ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
اكستان |
|
کیا کہ اِن کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا ''ھُوَ صَدُوْق'' سچے ہیں۔ میں نے کہا وہ اَنَا مَدِیْنَةُ والی روایت نقل کرتے ہیں۔ یحییٰ بن معین نے جواب دیا کہ یہی فیدی بھی روایت کرتے ہیں جیسے ابو الصلت کرتے ہیں۔ خطیب نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یحییٰ بن معین نے عبد الخالق بن منصور کو جویہ جواب دیا تھا کہ ابوالصلت کو میں نہیں جانتا اور حدیث اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ تو لَیْسَ بِشَیْئٍ کچھ بھی نہیں ہے وہ پہلے کی بات ہے۔ اور ابراہیم بن عبد اللہ بن الجنید کو جو اُنہوں نے جواب دیا تھا وہ تعارف کے بعد دیا ہے۔ خطیب نے کہا کہ اعمش رحمہ اللہ والی روایت کے بارے میں یہ ہے کہ ابوالصلت دو حضرات سے روایت نقل کرتے ہیں: (١) ابومعاویہ (٢) اعمش۔ تو احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ نے اعمش سے اِن کی اِس روایت کا انکار کیا ہے(اور ابو معاویہ سے روایت کا انکار نہیں فرمایا)اور یحییٰ ابن معین نے ابو معاویہ والی روایت کا انکار کیا تھا۔ پھر اِس کی تلاش کی تو یہ معلوم ہوا کہ ابوالصلت کے علاوہ بھی ابومعاویہ سے روایت لینے والے اور لوگ ثابت ہیں (اِس کے بعد ابوالصلت سے ملاقات بھی فرمائی جو اُوپر گزری)۔ قاسم بن عبد الرحمن الانباری نے کہا میں نے یحییٰ سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ ''صحیح'' ہے۔ خطیب نے کہا کہ معاویہ سے یہ صحیح ہے باطل نہیں ہے کیونکہ اِن سے دُوسرے بھی نقل کرتے ہیں۔ پھر اِسی قسم کا سوال احمد بن محمد بن القاسم بن محرز نے بھی یحییٰ سے کیا تو اُنہوں نے جوابِ مذکور کی طرح کا جواب دیا۔ عباس الدوری کی بھی اِسی قسم کی گفتگو یحییٰ بن معین سے ہوئی۔ اور ابوعلی صالح بن محمد نے بھی یحییٰ بن معین کا ایسا ہی قول نقل کیا ہے۔ اُنہوں نے یحییٰ سے یہ بھی پوچھا کہ دُوسرے راوی فیدی کا کیا نام ہے۔ یحییٰ نے جواب دیا محمد بن جعفر۔ اِس کے بعد سیوطی رحمة اللہ علیہ نے حافظ صلاح الدین العلائی کا اِس حدیث پر محاکمہ نقل کیا ہے۔ اُس کا ترجمہ بھی پیش کرتا ہوں کہ ''اس حدیث کو ابن ِ جوزی نے موضوعات میں متعدد طرق سے ذکر کیا ہے اور سب کے باطل ہونے کا دعوٰی کیا ہے۔ اور اِسی طرح اِن کے بعد ایک جماعت نے بھی جن میں ذہبی ہیں۔ اُنہوں نے میزان الاعتدال میں اور اِن کے سواء اَوروں نے بھی۔ اور جس روایت کی شہرت ہے اُس کی سند