Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006

¾اكستان Ù

38 - 64
براہیم پر دست بستہ قیام کرتاہے تو کبھی میدانِ عرفات میں سربسجود محبوب کی یاد میںاشکبار رہتا ہے ،جمرات کو نہیں نفس کے شیطان کو کنکریاں مارتاہے ،جانوروں کی نہیں حقیقتاً اپنے نفس کی قربانی دیتا ہے ۔
	مومن بندے کی یہی وہ ادائیں ہیں جن کے طفیل اللہ رب العزت رحمت کے خزانے کھول دیتا ہے، بڑے بڑے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اورحاجی اپنے ربِّ کریم کے دربار سے اس طرح لوٹتا ہے جیسے آج ماں کے پیٹ سے بے گناہ پیدا ہوا ہو۔ حدیث شریف میں اس خوش خبری کی صراحت ان الفاظ میںآئی ہے مَنْ حَجَّ فَلَمْ یَرْفَثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمٍ وَّلَدَ تْہُ اُمُّہ ۔ (بخاری شریف ٢/٢٠٦) ''جس نے محض اللہ کے لیے حج کیا پس اُس نے ایسی باتیں نہ کیں جو عورتوں کے ساتھ ہوتی ہیں اورگناہ نہ کیے تو ایسا واپس ہوگا جیسا اُس روز تھا جس دن اُس کی ماںنے اسے جنا تھا''۔
	حج اجتماعی بندگی کی و اضح ترین علامت ہے ۔ حج کے دوران مومن بندہ اپنے خالق سے وحدتِ عمل کا معاہدہ کرتا ہے، وہ اپنے ہر ایک عمل سے خدا وند ِقدوس سے اپنے رابطے کی شہادت پیش کرتا ہے۔ اعمالِ حج کے دوران حاجی موت وحیات کو بہ خوبی سمجھ لیتا ہے وہ چلتی پھرتی آبادی کے اِس سیلاب سے میدانِ محشر ، اہل ِ محشر اور اہلِ محشر کی حالت کا اندازہ کرلیتا ہے کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ سبھی لوگ دوڑ دھوپ میںلگے ہوئے   ہیں تاکہ اپنے فرائض کو ٹھیک طریقے سے سمجھ لیں اور ہر فریضے کو صحیح طریقے سے ادا کریں اور کسی فریضے کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ ہو، ان کا حساب یہیں صاف ہو جائے اور کسی بھی کوتاہی اور جرم کا دَم اُن کے ذمے باقی نہ رہے۔
	میدان ِعرفات کا منظر بھی قابل دید ہوتا ہے ،دُور دُور تک جدھر بھی نگاہ اُٹھا کر دیکھو تمام لوگ ایک ہی جیسے لباس میں متحد الشکل نظر آتے ہیں ، تاحد ِنگاہ انسانوں کا سیلاب اُمنڈتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس منظر کو دیکھنے کے بعد اسلامی تعلیمات کی عظمت،شان و شوکت اوراجتماعی بندگی کا اندازہوتا ہے یہاں کوئی شخص کمانڈروحاکم نہیں اس نظام کی تنظیم کا کوئی ناظم نہیں اور کسی کو محکومیت کا احساس نہیںبلکہ تمام لوگ یکساں ہیں، کسی کو کسی پر کوئی فضیلت وبرتری حاصل نہیں، سب ہی محترم ہیں،سب ہی دُنیوی امتیازات سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں، کسی میں مال ودولت کی ہوس اور سماجی عہدہ ومقام اور دُنیاوی شان وشوکت کے  حصول کی خواہش نہیں ،سب اپنے گناہوں کی معافی کے لیے آئے ہیں، سب غوروفکر میں ڈوبے ہوئے ہیں
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 دُنیا کا سب سے پہلا تفصیلی معاہدہ اور یہودیوں کی بدعہدی : 6 3
5 اقوامِ متحدہ کا مدینہ منورہ پر حملہ اور ناکامی : 6 3
6 سیاسی اور فوجی شکست : 7 3
7 مسلمانوں کی سیاسی فتح : 7 3
8 قدامی جہاد اور یہودیوں کے خلاف کارروائی : 8 3
9 یہودیوں کی شیخیاں : 8 3
10 یہودیوں کے نامزد کردہ ثالث نے اِن ہی کے خلاف فیصلہ دیا : 8 3
11 غزوۂ خندق میں حضرت سعد کا زخمی ہونا پھر دُعا کرنا بعد ازاں شہادت : 9 3
12 یہودیوں کی بکواس کی اصل وجہ : 10 3
13 جنازہ ہلکا ہونے کی وجہ : 10 3
14 دُنیا میں ایمان بالغیب ضروری ہے : 10 3
15 بھاری جنازہ کو اچھا سمجھنے کی ظاہری وجہ : 11 3
16 انبیاء اور فرشتوں کی فراست : 11 3
17 اَلوداعی خطاب 12 1
18 این جی اَوز کے ذریعہ اِرتدادی فتنہ : 12 17
19 علماء اور اہل ِثروت ملکر کام کریں : 15 17
20 نبیوں کا طریقہ : 15 17
21 لوگوں کے جائز دُنیاوی کاموں میں مدد کرنا بھی غلبۂ دین کا سبب ہے : 17 17
22 غور طلب چیز : 19 17
23 طل پر زد مکمل اِسلام سے پڑتی ہے اَدھورے سے نہیں : 20 17
24 کھمبے کیا لگے مصیبت بن گئی : 20 17
25 مذہب ذاتی معاملہ نہیںبلکہ اجتماعی ہے : 21 17
26 پھر سوچیں 21 17
27 تنگ نظری اور تنگ دلی نہیں ہونی چاہیے : 22 17
28 واقعۂ شہادت ذی النورین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 23 1
29 مسئلہ قصاص اور نعرۂ قصاص 23 28
30 صفین کے موقع پر ایک ا ور کوشش 23 28
31 حج : اجتماعی بندگی کی علامت 36 1
32 صلاح خواتین 40 1
33 زبان کی حفاظت اور اُس کا طریقہ 40 32
34 فائدہ : 40 32
35 جھوٹ : 40 32
36 غیبت : 41 32
37 غیبت کی عادت : 42 32
38 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 43 1
39 نبوی لیل ونہار 46 1
40 خاص خاص دُعائیں : 46 39
41 صبح کے وقت کی دُعاء : 46 39
42 طلوع ِآفتاب کی دُعاء : 46 39
43 گھر سے نکلنے کی دُعاء : 46 39
44 بازار جانے کی دُعاء : 46 39
45 دُعاء تیز ہوا چلتے وقت کی : 47 39
46 دُعاء بادل گرجتے وقت : 47 39
47 دُعاء بارش برستے وقت : 47 39
48 دُعاء آسمان کی طرف نظر اُٹھاتے وقت : 47 39
49 دُعاء خوف کے وقت : 47 39
50 مشکل کام کے وقت دُعاء : 47 39
51 نظر بَدْ دُور کرنے کی دُعاء : 48 39
52 دُعاء چاند دیکھتے وقت : 48 39
53 دُعاء بُری خبر سنتے وقت : 48 39
54 دُعاء خوشخبری سنتے وقت : 48 39
55 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
56 تین باتیں جن سے موت آسان ہوجاتی ہے : 49 55
57 تین طرح کے آدمیوں پر جنت حرام ہے : 49 55
58 حضور علیہ السلام کو اُمت کے حق میں تین باتوں کا خوف : 51 55
59 رؤیت ِ ہلال اور اہل سرحد 52 1
60 عالم ربانی محدث ِکبیر عظیم المرتبت شخصیت 55 1
61 دینی مسائل 59 1
62 ( نکاح کا بیان ) 59 61
63 ولی کا بیان : 59 61
64 بالغ عورت میں ولی کے مسائل : 59 61
65 وفیات 62 1
66 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter