ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
اكستان |
|
ور اس مدرسہ میں صبح و شام ایک کرکے محنت کی۔ تدریسی خدمات کے لیے ذی استعداد علماء کرام کو رکھا، بتدریج ترقی کرتے ہوئے یہ مدرسہ ایک جامعہ کی شکل اختیار کرگیا۔ ارکان کے معیاری جامعات میں اب یہ ''ریاض العلوم'' بھی ایک اعلیٰ اور معیاری جامعہ بن گیا ہے۔ اس اِدارہ میں عرصہ دراز سے دورۂ حدیث تک تعلیم ہورہی ہے۔ حضرت پیر صاحب بخاری شریف و ترمذی شریف کی تدریس بڑی شان و شوکت سے دیتے رہے اور دعوت و اِرشاد، رشد و ہدایت کے مشن پر اَسفار بھی مسلسل جاری رکھا ،احسان و سلوک کا سلسلہ بامِ عروج پرتھا، اپنے مریدوں کی تربیت بھی فرماتے رہے۔ ماشاء اللہ اِس نصف صدی سے زائد زندگی پر سینکڑوں عمرے کیے۔چارحج مبارک سے اللہ نے نوازا ہے۔ تقریباً سو (١٠٠) کی تعداد میں علماء و فضلائ، خلفاء کرام ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مریدین ہیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا، ١٤٢٦ھ مطابق ٢٠٠٥ ء کا حج آخری حج ثابت ہوا۔ حج اور اعمال مناسک سے فراغت کے بعد ٢١ ذی الحجہ ١٤٢٦ھ مطابق ٢٢جنوری ٢٠٠٦ء بروز اتوار طوافِ وداع سے فارغ ہوکر جدہ ائیرپورٹ پر ایک جم ِغفیر معتقدین، مریدین و محبین کے ساتھ وطن واپسی کے لیے تشریف لائے۔ دل میں درد سا محسوس کیا ،در اصل یہ درد دل کا دورہ تھا۔ وہاں سے خدام جدہ ملک فہد ہسپتال لے گئے جہاں سعودی وقت کے مطابق دن کے ٢بجے ارضِ مقدس کے جوارِ حرم میں کل ٧٨ سال کی عمر میں جان جانِ آفریں کے حوالہ کرکے خالق حقیقی سے جاملے ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ وہاں کے دستور کے مطابق تقریباً دو دن دو رات سرکاری کارروائی سے فارغ ہونے کے بعد ٢٣ ذی الحجہ ١٤٢٦ھ مطابق ٢٤جنوری ٢٠٠٦ء بروز منگل کو صبح فجر کی نماز کے بعد حرم مکہ مکرمہ بیت اللہ شریف میں نمازِ جنازہ پڑھ کر جنت المعلّٰی میں ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سُلادیے گئے اَللّٰھُمَّ ارْفَعْ دَرَجَاتِہ فِیْ جَنَّاتِ النَّعِیْمِ بِنِعْمَتِکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ پسماندگان میں ایک بیوہ، گیارہ اولاد میں سے نو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ پانچ عالم فاضل ہیں، اپنی اپنی جگہ دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت پیر صاحب کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اُن کے تمام متعلقین و مسترشدین کو حضرت کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے، آمین۔ (نوٹ) مستقل حالات تفصیل کے ساتھ انشاء اللہ (تذکرہ مشائخ و اکابر اَرکان) میں آرہا ہے۔