Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008

اكستان

17 - 64
فاش غلطی ہے۔ 
آپ نے لکھا ہے کہ  ''علامہ سخاوی لکھتے ہیں  الخ  ''
٭  مگر حافظ ابن ِ حجر اور جلال الدین سیوطی نے اِن باتوں کو نہیں مانا اور بہت سی سندوں سے یہ روایت پیش کرکے اسے'' حسن'' (یعنی ایک طرح کی صحیح روایت) قرار دیا ہے۔ 
آپ نے لکھا ہے  ''جلال الدین سیوطی کہتے ہیں  الخ  ''
 ٭ اِن کا نام لینا بھی بے سود ہے کیونکہ اِنہوں نے موضوعاتِ کبرٰی میں جس کے بارے میں اِنہوں نے فرمایا ہے کہ یہ میں نے موضوعات ِ صغرٰی کے بعد لکھی ہے اُس حدیث کی سندوں پر بحث کی ہے جو مختصرًا سہل اَنداز میں پیش کررہا ہوں کیونکہ یہ علمی اور اِصطلاحی بحث ہے جو عام علماء کی سمجھ میں بھی آنی مشکل ہوا کرتی ہے۔ اِس لیے بقدر ِ ضرورت اِس کا ترجمہ اور مفہوم لکھ رہا ہوں اور اہل ِ علم خود ہی اِس کتاب کو دیکھ لیں  گے۔ انہوں نے پہلے ابونعیم کی روایت مع سند دی ہے۔ پھر ابن ِ مردویہ کی تین روایتیں مع سند دی ہیں۔ 
ایک میں  دَارُالْحِکْمَةِ  دُوسری میں  مَدِیْنَةُ الْفِقْہِ  اور تیسری میں  مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ  کے کلمات ہیں۔ اِس کے بعد طبرانی کی روایت مع السند۔ پھر خطیب کی روایت مع سند پھر عقیل کی روایت مع سند پھر ابن ِ عدی کی روایت مع سند پھر خطیب کی مع سند پھر ابن ِ عدی کی دو روایتیں مع سند پھر ابن ِ حبان کی ایک روایت مع سند پھر ابن ِ عدی کی روایت مع سند۔ یہ تیرہ روایتیں مع سند نقل کرنے کے بعد دار قطنی  کی جرح جو انہوں نے اِن حدیثوں کے راویوں پر کی ہے نو سطروں میں نقل کی ہے۔ پھر اُس کا جواب دینا شروع کیا ہے کہ حضرت علی کی حدیث ترمذی نے دی ہے اور حضرت ابن ِ عباس کی روایت حاکم نے دی ہے اور حاکم نے راویوں پر بحث کرکے اِسے صحیح ثابت کیا ہے۔ پھر تاریخ الخطیب کے حوالہ سے یحییٰ ابن ِ معین کا قول نقل کیا ہے۔ 
اور یہ کہ  ابو الصلت عبد السلام الہروی  کے بارے میں یحییٰ بن معین کی رائے ان سے ملاقات کے بعد بدل گئی تھی کہ وہ ثقہ ہیں۔ اِن سے کہا گیا کہ اُنہوں نے ابومعاویہ سے  اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ  کی روایت نقل کی ہے۔ اُنہوں نے جواب میں اِرشاد فرمایا کہ یہ روایت اِن کے علاوہ محمد بن جعفر فیدی نے بھی  کی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ اِسی میں (یحییٰ بن معین کی ملاقات کا واقعہ نقل کیا ہے) کہ یحییٰ بن معین اِن کے پاس گئے۔ ساتھ میں صالح بن محمد بن حبیب الحافظ بھی تھے۔ جب وہاں سے باہر آئے تو میں (صالح) نے دریافت
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 اَنصار کون ہیں ؟ 5 3
5 بیعت ِ عقبہ چار ہیں : 6 3
6 مدینہ منورہ تشریف لانے کی دعوت : 6 3
7 ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ابن ِ دغنہ کی طرف سے اَمان : 7 3
8 حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تلاوت و عبادت اور کفار کی بوکھلاہٹ : 7 3
9 اَمان کا اِختتام : 7 3
10 پیشن گوئی کہ اَنصار کم ہوجائیں گے : 8 3
11 '' غلطی'' سے مراد : 8 3
12 ملفوظات شیخ الاسلام 10 1
13 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 10 12
14 حکیم فیض عالم صدیقی کی بے راہ رَوی 13 1
15 حضرتِ اقدس کا خط 13 14
16 آپ نے پھر دریافت کیا ہے کہ ''اِن الفاظ کا روایات کے سلسلہ میں کیا مقام ہے ؟'' 13 14
17 وفیات 22 1
18 مدارس میں مجالسِ ذکر کے قیام کی ضرورت و اہمیت 23 1
19 جواب اَز حضرت شیخ الحدیث 24 18
20 .جواب اَز مولانامحمدیوسف بنوری 26 18
21 اہم اِشکال : 27 18
22 جواب اَز حضرت شیخ الحدیث 28 18
23 اِشکال کاجواب : 29 18
24 اِس پرمولانابنوری کا جواب آیا : 31 18
25 جوابُ الجواب اَز حضرت شیخ الحدیث 33 18
26 عو ر توں کے رُوحانی امراض 35 1
27 عورتیں اوررُسوم کی پابندی : 35 26
28 رسوم ورواج کی جڑوبنیاد عورتیں ہیں : 36 26
29 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّةُ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّة 37 1
30 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 37 29
31 وضومیں چہرہ کے دائرے میں موجودداڑھی 39 1
32 یہاں دوطرح سے دلیل بنتی ہے : 47 31
33 حاصل کلام : 47 31
34 حاصل کلام یہ اُمور ہیں : 47 31
35 بقیہ : حضرت فاطمہ کے مناقب 48 29
36 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
37 تین صحابی جن کی جنت مشتاق ہے : 49 36
38 تین چیزوں سے بری شخص جتنی ہے : 49 36
39 حضور ۖ سوتے وقت تین مرتبہ یہ دُعاء پڑھتے تھے : 50 36
40 دینی مسائل 52 1
41 ( تولیدکے جدیدطریقے ) 52 40
42 ۔ مصنوعی تخم ریزی : (Artificial Insemination) 52 40
43 2 ۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی : (Test Tube Fertilisation) 52 40
44 3 ۔ اِنسانی کلوننگ :(Human Cloning) 53 40
45 یہودی خباثتیں 55 1
46 برطانیہ میں یہودی صحافت : 55 45
47 - 2 فرانس : 55 45
48 - 3 رُوس : 58 45
Flag Counter