ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ وَرَدَ الْمَدَائِنَ فِیْ صُحْبَةِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ لَمَّا سَارَ اِلٰی صِفِّیْنَ ۔ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٩٤) یہ رسول اللہ ۖ کی پرورش میں تھے اور ان کی والدہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں جو رسول اللہ ۖ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین کی طرف چلے تو یہ آپ کے ساتھ مدائن پہنچے۔ ٭ وَائِلُ بْنُ حجْرِ الْکِنْدِیُّ۔ وَکَانَ مَلِکَ قَوْمِہ وَفَدَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا فَقَرَّبَہ وَاَدْنَاہُ وَبَسَطَ رِدَائَ ہ' فَاَجْلَسَہ عَلَیْہِ۔ وَرَدَ الْمَدَائِنَ فِیْ صُحْبَةِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ حِیْنَ خَرَجَ اِلٰی صِفِّیْنَ وَکَانَ عَلٰی رَأْیَةِ حَضَرَمَوْتَ یَوْمَئِذٍ۔ (تاریخ بغداد ج ١ ص ١٩٧) یہ اپنی قوم کے بادشاہ تھے۔ مسلمان ہوکر نبی ۖ کے پاس آئے تو آپ ۖ نے اِن کو اپنے قریب کیا اور اِن کے لیے اپنی چادر بچھائی اور اِن کو اُس پر بٹھایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب صفین کی طرف نکلے تو یہ اِن کی معیت میں مدائن آئے اور اُس وقت یہ حضرموت کے لشکر کے سردار تھے۔ ٭ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ رَافِعِ الْمَدَنِیُّ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ َۖ ٭ اَبُوالطُّفَیْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔وَرَدَ الَمْدَائِنَ فِیْ حَیَاةِ حُذَیْفَةَ بْنِ الْیَمَانِ وَبَعْدَ ذٰلِکَ فِیْ صُحْبَةِ عَلِّی بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ وَعَادَ اِلٰی مَکَّةَ وَاَقَامَ بِھَا حَتّٰی مَاتَ وَھُوَ اٰخِر مَّنْ تُوُفِّیَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ۔ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٩٨) یہ پہلے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی زندگی میں مدائن آئے پھر دوسری مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں آئے۔ اس کے بعد یہ مکہ مکرمہ لوٹ آئے اور اپنی وفات تک وہیں رہتے رہے۔ صحابہ میں سے یہ وہ ہیں جن کی وفات سب کے آخر میں ہوئی۔