجی وغیرہ نے محمد بن عمر بن الرومی سے دی ہے۔ اور امام بخاری نے صحیح بخاری کے علاوہ کتابوں میں محمد بن عمر الرومی کی روایت لی ہے۔ ابن ِ حبان نے اِن کی توثیق کی ہے اور ابوداو د نے اِنہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوزرعہ نے کہا فِیْہِ لِیْن۔ اِن میں نرمی یعنی ایک قسم کی کمزوری ہے۔ اِس کے بعد حافظ علائی نے ترمذی شریف کی روایت مع سند دی ہے جس میں محمد بن عمر بن الرومی عن شریک آئے ہیں۔ پھر فرمایا ہے کہ حاکم کی سند اور ترمذی کی سند میں شریک کے بجائے ابو معاویہ آئے