Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2006

اكستان

37 - 64
	ایک وہ جو فی نفسہ حرام ہیں۔ دوسری وہ جو فی نفسہ مباح تھیں مگر فسادِ عقیدہ کے سبب حرام ہوگئیں۔ دونوں کو جدا جدا بیان کیا جاتا ہے۔ 
قسم اول کے منکرات  : 
	(١)  تعزیہ بنانا  :  جس کی وجہ سے طرح طرح کا فسق و شرک صادر ہوتا ہے۔ بعض جہلاء کا اعتقاد ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ اِس میں حضرت امام حسین رونق افروز ہیں اور اِس وجہ سے اُس کے آگے نذر و نیاز رکھتے ہیں جس کا مَا اُہِلَّ بِہ لِغَیْرِ اللّٰہِ  میں داخل ہوکر کھانا حرام ہے۔ اُس کے آگے دست بستہ تعظیم سے کھڑے ہوتے ہیں، اُس کی طرف پشت نہیں کرتے، اُس پر عرضیاں لٹکاتے ہیں، اُس کے دیکھنے کو زیارت کہتے ہیں اور اِس قسم کے واہی تباہی معاملات کرتے ہیں جو صریح شرک ہیں۔ ان معاملات کے اعتبار سے تعزیہ اس آیت کے مضمون میں داخل ہے اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ  یعنی کیا ایسی چیز کو پوجتے ہو جس کو خود تراشتے ہو۔ اور طرف ماجرا یہ ہے کہ یا تو اُس کی بیحد تعظیم و تکریم ہورہی تھی اور یا دفعةً اُس کو جنگل میں لے جاکر توڑ پھوڑ برابر کیا۔ معلوم نہیں آج وہ ایسا بے قدر کیوں ہوگیا، واقعی جو امر خلافِ شرع ہوتا ہے وہ عقل کے بھی خلاف ہوتا ہے۔ بعضے نادان یوں کہتے ہیں کہ صاحب اِس کو حضرت امام عالی مقام کے ساتھ نسبت ہوگئی اور اُن کا نام لگ گیا اس لیے تعظیم کے قابل ہوگیا۔ جواب اِس کا یہ ہے کہ نسبت کی تعظیم ہونے میں کوئی کلام نہیں مگر جبکہ نسبت واقعی ہو مثلاً حضرت امام حسین   کا کوئی لباس ہو یا اور کوئی اُن کا تبرک ہو۔ ہمارے نزدیک بھی وہ قابل تعظیم ہیں اور جو نسبت اپنی طرف سے تراشی ہوئی ہو وہ ہرگز اسبابِ تعظیم سے نہیں ورنہ کل کو کوئی خود امام حسین ہونے کا دعویٰ کرنے لگے تو چاہیے کہ اس کو اور زیادہ تعظیم کرنے لگو، حالانکہ بالیقین اُس کو گستاخ و بے ادب قرار دے کر اُس کی سخت توہین کے درپے ہوجائوگے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نسبت ِکاذبہ سے وہ شے معظم نہیں ہوئی بلکہ اِس کذب کی وجہ سے زیادہ اہانت کے قابل ہوتی ہے۔ اس بنا پر انصاف کرلو کہ تعزیہ تعظیم کے قابل ہے یا اِہانت کے۔ 
	(٢)  معازف و مزامیر کا بجانا  :  جس کی حرمت حدیث میں صاف صاف مذکور ہے اور باب اوّل میں وہ حدیث لکھی گئی ہیں اور قطع نظر خلافِ شرع ہونے کے عقل کے بھی تو خلاف ہے۔ معازف و مزامیر تو سامانِ سرور ہیں، سامانِ غم میں اِس کے کیا معنی؟ یہ تو درپردہ خوشی منانا ہے۔  ع   برچنیں دعوائے اُلفت آفریں 
	(٣)  مجمع فساق و فجار کا جمع ہونا  :  جس میں وہ فحش واقعات ہوتے ہیں کہ ناگفتہ بہ ہیں۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 6 1
4 سوائے ایک کے سب کی بخشش ہوگئی ہے : 7 3
5 منافق کا جواب : 7 3
6 گدھے کی سعادت : 8 3
7 وقت اِس عالَم میں ہے اُس عالَم میں نہیں ہے : 8 3
8 انسان کی چاہت : 9 3
9 دعوت و تبلیغ اور منافق کا متکبرانہ جواب : 9 3
10 نبی علیہ السلام کا حسن اخلاق اور اُس کا اثر : 11 3
11 نجات کے لیے ایمان ضروری ہے : 11 3
12 مروان اور یزید ؟ 12 1
13 مناقب صحابۂ کرام و اہل ِبیت ِاطہار رضی اللہ عنہم 19 1
14 ارشاد ِباری تعالیٰ : 19 13
15 مناقب سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ' 20 13
16 مناقب سیّدةُ النساء فاطمة الزَّہراء رضی اللہ عنہا 20 13
17 مناقب سیّدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما : 21 13
18 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 24 1
19 پہلی فصل ....... اسمائے شریفہ کے بیان میں : 25 18
20 دوسری فصل ....... وِلادت شریف اور نکاح کے بیان میں : 26 18
21 حضرت خیر النسائ کے مبارک نکاح کا بیان : 26 18
22 حضرت خیر النسائ کے مبارک نکاح کا بیان : 26 18
23 تیسری فصل ....... حضرت فا طمہ کی وفات شریف کے بیان میں : 31 18
24 چوتھی فصل … حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد کا بیان : 34 18
25 محرم الحرام کی فضیلت اور منکراتِ مروجہ کی مذمت 35 1
26 تنبیہ : 36 25
27 قسم اول کے منکرات : 37 25
28 قسم دوم کے منکرات : 39 25
29 اولاد کی تعلیم و تربیت 42 1
30 وفیات 46 1
31 نبوی لیل ونہار 48 1
32 عورتوں سے متعلق حضور ۖ کے اِرشادات 51 1
33 گلدستۂ احادیث 54 1
34 تین چیزیں جو اِیمان کی حلاوت پیدا کرنے والی ہیں : 54 33
35 تین قسم کے لوگوں کے لیے دُگنا اجر ہے : 55 33
36 تین باتیں ایمان کی اصل اور جڑ ہیں : 56 33
37 دینی مسائل 57 1
38 ( نفل نماز کے احکام ) 57 37
39 (٧) صلوٰة التسبیح : 57 37
40 (٨) سفر کے نفل : 58 37
41 (٩) اِستخارہ کی نماز : 58 37
42 استخارہ کی حقیقت : 59 37
43 (١٠) نمازِ توبہ : 60 37
44 (١١) نمازِ قتل : 60 37
45 (١٢) نمازِ حاجت : 60 37
46 تنقید وتقریظ 61 1
Flag Counter