ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
اكستان |
|
کا کلام تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب میں لکھ دیا ہے جو موضوعات پر تعقبات کے بارے میں لکھی ہے۔ ملا علی قاری نے اِسی صفحہ پر امام احمد رحمہ اللہ کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسا مشکل مسئلہ پیش آنے سے پناہ مانگتے تھے جسے حضرت علی نہ حل کر سکتے ہوں۔ اُنہوں نے امام احمد کے حوالے سے یہ روایت بھی دی ہے کہ حضرت ابن ِ عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ' کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُنہوں نے جواب میں فرمایا کہ وہ ایسے تھے کہ اُن کا باطن علم و حکمت سے بھرا ہوا تھا (اور وہ مجسم) بہادری اور ہیبت تھے۔ اِس کے ساتھ رسول اللہ ۖ کی قریبی رشتہ داری کا شرف بھی حاصل تھا۔ مسند احمد ہی کے حوالہ سے یہ روایت بھی دی ہے جس کا آخری حصہ یہ ہے کہ آقائے نامدار ۖ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کیا تم اِس سے خوش نہیں کہ تمہارا شوہر اِسلام لانے میں سب سے پہلا ہو (یعنی کم عمر لوگوں میں سے) اور اُن میں سب سے زیادہ علم والا ہو اور سب سے زیادہ حلم والا ہو( مرقات ص ٥٧١) یہ سب کچھ انہوں نے اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ کی حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے۔ اِس لیے اگر کوئی ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ کا نام اِس حدیث کو باطل ثابت کرنے کے لیے استعمال کر تاہے تو وہ غلطی پر ہے اس کے علاوہ ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ نے بھی ایک کتاب ''الموضوعات الکبرٰی'' کے نام سے لکھی ہے۔ اِس کا نام اُنہوں نے تمیز کے لیے '' الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة'' رکھا ہے۔ اس میں بھی حدیث اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ لکھ کر ترمذی کا پھر بقول آپ کے ''سخاوی'' کا پھر ابوحاتم اور یحییٰ بن سعید کا پھر ابن الجوزی پھر ذہبی پھر ابن ِ دقیق العید کا اور دارِ قطنی سب ہی کے اَقوال نقل کرنے کے بعد اِس حدیث ِ پاک کے بارے میں فیصلہ کے طور پر حافظ ابن ِ حجر اور حافظ ابوسعید العلائی کے وہ اَقوال ذکر کیے ہیں جو میں نے بحوالہ مرقات شرح مشکٰوة ابھی ابھی لکھے ہیں (الموضوعات الکبرٰی ص ١١٨ و ١١٩)۔ گویا اُنہوں نے بھی حدیث کو حسن ہی تسلیم کیا ہے۔ (حافظ ابوسعید دمشق کے رہنے والے تھے۔ پھر بیت المقدس میں فرائض ِ تعلیم انجام دیتے رہے۔ ٧٦١ ھ میں وفات ہوئی۔ ٦٧ سال عمر ہوئی)۔ تنبیہ : آپ نے پہلے خط میں اور اِس خط میں ابوذرعہ ذال سے لکھا ہے۔ یہ اِس بات کی علامت ہے کہ مضمون کسی کتابچہ سے ہی آپ نقل کرکے علامہ بننا چاہتے ہیں۔ جبکہ اصل کتابوں میں ہر جگہ صحیح نام ابوزرعہ زاء سے لکھا گیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ اور یہ نام بھی نادر نہیں بلکہ معروف ہے۔ اِس میں ایسی غلطی بڑی