Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2005

اكستان

51 - 64
اپنی فاتحہ کا حکم دیا ہے حالانکہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں۔ لہٰذا برادرانِ اہلِ سنت کو اِس رسم سے بہت دور رہنا چاہیے ،نہ خود اس رسم کو بجالائیں اورنہ اس میں شرکت کریں ۔ (فتاوٰی محمودیہ  ج١  ص ٢٢٠تا ٢٢١ )
	ایصالِ ثواب جس کو چاہے، جب چاہے بلاکسی التزامِ تاریخ ومہینہ وغیرہ کے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں  بلکہ بہت بہتر ہے ، لیکن کونڈہ کرنا جیسا کہ رواج ہے بے اصل اوربدعت ہے ۔(ایضاً  ج١  ص١٨٤)
فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی   ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں  :
کونڈوں کی مروج رسم دشمنانِ صحابہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر اظہارِ مسرت کے لیے ایجادکی ہے۔٢٢رجب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات ہے (طبری۔ استیعاب)٢٢رجب کو حضرت جعفرصادق سے کوئی تعلق نہیں نہ اِس میں اُن کی ولادت ہوئی نہ وفات ۔حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی ولادت ٨رمضان ٨٠ھ یا ٨٣ ھ کی ہے اوروفات شوال ١٤٨ھ میں ہوئی ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس رسم کو محض پردہ پوشی کے لیے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف سے منسوب کیا جاتا ہے ورنہ درحقیقت یہ تقریب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی میں منائی جاتی ہے جس وقت یہ رسم ایجاد ہوئی شیعہ مسلمانوں سے مغلوب وخائف تھے، اس لیے یہ اہتمام کیا گیا کہ شیرینی اعلانیہ تقسیم نہ کی جائے تا کہ راز فاش نہ ہوبلکہ دشمنان ِ حضرت معاویہ خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے کے ہاں جاکر اُسی جگہ یہ شیرینی کھالیں جہاں اُس کو رکھا گیا ہے اور اِس طرح اپنی خوشی ومسرت ایک دوسرے پر ظاہر کریں ۔جب اِس کا چرچا ہواتو اس کو حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے یہ تہمت ان پر لگائی کہ انہوں نے خود اس تاریخ کو اپنی فاتحہ کا حکم دیا ہے ،حالانکہ یہ سب من گھڑت ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ہرگز ایسی رسم نہ کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی حقیقت سے آگاہ کرکے اس سے بچانے کی کوشش کریں ۔ (احسن الفتاوٰی ج١  ص٣٦٨)

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 حسبہ بل کی چند شقیں 3 2
4 درس حدیث 8 1
5 کسی کے بارے میں دعوٰی نہیں کیا جاسکتا : 9 4
6 ''حقیر '' و '' غیر حقیر '' کا پتہ مرنے کے بعد چلے گا : 10 4
7 کچھ نا کہنا ،یہ بھی جائز نہیں ہے : 10 4
8 '' قرآن وسنت اور تواتر وتعامل '' 11 1
9 قرآن پاک کی آیت میراث : 16 8
10 (٢) قرآن کریم میں ارشاد ہے : 16 8
11 (٣) حق تعالیٰ کاارشاد ہے : 16 8
12 شخصیت وخدمات حضرت مولانا سید حامد میاں 21 1
13 ایک اہم اصول : 22 12
14 خاتمہ کا اعتبارہوتا ہے : 22 12
15 حضرت نے اپنی تعریف میں نظم رُکوادی : 23 12
16 ایک مجلس کا واقعہ : 23 12
17 حضرت کا باطنی مقام اور حضرت شیخ الاسلام کی شہادت : 24 12
18 سب سے کم عمری میں خلافت عطا ہوئی : 24 12
19 امام الاولیاء حضرت لاہوری کا حضرت کے بارے میں ارشاد 28 12
20 روضۂ رسول ۖسے جواب اور عالم کشف میں بشارت : 29 12
21 ہندوستان سے افغانستان کے لیے روانگی : 29 12
22 غیبی اشارہ اورلاہور میں نزول : 30 12
23 مثالی درس گاہ ..... افراد کی تیاری ..... پُر امن انقلاب : 30 12
24 رائیونڈ روڈ پر درسگاہ اورخانقاہ : 30 12
25 حضرت کا توکل علی اللہ : 31 12
26 حضرت کا اتباع سنت اورتواضع : 32 12
27 بخاری شریف اور انوارات : 33 12
28 مرید ین کی اصلاح وتربیت : 33 12
29 ہر شب شب ِقدر ہے : 34 12
30 اجلاس جمعیت .. ...... گناہ کے کام پر استغفار : 34 12
31 ہدیہ میں احتیاط : 35 12
32 حقوق میں کوتاہی پر مرید کی سرزنش : 35 12
33 واشنگ ویئر اورکے ٹی کا کپڑا ناپسند فرماتے تھے : 36 12
34 طلباء اور سیاست : 36 12
35 ایک مدرس کو تنبیہ : 37 12
36 3سیاسی موقف میں پختگی اورقرآن سے دلیل : 37 12
37 ماہِ رجب کے فضائل واحکام 40 1
38 ماہِ رجب عظمت وفضیلت والا مہینہ : 40 37
39 رجب کی پہلی رات کی فضیلت : 42 37
40 ماہِ رجب میں روزے : 44 37
41 رجب کے روزوں سے متعلق ایک اہم علمی تحقیق : 47 37
42 ٢٢ رجب کے کونڈے : 49 37
43 کونڈوں کی رسم کی شرعی حیثیت : 49 37
44 ٢٧ رجب کے منکرات اوررسمیں : 53 37
45 ٢٧رجب اورشب ِمعراج : 54 37
46 طلاق ایک ناخوشگوار ضرورت اوراُس کا شرعی طریقہ 58 1
47 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فیصلے وفتاوٰی : 58 46
48 گلدستہ احادیث 62 1
Flag Counter