ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
اكستان |
|
فاش غلطی ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ''علامہ سخاوی لکھتے ہیں الخ '' ٭ مگر حافظ ابن ِ حجر اور جلال الدین سیوطی نے اِن باتوں کو نہیں مانا اور بہت سی سندوں سے یہ روایت پیش کرکے اسے'' حسن'' (یعنی ایک طرح کی صحیح روایت) قرار دیا ہے۔ آپ نے لکھا ہے ''جلال الدین سیوطی کہتے ہیں الخ '' ٭ اِن کا نام لینا بھی بے سود ہے کیونکہ اِنہوں نے موضوعاتِ کبرٰی میں جس کے بارے میں اِنہوں نے فرمایا ہے کہ یہ میں نے موضوعات ِ صغرٰی کے بعد لکھی ہے اُس حدیث کی سندوں پر بحث کی ہے جو مختصرًا سہل اَنداز میں پیش کررہا ہوں کیونکہ یہ علمی اور اِصطلاحی بحث ہے جو عام علماء کی سمجھ میں بھی آنی مشکل ہوا کرتی ہے۔ اِس لیے بقدر ِ ضرورت اِس کا ترجمہ اور مفہوم لکھ رہا ہوں اور اہل ِ علم خود ہی اِس کتاب کو دیکھ لیں گے۔ انہوں نے پہلے ابونعیم کی روایت مع سند دی ہے۔ پھر ابن ِ مردویہ کی تین روایتیں مع سند دی ہیں۔ ایک میں دَارُالْحِکْمَةِ دُوسری میں مَدِیْنَةُ الْفِقْہِ اور تیسری میں مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ کے کلمات ہیں۔ اِس کے بعد طبرانی کی روایت مع السند۔ پھر خطیب کی روایت مع سند پھر عقیل کی روایت مع سند پھر ابن ِ عدی کی روایت مع سند پھر خطیب کی مع سند پھر ابن ِ عدی کی دو روایتیں مع سند پھر ابن ِ حبان کی ایک روایت مع سند پھر ابن ِ عدی کی روایت مع سند۔ یہ تیرہ روایتیں مع سند نقل کرنے کے بعد دار قطنی کی جرح جو انہوں نے اِن حدیثوں کے راویوں پر کی ہے نو سطروں میں نقل کی ہے۔ پھر اُس کا جواب دینا شروع کیا ہے کہ حضرت علی کی حدیث ترمذی نے دی ہے اور حضرت ابن ِ عباس کی روایت حاکم نے دی ہے اور حاکم نے راویوں پر بحث کرکے اِسے صحیح ثابت کیا ہے۔ پھر تاریخ الخطیب کے حوالہ سے یحییٰ ابن ِ معین کا قول نقل کیا ہے۔ اور یہ کہ ابو الصلت عبد السلام الہروی کے بارے میں یحییٰ بن معین کی رائے ان سے ملاقات کے بعد بدل گئی تھی کہ وہ ثقہ ہیں۔ اِن سے کہا گیا کہ اُنہوں نے ابومعاویہ سے اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ کی روایت نقل کی ہے۔ اُنہوں نے جواب میں اِرشاد فرمایا کہ یہ روایت اِن کے علاوہ محمد بن جعفر فیدی نے بھی کی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ اِسی میں (یحییٰ بن معین کی ملاقات کا واقعہ نقل کیا ہے) کہ یحییٰ بن معین اِن کے پاس گئے۔ ساتھ میں صالح بن محمد بن حبیب الحافظ بھی تھے۔ جب وہاں سے باہر آئے تو میں (صالح) نے دریافت