ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
اكستان |
|
ہیں جن کا کم سے کم بھی درجہ یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ حدیث کی اصلیت ہے۔ لہٰذا اِس پر موضوع ہونے کا اطلاق نہ کرنا چاہیے اور اِس کی تشریح طوالت طلب ہے۔ انتہٰی۔'' پھر جلال الدین سیوطی نے اِس کے بعد اِس حدیث کی اور سندیں بھی نقل کی ہیں۔ اور خطیب کی کتاب تلخیص المتشابہ سے پانچ روایتیں دیلمی سے ایک۔ ابن ِ عساکر سے دو حدیثیں مع اسناد وغیرہ نقل کی ہیں۔ یہ طویل بحث ص ٣٢٩ سے لے کر ص ٣٣٦ تک ہے۔ دیکھیں اللأ لی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعة ج١۔ میں نے پہلے خط میں بالاختصار اِس کتاب کے حوالہ پر اکتفاء کیا تھا مگر آپ نے کتاب اُٹھاکر نہیں دیکھی اور وہی پہلے خط والی عبارت بے محنت کیے دوبارہ لکھ ڈالی۔ جیسے وہ وحی بلکہ آیت ہے۔ میں نے آپ کو پہلے اپنے ایک خط میں لکھا تھا ''اَب اس حدیث کی تحقیق اگر آپ اپنے ذہنی دائرہ سے آزاد ہوکر کرنی چاہیں تو '' اللأ لی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعة'' میں اِس کا مطالعہ کریں۔'' اَب میں نے دوبارہ بھی گویا اپنا جواب ہی دہرایا ہے۔ اب آپ نے اُردو میں یہ بحث پڑھ کر سمجھ لیا ہوگا کہ ابن ِ معین کے اَقوالِ صحیحہ کے بارے میں ابن ِ جوزی نے کچھ لکھا ہی نہیں۔ اور امام ترمذی نے جو ترمذی میں فرمایا ہے اُسے دُوسری سند سے تقویت ہوگئی ہے۔ اور اَب آپ اِس حدیث کے معنٰی بھی سمجھ گئے ہوں گے۔ نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ' کے علم کے بارے میں جو اشکال تھا وہ رفع ہوگیا ہوگا۔ کیونکہ میں نے اِن ہی حضرات سے سب کچھ لکھا ہے جنہیں آپ جانتے تھے اور جن کے نام آپ نے خود ہی لکھے تھے۔ باقی بحث بے انتہا باقی ہے۔ جو اِس رسالہ میں نہیں آسکتی۔ جو آپ حسب ِ وعدہ بلاردّ و بدل کے اور اَب میرے جواب پر بغیر مزید حاشیہ چڑھائے بلا کم و کاست چھاپیں گے۔ کیونکہ آپ خوب خوب لکھ چکے ہیں اور اگر میں یہ تجویز نہ پیش کرتا تو آپ چھاپ ہی دیتے۔ کہ میں آپ کے آخری دو خطوط کا جواب بھی لکھے دیتا ہوں۔ اپنے خطوط کے ساتھ وہ جواب بھی چھاپیں تاکہ لوگوں کو صحیح معنٰی میں فائدہ ہو۔ اگر آپ کی نظر میں اب بھی کچھ لکھنا ضروری ہو تو رسالہ میں نہ لکھیں بلکہ مجھے لکھیں تاکہ میں اُس کا جواب لکھوں۔ پھر آپ کا خط اور میرا جواب رسالہ کے دُوسرے حصہ میں چھپے۔ اِس رسالہ میں اِتنا ہی چھپے۔ اور اَب آپ کو بالکل کُھلے دل سے اجازت دیتا ہوں کہ روایت پر جو اشکال ہو وہ مجھے لکھ سکتے ہیں۔ میں جواب دیتا رہوں گا۔ اور اِس کا اِتنا مواد موجود ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ ورنہ اپنے اکابر کا مسلک اختیار کریں۔ نئے مسلک جو اَب ایجاد ہورہے ہیں اُنہیں