ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
کہ مولوی فلاں کا گھر کہاں ہے کتنا دور ہے؟ تو مولانا فرماتے ہیں کہ وہ یہ سن کر ناراض ہو گئے ۔ناراض کیوں ہوگئے کہ تم ہمارے حضرت کو مولوی کہتے ہو بہت ناراض ہوئے کہ یہ تو بہت بڑے حضرت ہیں تم گستاخی کررہے ہوان کی شان میں، تو ہمیں بڑی پریشانی ہوئی کہ وہ کہاں سے اتنا بڑا حضرت بن گیا اتنا بڑا عالم بن گیا کہ ہمارے صرف مولوی کہنے پر یہ لوگ اتنا غصے ہو گئے۔ غرضیکہ دوتین جگہ سے ہم نے پوچھا تو لوگ ناراض ہوگئے اورناراضگی کی وجہ یہی تھی کہ ہم ادب نہیں کررہے تھے توبہر حال وہاں پہنچ گئے بہت حیران ہوئے کہ وہ تو بہت غبی تھا مگر خدمتگار تھا تو ہم نے اُس سے کہا کہ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہاں آتے ہوئے کئی جگہ ہم نے پوچھا تو لوگوں نے ہم کو ڈانٹا اور کہا کہ ہمارے حضرت کا ادب نہیں کرتے اورعام مولویوں کی طرح کہہ رہے تو یہ کیوں ایسا ہوا اِس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس نے کہا حضرت میں توجوکچھ ہوں آپ کو معلوم ہے۔قصہ یہ ہوا کہ میں جب دیوبند سے آیا اوریہاں پہنچا تو ہمارے علاقے میں یہاں پربریلویوں کا بڑا زورتھا اس زور کی وجہ سے لوگوں نے میرے آنے سے پہلے ہی طے کردیا تھا کہ ہمارا عالِم آرہاہے اوراُس کا مناظرہ ہوگا تمہارے عالِم کے ساتھ۔ انہوں نے جب مناظرے کی خبر سنائی تو میرے پائوں تلے سے زمین نکل گئی کہ میری وجہ سے دیوبند بدنام ہوگا اس لیے کہ مجھے تو کچھ آتا نہیں، کیوں نام دیا مناظرے کے لیے۔ کہتے ہیں کہ میں نے منع کیا بہت منع کیا ،کہا یہ تو ہو ہی نہیں سکتا آپ آگئے ہیں دیوبند سے پڑھ کر آئے ہیں، ان لوگوں نے ہمارا ناطقہ بند کررکھا ہے اب تو مناظرہ ضرور ہوگا۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ وہ آگئے اورمناظرے کا انتظام ہوا، ایک طرف ہم بیٹھ گئے اور دوسری طرف وہ لوگ بیٹھ گئے ۔پہلے اُن کے مناظر نے کھڑے ہو کر دیوبندی مسلک پر اعتراضات کیے اب، ان کے اعتراضات کا جواب مجھے دینا تھا تو وہ کہتا ہے کہ جب میں کھڑا ہوا، کھڑاتو ہونا تھا تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ مولاناقاسم نانوتوی رحمہ اللہ ٢ میری دائیں جانب آکرکھڑے ہوگئے اوراُن کے ایک ایک اعتراض کا جواب انہوںنے مجھے بتایا اور میں نے وہ جواب دئیے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہی مرحلہ میں اُن کا مناظربھاگ گیا ۔یہ واقعہ جب پیش آیا تواس کے بعد سے لوگوں کا میرے لیے عقیدت کا احترام کا ایسا سلسلہ شروع ہو اکہ بریلوی مسلک کے لوگ بھی مرعوب ہوکر خاموش ہو گئے اور انہوں نے اپنی سرگرمیاں ختم کردیں۔ ٢ حجة الاسلام مولانا قاسم نانوتوی کانام زبان پر لاتے ہی مولانا رونے لگے ۔