ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
سکردو بلتستان میں این جی اوز نے شفاء خانے کھولے ہوئے ہیں۔ وہاں یہ ہوتا ہے کہ مریضوں کی لائن لگی ہوئی ہے دوا لینے کے لیے۔ لائن سے سب دوا لے رہے ہیں اُسی لائن میں ایک عورت اُن کی ایجنٹ کھڑی ہوتی ہے، وہ آتی ہے اُس کے پاس جو این جی اوز کی شیطان عورت گھوم رہی ہوتی ہے، نگرانی کررہی ہوتی ہے۔ اُس سے کہتی ہے کہ مجھے فلاں ضروری کام ہے اور مجھے جانا ہے مجھے آپ دوا پہلے دِلوادیں مہربانی فرمادیں۔ وہ کہتی ہے کہ نہیں نہیں ہم مسلمان نہیں ہیں ہم تو اُصول پر چلنے والے لوگ ہیں، لائن میں ہی دوا ملے گی ہم تو مسلمان نہیں ہیں۔ یہ جو لوگ کھڑے ہیں اِن کا حق مارکر تمہیں آگے نہیں کرسکتے ہم مسلمان نہیں ہیں۔ اِس طرح کہہ کر یہ پھسلارہی ہیں۔ یہ بھی کہہ سکتی تھی کہ بھئی ہم اُصول کے پابند ہیں۔ ہمارا اُصول چلتا ہے لہٰذا ہم اُصول کو نہیں توڑسکتے تم یہیں پر رہو لائن میں تمہاری باری آئے گی تو دوا مل سکتی ہے یہ کہہ سکتی تھی یا نہیں کہہ سکتی تھی؟ مگریوں کہہ رہی ہے کہ بھئی ہم مسلمان نہیں ہیں ہم تو اُصول کے پابند ہیں۔ تو ذہن اِس طرح خراب کررہی ہوتی ہیں۔ آپ جو دُور سے آئے ہوئے ہیں اور پڑھ رہے ہیں چھٹیوں کے دنوںمیں بھی۔ آپ خوش قسمت ہیں اِس کا مطلب ہے کہ آپ کو دین کی طلب کا جذبہ اللہ نے اَوروں سے زیادہ دیاہے ، اِس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ بڑائی نہیں کرنی، فخر نہیں کرنا، فخر کیا تو ثواب ختم ہوجائے گا، ساری نیکیاں برباد ہوجائیں گی اُسی وقت۔ بس یہی سمجھ لیں کہ ہم اِس لائق نہیں ہیں صرف اُس کی عنایت ہے۔ اِس لیے آپ کو اُن کے مسائل کا سوچنا ہے۔ کیونکہ آپ چاروں صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ حالات جو میں ذکر کر رہا ہوںآپ نے سنے ہوں گے دیکھے ہوں گے۔ آپ نے وہاں کام کرنا ہے ،اُنھیں بتلانا ہے ،سمجھانا ہے اُن کو ۔اور اُن کے لیے ایسی مدد کی راہیں کھولیے تاکہ وہ اُن سے بے نیاز ہو جائیں یہ ضرورت ہے اِس وقت۔ اُنھیں آپ دین کی دعوت دیں،اُن کے عقیدے کی اصلاح کریں ،نماز روزے کا بتلائیں لیکن ساتھ ساتھ یہ ضرورت پوری کریں گے تو آپ کی بات سنیں گے وہ، ورنہ آپ کی بات نہیں سنیں گے۔ کہیں گے ہم تو بھوکے ہیں اور ہمیں تو فاقہ ہے۔ تم ہم سے کہتے ہو روزہ رکھو، رمضان آگیا ہے تو وہ آپ کا مخالف ہوجائے گا اُسے غصہ آئے گا آپ پر۔ آپ پہلے اُس کی ضرورت پوری کریں جہاں تک ہوسکے۔ آپ غریب ہیں تو آپ وہاں کے متمول لوگوں کو متوجہ کریں ۔ اُنہیں