ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2006 |
¾اكستان Ù |
|
تنبیہ : واضح ہوکہ جناب سیّدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خیر خواہ اور بزرگ اس زمانہ میں کوئی اور نہ تھا جو امر نکاح کو انجام دیتا اِس لیے تمام معاملات آپ نے سالارِ انبیاء ۖ کے سپرد کیے تھے پس درہم مذکورہ میں یہ تصرف ایسا تھا جیسے کہ شوہر کی طرف سے بطور بَرِیْ کچھ چیزیں جایا کرتی ہیں تو گویا کہ یہ ایک تحفہ تھا جو حضرت علی کی طرف سے بھیجا گیا اور یہ صورت سُنّت ہے چنانچہ حضرت مولانا شاہ محمد اسحٰق صاحب نے رسا لۂ مسائل اربعین میں حضور ۖ کا بَری روانہ کرنا جس میں کچھ نقد بھی تھا حضرت زید کے نکاح میں حضرت زینبکے یہاں نقل فرمایا ہے (حضرت زید حضور سرور عالم ۖ کے متبنّٰی صاحبزادہ تھے اب کسی کومتبنّٰی بنانا منع ہے اس طرح کہ وہ متبنّٰی اُس مجازی باپ کی جانب منسوب ہو، جب جائز تھا ۔اور حضرت زینب سے اُن کی شادی کرائی گئی تھی پھر دوسری شادی حضرت زینب کی جناب رسول کریم ۖسے ہوئی) اور بظاہر یہ رقم مَہر میں نہیں دی گئی ،ہاں یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ رسم بَری میں آج کل بعضے اُمور خلافِ شرع ہوتے ہیں پس یہ وہ طریق نہیں رہا جو حضور ۖ نے برتا تھا اِس کی پوری تفصیل اصلاح الرسوم میں مندرج ہے اُس کے موافق عمل کرنا چاہیے ہاں جہاں وہ باتیں موجود نہ ہوں اور کوئی فتنہ نہ ہو تو وہاں اِس طریق کا موافق سنت برتنا بڑا ثواب ہے۔ پھر جہیز تیار ہوگیا جس کا بیان آگے آتا ہے۔ اس کے بعد حضور ۖ نے اپنے خاص خادم و صحابی حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جائو اور ابوبکر و عمر و عثمان و طلحہ و زبیر اور ایک جماعت انصاور کو بُلالائو جب سب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے بہت اچھا خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف اور نکاح کا ذکر تھا، بعد خطبہ کے نکاح فرمادیا اور چار سو مثقال چاندی (جس کے انگریزی سکّہ سے بعضوں کے نزدیک ایک سو پچاس اور بعضوں کے نزدیک ایک سو چھپّن اور بعضوں کے نزدیک ایک سو سینتیس آٹھ آنہ ہوتے ہیں اور اخیر قول کو مولانا شاہ اشرف علی صاحب نے بہشتی زیور میں اختیار کیا ہے) مَہر مقرر فرمایا اور ایک طباق چھوہاروں سے بھرا ہوا لوگوں میں لُٹادیا اور حضرت فاطمہ کو حضرت اُمِ ایمن کے ہمراہ حضرت علی کے گھر بھیج دیا (حضرت اُم ایمن بڑے درجہ کی صحابیہ اور رسول مقبول ۖ کی دایہ ہیں اِن کا حال بہشتی زیور حصۂ آٹھ میں درج ہے اور قابلِ دید ہے۔ امام سیوطی نے جامع صغیر میں اِن کی شان میں ایک معتبر حدیث نقل کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو جنت کی بیوی سے نکاح کرنا چاہے وہ اِن سے نکاح کرے اور توکّل کی اِن کے انذر بڑی قوت تھی اِسی وجہ سے جناب رسول مقبول ۖنے اِن کو مال جمع کرنے اور آج کا کھانا کل باقی