ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
اكستان |
|
مسئلہ : کوئی شخص جب بھی اپنے وطن ِاصلی میں آئے مقیم شمارہوگا اگرچہ ایک ہی نماز کے وقت تک ٹھہرے ،مثلاً لاہور کا باشندہ ملتان گیا، ملتان سے اُس کا ارادہ براستہ لاہور راولپنڈی جانے کا ہوا۔ لاہورمیں اُس نے بس کے اڈے پر یا اسٹیشن پر یا ہوائی اڈے پر ظہر کی نماز پڑھی تو وہ پوری پڑھے گا۔ (٢) وطن ِاقامت : یہ وہ شہر یا بستی ہے جہاں مسافر پندرہ دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے۔ مسئلہ : ایک وطن ِاقامت کو چھوڑ کر کسی اورجگہ کو وطن ِاقامت بنا لیا یعنی وہاں پندرہ دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرلی تو پہلا وطن ِاقامت ختم ہوگیا خواہ اِن دو جگہوں کے درمیان مسافت سفر ہو یا نہ ہو۔ اب جب دوبارہ پہلی جگہ شرعی مسافر ہو کر آئے گا تو قصر نماز پڑھے گا۔ مسئلہ : وطن ِاقامت کو مستقل چھوڑ کر اپنے شہر وطن اصلی میں آ جائے تو وطن ِاقامت باطل ہو جاتاہے۔ مسئلہ : اگروطن ِاقامت میں مرد کا قیام مع اہل وعیال کے ہے پھر صرف مرد کو سفر کی ضرورت پیش آگئی تو اُس کے 48میل یا زائد سفر سے اُس کا وطن ِاقامت باطل نہیں ہوگا۔ مسئلہ : اگر کوئی شخص وطن ِاقامت میں اپنی رہائش کے لیے کمرہ یا مکان لے لے جس میں وہ اپنا سامان رکھے پھر کبھی سامان وغیرہ کو تالا لگا کر سفر شرعی پر نکل جائے خواہ اپنے وطن اصلی چلا جائے یا کسی اورشہر میں چلا جائے لیکن اُس کی نیت اپنے اس وطن ِاقامت میں واپس آنے کی ہے مثلاً کوئی ملتان کا رہنے والا لاہور آکر ملازمت کرے اور لاہور میں ایک مرتبہ واقعی پندرہ دن یا زائد رہنے کی نیت کرے تو لاہور اُس کا وطن ِاقامت بن گیا ۔ اُس نے لاہور میں ایک کمرہ رہائش کے لیے کرایہ پر لیایااُس کو وہ ادارے کی طرف سے مل گیاوہاں اُس نے اپنا سامان رکھا اور رہنے لگا۔ اب وہ ہفتہ دس دن بعد یا زیادہ مدت بعد کمرے کو تالا لگا کر اپنے شہر ملتان جائے یا کسی کام سے کسی دوسرے شہر مثلاً راولپنڈی جائے تو اِس سفر سے یا وطن ِاصلی جانے سے اس کا وطن ِاقامت باطل نہیں ہوگا۔ واپس آکر پوری نماز پڑھے گا خواہ لاہور واپس پہنچنے کے بعد اُس کا پندرہ دن سے پہلے دوسرے سفر کا پروگرام ہو۔ مسئلہ : اگر کوئی جگہ مرد کے لیے وطن ِاقامت نہ ہو بلکہ صرف بیوی کا وطن ِاقامت ہو کہ وہ اپنی ضرورت سے مثلاً بیس دن کو گئی وہاں مرد مسافر ہو کر جائے گا تو بیوی کے قیام سے مقیم نہ ہو گا۔