ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
بڑی سے بڑی پیشکش کو نامنظور کیا، محبوب وطن کو چھوڑ ا، ساری عمر بے آرام رہے، پیٹ پرپتھر باندھے ، کبھی پیٹ بھر کر نہ کھایا ،گھر والوں کو فقروفاقہ میں شریک رکھا ،دُنیا کی ہر قربانی میں ہر خطرے میں پیش پیش ، اور ہر فائدہ اور ہر لذت سے دوردور، لیکن دنیا سے اُس وقت تک تشریف نہ لے گئے جب تک کہ دنیا کوصحیح رُخ پر نہ ڈال دیا اورتاریخ کا دھارانہ بدل دیا۔
تئیس برس میں دُنیا کا رخ پلٹ گیا ،دنیا کا ضمیر جاگ گیا ، نیکی کا رُجحان پیداہوگیا ، اچھے برے کی تمیز ہونے لگی ، خدا کی بندگی کا راستہ کھل گیا، انسان کو انسان کے سامنے اوراپنے خادموں کے سامنے جھکنے میں شرم محسوس ہونے لگی ، اُونیچ نیچ دُور ہوئی ،قومی ونسلی غرور ٹوٹا، عورتوں کو حقوق ملے، کمزوروں وبے بسوں کی ڈھارس بندھی۔ غرض دیکھتے دیکھتے دُنیا بدل گئی ، جہاں پورے پورے ملک میں ایک خدا سے ڈرنے والا نظر نہ آتا وہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے انسان پیدا ہوگئے جو اندھیرے اُجالے میں خدا سے ڈرنے والے تھے ، جو یقین کی دولت سے مالا مال تھے ،جو دشمن کے ساتھ انصاف کرتے تھے ، جو حق کے معاملے میں اپنی اولاد کی پروا نہ کرتے ، جو اپنے خلاف گواہی دینے کو تیار رہتے ، جو دوسروں کے آرام کی خاطر مصیبت برداشت کرتے ، جو کمزوروں کو طاقتور پر ترجیح دیتے ، رات کے عبادت گزار ، دن کے شہسوار ، دولت ، حکومت ، طاقت ، خواہشات سب پر حاکم ، سب پرغالب ، صرف ایک اللہ کے محکوم ، صرف ایک اللہ کے غلام ، انہوں نے اس دنیا کو علم ، یقین ، امن ، تہذیب ، رُوحانیت اور خدا کے ذکر سے بھردیا۔ زمانے کی رُت بدل گئی، انسان کیا بدلا جہان بدل گیا ،زمین وآسمان بدل گیا، یہ سارا انقلاب اسی پیغمبر کی کوشش اور تعلیم کا نتیجہ ہے۔ آدم کی اولاد پر آدم کے کسی فرزند کا احسان نہیں جیسا محمد رسول اللہ ۖ کا دنیا کے انسانوں پرہے۔ اگر اس دنیا سے وہ سب لے لیا جائے جو محمد رسول اللہ ۖ نے اس کو عطا کیا ہے تو انسانی تہذہب ہزاروں برس پیچھے چلی جائے گی اوراس کو اپنی زندگی کی عزیز ترین چیزوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ رسول اللہ ۖ کی پیدائش کادن مبارک کیوں نہ ہو کہ اس دنیا کا سب سے مبارک انسان پیداہوا جس نے اس دنیا کو نیا ایمان اور نئی زندگی عطا کی
بہار اَب جو دنیا میں آئی ہوئی ہے وہ سب پود ا ِنہی کی لگائی ہوئی ہے
( کاروانِ مدینہ : مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ)