Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006

¾اكستان Ù

33 - 64
عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ وَرَدَ الْمَدَائِنَ فِیْ صُحْبَةِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ لَمَّا سَارَ اِلٰی صِفِّیْنَ ۔ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٩٤) 
یہ رسول اللہ  ۖ  کی پرورش میں تھے اور ان کی والدہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں جو رسول اللہ  ۖ  کی زوجہ محترمہ تھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین کی طرف چلے تو یہ آپ کے ساتھ مدائن پہنچے۔ 
٭ وَائِلُ بْنُ حجْرِ الْکِنْدِیُّ۔ وَکَانَ مَلِکَ قَوْمِہ وَفَدَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا فَقَرَّبَہ وَاَدْنَاہُ وَبَسَطَ رِدَائَ ہ' فَاَجْلَسَہ عَلَیْہِ۔ وَرَدَ الْمَدَائِنَ فِیْ صُحْبَةِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ حِیْنَ خَرَجَ اِلٰی صِفِّیْنَ وَکَانَ عَلٰی رَأْیَةِ حَضَرَمَوْتَ یَوْمَئِذٍ۔ (تاریخ بغداد ج ١ ص ١٩٧)
یہ اپنی قوم کے بادشاہ تھے۔ مسلمان ہوکر نبی  ۖ  کے پاس آئے تو آپ  ۖ  نے اِن کو اپنے قریب کیا اور اِن کے لیے اپنی چادر بچھائی اور اِن کو اُس پر بٹھایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب صفین کی طرف نکلے تو یہ اِن کی معیت میں مدائن آئے اور اُس وقت یہ حضرموت کے لشکر کے سردار تھے۔ 
٭ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ رَافِعِ الْمَدَنِیُّ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ  َۖ 
٭ اَبُوالطُّفَیْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔وَرَدَ الَمْدَائِنَ فِیْ حَیَاةِ حُذَیْفَةَ بْنِ الْیَمَانِ وَبَعْدَ ذٰلِکَ فِیْ صُحْبَةِ عَلِّی بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ وَعَادَ اِلٰی مَکَّةَ وَاَقَامَ بِھَا حَتّٰی مَاتَ وَھُوَ اٰخِر مَّنْ تُوُفِّیَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ۔ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٩٨) 
یہ پہلے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی زندگی میں مدائن آئے پھر دوسری مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں آئے۔ اس کے بعد یہ مکہ مکرمہ لوٹ آئے اور اپنی وفات تک وہیں رہتے رہے۔ صحابہ میں سے یہ وہ ہیں جن کی وفات سب کے آخر    میں ہوئی۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 دُنیا کا سب سے پہلا تفصیلی معاہدہ اور یہودیوں کی بدعہدی : 6 3
5 اقوامِ متحدہ کا مدینہ منورہ پر حملہ اور ناکامی : 6 3
6 سیاسی اور فوجی شکست : 7 3
7 مسلمانوں کی سیاسی فتح : 7 3
8 قدامی جہاد اور یہودیوں کے خلاف کارروائی : 8 3
9 یہودیوں کی شیخیاں : 8 3
10 یہودیوں کے نامزد کردہ ثالث نے اِن ہی کے خلاف فیصلہ دیا : 8 3
11 غزوۂ خندق میں حضرت سعد کا زخمی ہونا پھر دُعا کرنا بعد ازاں شہادت : 9 3
12 یہودیوں کی بکواس کی اصل وجہ : 10 3
13 جنازہ ہلکا ہونے کی وجہ : 10 3
14 دُنیا میں ایمان بالغیب ضروری ہے : 10 3
15 بھاری جنازہ کو اچھا سمجھنے کی ظاہری وجہ : 11 3
16 انبیاء اور فرشتوں کی فراست : 11 3
17 اَلوداعی خطاب 12 1
18 این جی اَوز کے ذریعہ اِرتدادی فتنہ : 12 17
19 علماء اور اہل ِثروت ملکر کام کریں : 15 17
20 نبیوں کا طریقہ : 15 17
21 لوگوں کے جائز دُنیاوی کاموں میں مدد کرنا بھی غلبۂ دین کا سبب ہے : 17 17
22 غور طلب چیز : 19 17
23 طل پر زد مکمل اِسلام سے پڑتی ہے اَدھورے سے نہیں : 20 17
24 کھمبے کیا لگے مصیبت بن گئی : 20 17
25 مذہب ذاتی معاملہ نہیںبلکہ اجتماعی ہے : 21 17
26 پھر سوچیں 21 17
27 تنگ نظری اور تنگ دلی نہیں ہونی چاہیے : 22 17
28 واقعۂ شہادت ذی النورین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 23 1
29 مسئلہ قصاص اور نعرۂ قصاص 23 28
30 صفین کے موقع پر ایک ا ور کوشش 23 28
31 حج : اجتماعی بندگی کی علامت 36 1
32 صلاح خواتین 40 1
33 زبان کی حفاظت اور اُس کا طریقہ 40 32
34 فائدہ : 40 32
35 جھوٹ : 40 32
36 غیبت : 41 32
37 غیبت کی عادت : 42 32
38 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 43 1
39 نبوی لیل ونہار 46 1
40 خاص خاص دُعائیں : 46 39
41 صبح کے وقت کی دُعاء : 46 39
42 طلوع ِآفتاب کی دُعاء : 46 39
43 گھر سے نکلنے کی دُعاء : 46 39
44 بازار جانے کی دُعاء : 46 39
45 دُعاء تیز ہوا چلتے وقت کی : 47 39
46 دُعاء بادل گرجتے وقت : 47 39
47 دُعاء بارش برستے وقت : 47 39
48 دُعاء آسمان کی طرف نظر اُٹھاتے وقت : 47 39
49 دُعاء خوف کے وقت : 47 39
50 مشکل کام کے وقت دُعاء : 47 39
51 نظر بَدْ دُور کرنے کی دُعاء : 48 39
52 دُعاء چاند دیکھتے وقت : 48 39
53 دُعاء بُری خبر سنتے وقت : 48 39
54 دُعاء خوشخبری سنتے وقت : 48 39
55 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
56 تین باتیں جن سے موت آسان ہوجاتی ہے : 49 55
57 تین طرح کے آدمیوں پر جنت حرام ہے : 49 55
58 حضور علیہ السلام کو اُمت کے حق میں تین باتوں کا خوف : 51 55
59 رؤیت ِ ہلال اور اہل سرحد 52 1
60 عالم ربانی محدث ِکبیر عظیم المرتبت شخصیت 55 1
61 دینی مسائل 59 1
62 ( نکاح کا بیان ) 59 61
63 ولی کا بیان : 59 61
64 بالغ عورت میں ولی کے مسائل : 59 61
65 وفیات 62 1
66 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter