Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006

اكستان

57 - 64
ور اس مدرسہ میں صبح و شام ایک کرکے محنت کی۔ تدریسی خدمات کے لیے ذی استعداد علماء کرام کو رکھا، بتدریج ترقی کرتے ہوئے یہ مدرسہ ایک جامعہ کی شکل اختیار کرگیا۔ ارکان کے معیاری جامعات میں اب یہ   ''ریاض العلوم'' بھی ایک اعلیٰ اور معیاری جامعہ بن گیا ہے۔ اس اِدارہ میں عرصہ دراز سے دورۂ حدیث تک تعلیم ہورہی ہے۔ حضرت پیر صاحب بخاری شریف و ترمذی شریف کی تدریس بڑی شان و شوکت سے دیتے رہے اور دعوت و اِرشاد، رشد و ہدایت کے مشن پر اَسفار بھی مسلسل جاری رکھا ،احسان و سلوک کا سلسلہ بامِ عروج پرتھا، اپنے مریدوں کی تربیت بھی فرماتے رہے۔ 
	ماشاء اللہ اِس نصف صدی سے زائد زندگی پر سینکڑوں عمرے کیے۔چارحج مبارک سے اللہ نے نوازا ہے۔ تقریباً سو (١٠٠) کی تعداد میں علماء و فضلائ، خلفاء کرام ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مریدین ہیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا، ١٤٢٦ھ مطابق ٢٠٠٥ ء کا حج آخری حج ثابت ہوا۔ حج اور اعمال مناسک سے فراغت کے بعد ٢١ ذی الحجہ ١٤٢٦ھ مطابق ٢٢جنوری ٢٠٠٦ء بروز اتوار طوافِ وداع سے فارغ ہوکر جدہ ائیرپورٹ پر ایک جم ِغفیر معتقدین، مریدین و محبین کے ساتھ وطن واپسی کے لیے تشریف لائے۔ دل میں درد سا محسوس کیا ،در اصل یہ درد دل کا دورہ تھا۔ وہاں سے خدام جدہ ملک فہد ہسپتال لے گئے جہاں سعودی وقت کے مطابق دن کے ٢بجے ارضِ مقدس کے جوارِ حرم میں کل ٧٨ سال کی عمر میں جان جانِ آفریں کے حوالہ کرکے خالق حقیقی سے جاملے ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ 
	وہاں کے دستور کے مطابق تقریباً دو دن دو رات سرکاری کارروائی سے فارغ ہونے کے بعد    ٢٣  ذی الحجہ ١٤٢٦ھ مطابق ٢٤جنوری ٢٠٠٦ء بروز منگل کو صبح فجر کی نماز کے بعد حرم مکہ مکرمہ بیت اللہ شریف میں نمازِ جنازہ پڑھ کر جنت المعلّٰی میں ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سُلادیے گئے  اَللّٰھُمَّ ارْفَعْ دَرَجَاتِہ فِیْ جَنَّاتِ النَّعِیْمِ بِنِعْمَتِکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ 
	پسماندگان میں ایک بیوہ، گیارہ اولاد میں سے نو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ پانچ عالم فاضل ہیں، اپنی اپنی جگہ دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت پیر صاحب کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اُن کے تمام متعلقین و مسترشدین کو حضرت کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے، آمین۔ 
	(نوٹ)  مستقل حالات تفصیل کے ساتھ انشاء اللہ (تذکرہ مشائخ و اکابر اَرکان) میں آرہا ہے۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 دُنیا کا سب سے پہلا تفصیلی معاہدہ اور یہودیوں کی بدعہدی : 6 3
5 اقوامِ متحدہ کا مدینہ منورہ پر حملہ اور ناکامی : 6 3
6 سیاسی اور فوجی شکست : 7 3
7 مسلمانوں کی سیاسی فتح : 7 3
8 قدامی جہاد اور یہودیوں کے خلاف کارروائی : 8 3
9 یہودیوں کی شیخیاں : 8 3
10 یہودیوں کے نامزد کردہ ثالث نے اِن ہی کے خلاف فیصلہ دیا : 8 3
11 غزوۂ خندق میں حضرت سعد کا زخمی ہونا پھر دُعا کرنا بعد ازاں شہادت : 9 3
12 یہودیوں کی بکواس کی اصل وجہ : 10 3
13 جنازہ ہلکا ہونے کی وجہ : 10 3
14 دُنیا میں ایمان بالغیب ضروری ہے : 10 3
15 بھاری جنازہ کو اچھا سمجھنے کی ظاہری وجہ : 11 3
16 انبیاء اور فرشتوں کی فراست : 11 3
17 اَلوداعی خطاب 12 1
18 این جی اَوز کے ذریعہ اِرتدادی فتنہ : 12 17
19 علماء اور اہل ِثروت ملکر کام کریں : 15 17
20 نبیوں کا طریقہ : 15 17
21 لوگوں کے جائز دُنیاوی کاموں میں مدد کرنا بھی غلبۂ دین کا سبب ہے : 17 17
22 غور طلب چیز : 19 17
23 طل پر زد مکمل اِسلام سے پڑتی ہے اَدھورے سے نہیں : 20 17
24 کھمبے کیا لگے مصیبت بن گئی : 20 17
25 مذہب ذاتی معاملہ نہیںبلکہ اجتماعی ہے : 21 17
26 پھر سوچیں 21 17
27 تنگ نظری اور تنگ دلی نہیں ہونی چاہیے : 22 17
28 واقعۂ شہادت ذی النورین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 23 1
29 مسئلہ قصاص اور نعرۂ قصاص 23 28
30 صفین کے موقع پر ایک ا ور کوشش 23 28
31 حج : اجتماعی بندگی کی علامت 36 1
32 صلاح خواتین 40 1
33 زبان کی حفاظت اور اُس کا طریقہ 40 32
34 فائدہ : 40 32
35 جھوٹ : 40 32
36 غیبت : 41 32
37 غیبت کی عادت : 42 32
38 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 43 1
39 نبوی لیل ونہار 46 1
40 خاص خاص دُعائیں : 46 39
41 صبح کے وقت کی دُعاء : 46 39
42 طلوع ِآفتاب کی دُعاء : 46 39
43 گھر سے نکلنے کی دُعاء : 46 39
44 بازار جانے کی دُعاء : 46 39
45 دُعاء تیز ہوا چلتے وقت کی : 47 39
46 دُعاء بادل گرجتے وقت : 47 39
47 دُعاء بارش برستے وقت : 47 39
48 دُعاء آسمان کی طرف نظر اُٹھاتے وقت : 47 39
49 دُعاء خوف کے وقت : 47 39
50 مشکل کام کے وقت دُعاء : 47 39
51 نظر بَدْ دُور کرنے کی دُعاء : 48 39
52 دُعاء چاند دیکھتے وقت : 48 39
53 دُعاء بُری خبر سنتے وقت : 48 39
54 دُعاء خوشخبری سنتے وقت : 48 39
55 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
56 تین باتیں جن سے موت آسان ہوجاتی ہے : 49 55
57 تین طرح کے آدمیوں پر جنت حرام ہے : 49 55
58 حضور علیہ السلام کو اُمت کے حق میں تین باتوں کا خوف : 51 55
59 رؤیت ِ ہلال اور اہل سرحد 52 1
60 عالم ربانی محدث ِکبیر عظیم المرتبت شخصیت 55 1
61 دینی مسائل 59 1
62 ( نکاح کا بیان ) 59 61
63 ولی کا بیان : 59 61
64 بالغ عورت میں ولی کے مسائل : 59 61
65 وفیات 62 1
66 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter