ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
بسر ہوتی تھیں ۔ ٭ حضور ۖ کے گھروں میں اکثر فاقہ رہتا تھا اور کئی کئی دن تک رات کو کھانا نہیں ملتا تھا۔دو دو مہینوں تک لگا تار گھروں میں چولہا جلنے کی نوبت نہیں آتی تھی ، چند کھجوروں پر گزارا ہوتا تھا ۔ ٭ آپ ۖ کبھی کسی کا احسان لینا گوارہ نہ فرماتے ۔ ٭ آپ ۖ لین دین کے معاملات میں بہت صاف تھے ۔ ٭ جو وعدہ فرماتے اس کو پورا کرتے، کبھی بدعہدی نہیں فرمائی ۔ ٭ سچائی آپ ۖ کی ایک ایسی صفت تھی کہ دشمن بھی اِس کو مانتے تھے ، ابوجہل کہا کرتا تھا کہ محمد (ۖ) میں تم کو جھوٹا نہیں کہتا۔ ٭ آپ ۖ شرمیلے بہت تھے ،کبھی کسی کے ساتھ بد زبانی نہیں کی ۔ ٭ آپ ۖ کی طبیعت میں بہت استقلال تھا جس چیز کا پکاارادہ ہو جاتا پھر اُس کو پورا ہی فرماتے ٭ آپ ۖ کی بہادری بے مثال تھی۔ ٭ مزاجِ مبارک میں سادگی بہت تھی ۔ کھانے پینے، پہننے اَوڑھنے ، اُٹھنے بیٹھنے کسی چیز میں تکلف پسند نہ تھا، جو سامنے آجاتا وہ کھا لیتے ، پہننے کے لیے موٹا جھوٹا جو مل جاتا اُ س کو پہن لیتے۔ زمین پر، چٹائی پر، فرش پر جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے ۔ اللہ کی نعمتوںسے جائز طورپرفائدہ اُٹھانے کی اجازت آپ ۖ نے ضرور دی لیکن تن پروری اورعیش کو نہ اپنے لیے پسند فرمایا نہ عام مسلمانوں کے لیے۔ ٭ دُنیا سے بے رغبتی کے باوجود آپ ۖ کو خشک مزاجی اورروکھا پن پسند نہ تھا۔ ٭ کبھی کبھی دلچسپی کی باتیں فرماتے ۔ ٭ آپ ۖ کی احتیاط کا یہ عالم تھاکہ کسی کے گھر جاتے تو د روازے کے دائیں یا بائیں کھڑے ہوجاتے اوراُس سے اجازت مانگتے ،سامنے اس لیے نہ کھڑے ہوتے کہ نظر گھر کے اندر نہ پڑے۔ ٭ صفائی کا خاص خیال رہتا ۔ ٭ گفتگو ٹھہر ٹھہر کر فرماتے تھے ۔ ایک ایک فقرہ الگ ہوتا ۔ کسی کی بات کا ٹ کر گفتگو نہ فرماتے، جو بات ناپسند ہوتی اُ س کو ٹال دیتے ،زیادہ دیر چپ رہتے، بے ضرورت گفتگو نہ فرماتے ۔ ہنسی آتی تو مسکرا دیتے ۔