ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2006 |
¾اكستان Ù |
|
ُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِیٍّ ۔ قد نقلت ھذہ الروایة لان الامام الشوکانی ذکر مثل ھذہ الروایة عن غیر طریق الروایة المذکورة فی ھذاالکتاب ثم قال انہ موضوع فنقلت کیلا یذھب علیٰ احد ان مقصود الروایة المذکورة موضوع فافھم حق الفھم ) اور آپ نے اُن کی عرض کو قبول کیا۔ اور روضة الاحباب میں ہے کہ نکاح حضرت سیّدة النساء کا دوسرے سال ہجرت کے رجب یا صفر کے مہینے میں ہوا اور عمر شریف اُس وقت آپ کی اٹھارہ سال کی تھی۔ اور مدارج النبوة وغیرہ سے اصلاح الرسوم میں منقول ہے کہ ساڑھے پندرہ سال کی تھی اور حضرت علی کی عمر اکیس سال کی تھی اور روضة الاحباب میں ہے کہ جناب رسول مقبول ۖ نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ علی تمہارا پیغام ِنکاح اپنے لیے دیتے ہیں، آپ خاموش رہیں (شریعت میں یہ خاموشی رضامندی کے حکم میں ہے اور واجب ہے کہ بالغہ لڑکی سے اجازت لی جاوے، بغیر اجازت نکاح نہ ہوگا پھر اگر وہ بالغہ کنواری ہو تو اگر ولی اجازت لے سو اُس کی خاموشی رضامندی کے حکم میں ہے اور اگر اجازت لینے والا غیر ولی ہو تو زبان سے کہنا اجازت سمجھا جاویگا اور خاموشی کافی نہ ہوگی اوراگر وہ بالغہ بیوہ ہے اور اُس کا دوسرا یا تیسرا نکاح ہے تو ہر صورت میں اُس کی زبان سے اجازت دینے سے اجازت معتبر ہوگی ،کسی صورت میں خاموشی معتبر نہ ہوگی) پھر آپ ۖ نے فرمایا کہ اے علی تمہارے پاس کچھ مَہر دینے کو بھی ہے یا نہیں؟ آپ نے عرض کیا کہ کچھ بھی نہیںسوائے ایک زِرَہ اور ایک گھوڑے کے۔ حضور سرورِ عالم ۖنے فرمایا کہ گھوڑے کی توتم کو جہاد کے لیے زیادہ ضرورت رہتی ہے ہاں زرہ فروخت کرڈالو چنانچہ حضرت علی زرہ کو بازار میں بیچنے کے لیے لے گئے اور حضرت سیّدنا عثماننے اُس زرہ کو بعوض ایک سو اسّی درہم کے خریدلیا اور حضرت علی اپنی چادر کے گوشہ میں رقم مذکور باندھ کر حضور ۖ کی خدمت میں لائے۔ حضور ۖ نے فرمایا کہ یہ کس قدر ہیں؟ حضرت علی (بوجہ شرم)خاموش رہے (کہ ایسی مقدّسہ بیوی کا مہر اِس قدر قلیل رقم ہے کیا جواب دوں پس غلبۂ حیا اور بیکسی نے خاموش کردیا ،پس یہ جواب نہ دینا گستاخی اور بے پروائی نہیں، واللہ تعالیٰ اعلم) پھر حضور ۖنے خود مُٹھی مبارک اُس میں سے بھرلی اور مٹھی مبارک میں بائیس درہم سے کچھ زائد آئے اور آپ نے حضرت بلال (یہ موذّن تھے حضور ۖکے اور بڑے درجہ کے عالم اور صحابی ہیں) کو حکم دیا کہ خوشبو درہم مذکورہ میں سے لے آویں اور حضرت اُم سُلَیم رضی اللہ عنہا (آپ حضرت انس کی والدہ ہیں اِن کا کچھ حال بہشتی زیور حصۂ آٹھ میں درج ہے بڑی بزرگ بیوی ہیں) سے فرمایا کہ علاوہ قیمت خوشبو کے جو بائیس درہم باقی رہے تھے اُنکا جہیز تیار کرو۔