ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2006 |
اكستان |
|
رکھنے کے لیے منع فرمایا تھا ،اِس روایت کو امام غزالی نے احیاء العلوم میں نقل فرمایا ہے) جہیز آپ کا موافق روایت'' اِزَا لَةُ الْخِفَاء '' مؤلفۂ مولانا شاہ ولی اللہ محدّث قدّس سرہ' یہ تھا: دوچادر یمانی جو سوسی کے طور پر ہوتی ہیں دو نہالی جس میں اَلْسی کی چھال بھری تھی اور چار گدّی اور دو بازو بند چاندی کے اور ایک کملی اور ایک تکیہ اور ایک پیالہ اور ایک چکّی اور ایک مشکیزہ اور گھڑا ،اور بعضی روایتوں میں ایک پلنگ بھی آیا ہے۔ اور روضة الاحباب میں مذکورہ چیزوں کے علاوہ یہ چیزیں اور زیادہ کی ہیں۔ ایک گھڑا (علاوہ مذکور ہ کے) اور ایک چھلنی اور ایک کوزہ۔ مدینہ حضرت رسول مقبول ۖ کا اصلی وطن تو تھا ہی نہیں، آپ اور آپ کے ساتھ مکّہ سے آنے والے لوگ سب مسافر تھے۔ انصار (مدینہ کے جن لوگوں نے بیعت ہوکر رسول مقبول ۖ کو مدینہ میں بُلایا اور آپ کی خدمت و مہمانداری کی تھی اُن کو انصار کہتے ہیں اور جو لوگ وطن چھوڑکر مدینۂ منورہ میں آرہے تھے اُن کو مہاجرین کہتے ہیں) نے جو کچھ مکان دیدیے تھے یا کسی نے خرید لیا تھا اُن ہی میں رہتے تھے رسول اللہ ۖ ابھی تک حضرت ابو ایوبانصاری (یہ مشہور صحابی ہیں پہلے زمانہ کے عالمو ں کی اولاد میں تھے یعنی حضور ۖسے پہلے زمانہ کے عالموں کی نسل میں تھے۔ آنحضرت ۖ مدینہ آکر اول اِن ہی کے مکان میں رہے) کے مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب حضرت فاطمہ کا نکاح ہوا تو حضرت علی نے ایک مکان کرایہ پر لے لیا اور اُس میں رہنے لگے اور حضور ۖ سے عرض کیا کہ اگر آپ حضرت حارثہ (بن نعمان ، ایک صحابی ساکن مدینہ کا نام ہے) سے ہمارے رہنے کے لیے مکان کی سفارش فرمادیں تو بہتر ہو کہ اِن کے مکان میں ہم کو آرام ملے گا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے اُن سے کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہیں یہ خبر حضرت حارثہ کو پہنچی اُنہوں نے حضور سرورِ عالم ۖ سے عرض کیا کہ یا حضرت جن کے لیے (یعنی حضرت فاطمہ و حضرت علی) مکان کی ضرورت ہے وہ مجھ کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں، مکان حاضر ہے۔ آپ ۖنے اُن کی اِس مُروّت اور ہمت پر دُعا فرمائی اور حضرت حارثہ نے اپنا ایک مکان حضرت علی کے لیے خالی کردیا۔ اور روضة الاحباب میں حضرت فاطمہ کا جانابہمراہی حضرت اُم سلیم منقول ہے ممکن ہے کہ حضرت اُم سلیم اور حضرت اُم ایمن دونوں ہمراہی میں گئی ہوں۔ چلتے وقت حضور سرورِ عالم ۖ نے حضرت اُم سلیم سے یہ فرمادیا تھا کہ میری بیٹی کو حضرت علی کے گھر لیجاکر اُن کے سپرد کرو اور کہہ دو کہ میں بھی آتا ہوں۔ پس آپ بعد نماز عشاء تشریف لے گئے اور حضرت فاطمہ سے پانی طلب فرمایا وہ ایک لکڑی کے پیالہ میں پانی لے آئیں، حضور