ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
اكستان |
|
کون سے ہیں جن کی محبت ہم پر لازم ہوئی ہے؟ حضور ۖ نے جواب میں فرمایا وہ رشتہ دار علی اور فاطمہ اور فاطمہ کی اولاد (یعنی حضراتِ حسنین جیساکہ دوسری حدیث میں ہے جو شانِ نزول آیت تطہیر میں وارد ہے)۔ (٤١) اِنَّ اللّٰہَ لَمَّا اَرَادَ اَنْ یُّزَوِّجَ عَلِیًّا فَاطِمَةَ اَمَرَ مَلَکًا اَنْ یَّھُزَّ شَجَرَةَ طُوْبٰی فَھَزَّھَا فَنَثَرَتْ رِقَاقًا یَعْنِیْ وِکَاکًا اِنْ شَائَ اللّٰہُ مَلٰئِکَةً فَالْتَقَطُوْھَا فَاِذَاکَانَتِ الْقِیٰمَةُ ثَارَتْ مَلَائِکَة فِیْ الْخَلْقِ فَلایَرَوْنَ مُحِبًّا لَّنَا اَھْلِ الْبَیْتِ مَحْضًا اِلَّا رَفَعُوْا اِلَیْہِ مِنْہَا کِتَابًا بَرَائَ ةً لَّہ مِنَ النَّارِ (رواہ الخطیب عن بلال مرفوعا وقال رجالہ کلھم مجھولون کذا قال الشوکانی قلت لایضرنا فان الضعاف تعتبر فی فضائل الاعمال فضلا عن فضائل الرجال وھذا الحدیث لیس مقطوعا بضعفہ بل یحتملہ ویحتمل غیرہ فاعتبارہ فی ھذا الموضع اولٰی تدبر) جب حق تعالی نے قصد فرمایا نکاح کرنے حضرت علی کا حضرت فاطمہ سے تو حکم فرمایا ایک فرشتہ کو کہ وہ درخت ِطوبیٰ (طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے) کو ہلاوے پس اُس فرشتے نے اُس درخت کو حرکت دی، سو گرائیں اُس درخت نے چکیں (یعنی نامے اور سندیں) اور پیدا کیا اللہ نے ملائکہ کو تو اُنہوں نے اُن چکوں(سندوں) کو چن لیا اور اُٹھالیا پس جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ فرشتے مخلوق میں پھریںگے تو نہ دیکھیں گے وہ کسی ہم اہل بیت کے دوست خالص کو لیکن اُن چکوں اور سندوں میں سے ایک سند اُس کو دے دیں گے جو جہنم سے براء ت اور نجات کا ذریعہ ہوگی ۔ (٤٢) مَنْ سَرَّہ اَنْ یَّکْتَالَ بِالْمِکْیَالِ الْاَوْفٰی اِذَا صَلّٰی عَلَیْنَا اَھْلِ الْبَیْتِ فَلْیَقُلْ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ وَاَزْوَاجِہ اُمَّھَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَذُرِّیَّتِہ وَاَھْلِ بَیْتِہ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْد مَّجِیْد۔ (رواہ ابوداود ) فرما یا رسول مقبول ۖ نے جسے یہ بات اچھی معلوم ہو کہ پورے پیمانہ سے ناپے