ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
بادشاہ دوسروں کے خون پر پلتے تھے ،اور بستیاں اُجاڑ کر بستے تھے ،اُن کے کتے موج کرتے اور انسان دانے دانے کو ترستے ، زندگی کا معیار اتنابلند ہوگیا تھا کہ جینا دوبھر تھا ، جواس معیار پر پورا نہ اُترے وہ جانور سمجھا جاتا تھا ، نئے نئے ٹیکسوں سے کسانوں اوردستکاروں کی کمر جھکی اورٹوٹی جاتی تھی ،لڑائی اوربات کی بات میں ملکوں کی صفائی اورقوموں کی تباہی اُن کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، سب زندگی کی فکروں میں گرفتار اورظلم وزیادتی سے زارونزار تھے ،پورے پورے ملک میں ایک اللہ کا بندہ ایسانہ تھا جس کو اپنے پیدا کرنے والے کی رضا مندی کی فکر ہو یا راستے کی سچی تلاش ہو۔ غرض یہ نام کی زندگی تھی مگر حقیقت میں ایک وسیع اورطویل خود کشی ۔دُنیا کی اصلاح انسانوں کے بس سے باہر تھی ،پانی سرسے اُونچا ہو گیا تھا ، معاملہ ایک ملک کی آزادی اورایک قوم کی ترقی کا نہ تھا انسانیت کا بدن داغ داغ تھا، دامن تارتار ،اصلاح کے لیے جو لوگ آگے بڑھے وہ یہ کہہ کر پیچھے ہٹ گئے ع تیرے دل میں تو بہت کام رفوکا نکلا فلسفی اورحکیم ،شاعر اورادیب ، کوئی اس میدان کا مرد نہ نکلا ، سب اس وباء کے شکار تھے ، مریض مریض کا علاج کس طرح کرے؟ جو خود یقین سے خالی ہو، وہ دوسروں کو کس طرح یقین سے بھرے؟ جو خود پیا سا ہو، دوسروں کی پیاس کس طرح بجھائے ؟ انسانیت کی قسمت پر بھاری قفل پڑا تھا اورکنجی گم تھی ، زندگی کی ڈور اُلجھ گئی تھی اورسرا نہ ملتا تھا ۔ اس دنیا کے مالک کو اپنے گھر کا یہ نقشہ پسند نہ تھا ۔ آخر کاراُس نے عرب کی آزاد اورسادہ قوم میں جو فطرت سے قریب تھی ، ایک پیغمبر بھیجا کہ پیغمبر کے سوا اَب اس بگڑی دنیا کو کوئی بنا نہیں سکتا تھا۔ اس پیغمبر کا نام نامی ''محمد بن عبداللہ ''ہے۔ اللہ کے لاکھوں سلام ودُرود ہوں اُن پر زباں پہ بارِخدایا یہ کس کا نام آیا کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے اس کی زندگی کی ہر چیز سلامت مگر بے جگہ و بے قرینہ ، زندگی کا پہیہ گھوم رہا تھامگر غلط رُخ پر ، اصل خرابی یہ تھی کہ زندگی کی چول کھسک گئی تھی اورساری خرابی اسی کی تھی ۔ یہ چول کیا تھی؟اپنے اوراس دنیا کے بنانے والے کا صحیح علم ، اسی کی بندگی اورتابعداری کا فیصلہ، اُس کے پیغمبروں کو ماننا اور ان کی ہدایت و تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنا اور دوسری زندگی کا یقین۔انہوں نے زندگی کی چول بٹھادی ، مگر اپنی زندگی اور اپنے خاندان کی زندگی کو خطرے میں ڈال کر، اوراپنا سب کچھ قربان کرکے انہوں نے اس مقصد کی خاطر بادشاہی کا تاج ٹھکرادیا، دولت اورعیش کی