ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
اكستان |
|
تک اُردو وغیرہ پر مشتمل سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس دوران عالمگیر جنگ ثانی کا انقلاب شروع ہوا، اس ہنگامہ خیز خونی سانحہ میں دو تین سال تعلیمی سلسلہ باضابطہ قائم نہیں رکھ سکے۔ ١٩٤٥ء کو جنگ فرو ہونے کے بعد علاقہ کے ایک مدرسہ میں چھ مہینے کے اندر اندر درجہ ثانیہ یعنی ہدایة النحو و قدوری تک کی کتابیں ختم کی۔ پھر اِس دوران شہر تنگ بازار میں حضرت مولانا مفتی محمد حسین صاحب فاضل مظاہر العلوم سہارنپور نے ایک مدرسہ دار العلوم عربیہ کے نام سے بنیاد رکھی۔ اس میں داخلہ لے کر مسلسل چار سال تک متوسطہ درجہ کی تمام عربی کتابیں پڑھ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ١٩٤٩ء کو ہندوستان کا رختِ سفر باندھا۔ وہاں جاکر اَز ہر عالم اسلام جامعہ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لے لیا۔ پھر وہاں ١٩٤٩ء سے ١٩٥٣ء تک مسلسل پانچ سال مصروف ِتعلیم رہ کر تمام کتب متداولہ تفسیر و حدیث اور جملہ فنون عالیہ وآلیہ کی تکمیل کے بعد دورۂ حدیث کی تعلیم مکمل کی اور ہر ایک امتحان میں اعلیٰ نمبرات سے پاس ہوتے رہے، گویا ١٣٧٣ھ مطابق ١٩٥٣ء کو سند ِفراغت حاصل کی۔ ظاہری علوم سے فراغت کے بعد باطنی ورُوحانی علوم کے حصول کے لیے شیخ العرب والعجم امام ربانی حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ کے دست ِ مبارک پر بیعت کی اور بلاناغہ سفر و حضر میں ساتھ رہ کر مستفید ہوتے رہے۔ صحبت ِشیخ میں رہ کر اِس قدر ریاضت و مشقت کی کہ دو تین مہینے کے اندر اندر حضرت پیر صاحب کو جذب غالب ہوگئے۔ خدا کا شکر ہے کہ اپنے شیخ کی خصوصی توجہ سے پھر اپنی اصلی حالت پر آگئے۔ حضرت پیر صاحب اپنے شیخ حضرت اقدس مدنی کی ذاتی تربیت میں مسلسل چار سال تک رہ کرروز و شب ایک کرکے راہ ِسلوک کے منازل طے کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اِس کے صلہ میں زمین سے آسمان تک پہنچادیا۔ حضرت پیر صاحب نے اپنے شیخ حضرت اقدس مدنی کے بحر بیکراں سمندر میں غوطہ لگایا اور احسان و سلوک کے بلند وبالافضا میں پرواز کی بالآخر ١٩٥٧ء کو چار سال کے اختتام پر سلاسل ِاربعہ میں حضرت اقدس مدنی نور اللہ مرقدہ' نے خلیفۂ مجاز بناکر اس روحانی نعمت عظمیٰ سے سرفراز فرمایا۔ آپ اُن کے کل ١٦٧ خلفاء میں سے ١٦٥ رواں نمبر ہیں۔ بعد ازاں اپنے وطن مالوف تشریف لاکر ایک مدرسہ عربیہ میں دوسال درس و تدریس کا مشغلہ جاری رکھا۔ پھر ١٩٥٩ء کو اپنی معروف بستی مینگزی میں'' ریاض العلوم'' کے نام سے ایک اِدارہ قائم کیا