ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
وَمُنْقَطِعًا اِلَیْہِ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٨٦) اِن کا نام ''یسار'' ہے، اِن کی اَولاد میں کئی لوگ فقہ میں نیک نام اور علم دین میں مشہور ہوئے...........۔ ٭ عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ ۔ قَدِمَ عَدِیّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَاٰہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَزَعَ وِسَادَةً کَانَتْ تَحْتَہ فَاَلْقَاہَا لَہ حَتّٰی جَلَسَ عَلَیْھَا وَسَاَلَہ عَنْ اَشْیَآئَ فَاَجَابَہ عَنْہَا ثُمَّ اَسْلَمَ وَحَسُنَ اِسْلَامُہ وَرَجَعَ اِلٰی بِلَادِ قَوْمِہ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ ثَبَتَ عَدِیّ وَقَوْمُہ عَلَی الْاِسْلَامِ وَجَائَ بِصَدَقَاتِھِمْ اِلٰی اَبِیْ بَکْرِ نِ الصِّدِّیْقِ وَحَضَرَ فَتْحَ الْمَدَائِنِ وَشَھِدَ مَعَ عَلِیٍّ اَلْجَمَلَ وَصِفِیِّنَ وَالنَّھْرَوَانَ۔ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٨٩) مَاتَ سَنَةَ تِسْعٍ وَّ تِسْعِیْنَ وَھُوَ ابْنُ عِشْرِیْنَ وَمِأَةٍ۔ عدی رسول اللہ ۖ کے پاس آئے۔ جب نبی ۖ نے ان کو دیکھا تو آپ نے اپنی گدی جس پر آپ بیٹھے ہوئے تھے نکال کر اِن کے لیے بچھائی اور اِن کو اِس پر بٹھایا۔ پھر اُنہوں نے نبی ۖ سے کچھ باتیں پوچھیں جن کا آپ نے جواب دیا۔ پھر یہ مسلمان ہوئے اور سچے پکے ہوئے پھر اپنے وطن واپس ہوئے۔ جب رسول اللہ ۖ کی وفات ہوئی اور عرب کے بہت سے قبائل مرتد ہوگئے اُس وقت عدی رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم اسلام پر ثابت قدم رہی اور انہوں نے اپنی زکوٰة حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تک پہنچائی۔ مدائن کی فتح میں شریک تھے۔ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں شریک ہوئے۔ انہوں نے ایک سو بیس سال کی عمر میں 99ھ میں وفات پائی۔ ٭ عُمَرُ بْنُ اَبِیْ سَلَمَةَ رَبِیْبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ وَاُمُّہ اُمُّ سَلَمَةَ بِنْتُ اُمَیَّةَ بْنِ الْمُغِیْرَةِ الْمَخْزُوْمِیِّ۔ زَوْجُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ