ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
٭ ہر وقت اللہ کی خوشی کی تلاش رہتی اورہر حالت میں دل اورزبان سے اللہ کی یاد جاری رہتی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی محفلوں میں یا بیویوں کے حجروں میں ہوتے اوریکایک اذان کی آواز آتی، آپ ۖ اُ ٹھ کھڑے ہوتے ۔ رات کا بڑاحصہ خدا کی یاد میں بسر ہوتا کبھی پوری پوری رات نماز میں کھڑے رہتے اوربڑی بڑی سورتیں پڑھتے ۔ آپ ۖ اللہ تعالیٰ کے بڑے پیارے پیغمبر تھے ،پھر بھی فرمایا کرتے کہ مجھ کو کچھ نہیں معلوم کہ میرے اُوپر کیا گزرے گی؟ (''رحمت ِعالم ۖ '' ملخصاً، مصنفہ : علامہ سیّد سلیمان ندوی رحمہ اللہ )
حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے آپ ۖ کی سیرت پراس طرح روشنی ڈالی ہے :
یوں تو اِس دنیا کی عمر بہت بتائی جاتی ہے مگر یہ دنیا کئی بار سوسو کر جاگی ہے اورمرمر کر زندہ ہوئی ہے، آخری بار جب یہ موت کی نیند سے بیدار ہوئی اوراس نے عقل وہوش کی آنکھیں کھولیں ،وہ ،وہ دن تھا جب مکہ کے سردار عبدالمطلب کے گھر پوتا پیدا ہوا ، وہ پیدا ہوا تو یتیم تھا مگر اُس نے پوری انسانیت کی سرپرستی کی اوردنیا کو نئی زندگی بخشی ،سوتے میں جو عمر کٹی وہ کیا عمر ہے؟ خودکُشی(اپنے کو مٹانے میں) میں جو وقت گزرا وہ کیا زندگی ہے؟ اس لیے سچ پوچھئے تو موجود ہ دنیا کی کام کی عمرچودہ سو برس سے زائد نہیں،چھٹی صدی مسیحی میں انسانیت کی گاڑی ایک ڈھلوان راستے پر پڑ گئی تھی، اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا، راستے کا نشیب بڑھتا جا رہا تھا او ررفتار تیز ہوتی جارہی تھی اس گاڑی پر انسانیت کا پوراقافلہ اورآدم کا سارا کنبہ سوار تھا ۔ہزاروں برس کی تہذیبیں اورلاکھوں انسانوں کی محنتیںہیں۔گاڑی کے سوار میٹھی نیند سورہے تھے یا زیادہ اوراچھی جگہ حاصل کرنے کے لیے آپس میں دست وگریبان تھے ۔کچھ تنک مزاج تھے، جب ساتھیوں سے رُوٹھتے تو ایک طرف سے دوسری طرف منہ پھیر کر بیٹھ جاتے ،کچھ ایسے جو اپنے جیسے لوگوں پر حکم چلاتے ، کچھ کھانے پکانے میں مشغول تھے ، کچھ گانے بجانے میں مصروف ، مگر کوئی یہ نہ دیکھتا کہ گاڑی کس غار کی طرف جارہی ہے اوراب وہ کتنا قریب رہ گیا ہے ۔انسانیت کا جسم تروتازہ تھا، مگر دل نڈھال ، دماغ تھکا ہوا ، ضمیر بے حس ومردہ ، نبضیں ڈوب رہی تھیں اورآنکھیں پتھرانے والی تھیں ، ایمان ویقین کی دولت سے عرصہ ہوا یہ انسانیت محروم ہو چکی تھی ، پورے پورے ملک میں ڈھونڈنے سے ایک صاحبِ یقین نہ ملتا ۔ توہمات کا ساری دنیا پر قبضہ تھا۔ انسانیت نے اپنے کو خود ذلیل کیا تھا ، انسان نے اپنے غلاموں اورچاکروں کے سامنے سرجھکایا تھا ،ایک خدا کے سوا سب کے سامنے اُس کو جھکنا منظور تھا۔ حرام اُس کے منہ کو لگ گیا تھا۔
شراب اُس کی گھٹی میں گویا پڑی تھی جو ااُس کی دن رات کی دل لگی تھی