ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
کوئی قید نہ تھی ۔ گنہگاروں کو معاف کردیتے ۔ دُشمنوں کے حق میں دُعائے خیر فرماتے ۔ جانی دُشمنوں اورقاتلانہ حملہ کرنے والوں تک سے بدلہ نہیں لیا۔ ٭ ہمسایوں کی خبر گیری فرماتے اُن کے ہاں تحفے بھیجتے، اُن کا حق پورا کرنے کی تاکید فرماتے رہتے ۔ ٭ آپ ۖ اپنے پڑوسیوں کے گھر جا کر اُن کے کام کرآتے ، پڑوسیوں کے سوا اور جو بھی آپ سے کسی کام کیلیے کہتااُس کو پورا فرماتے ۔ مدینہ کی لونڈیاں آپ ۖ کی خدمت میں آتیں اور کہتیں یا رسول اللہ میرا یہ کام ہے، آپ ۖ فوراً اُٹھ کھڑے ہوتے اوراُن کاکام کردیتے۔بیوہ ہو یا مسکین یا کوئی اور ضرورتمند سب ہی کی ضرورتوں کوآپ ۖ پورا فرماتے اوردوسروں کے کام کرنے میں کبھی عار محسوس نہ فرماتے۔ ٭ بچوں سے بڑی محبت فرماتے تھے، اُن کو چومتے اورپیار کرتے تھے ، فصل کا نیا میوہ سب سے کم عمر بچہ جو اُس وقت موجود ہوتا اُس کو دیتے ، راستے میں بچے مل جاتے تو خود اُن کو سلام فرماتے ۔ ٭ اسلام سے پہلے عورتیں ہمیشہ ذلیل ہو رہی تھیںلیکن ہمارے حضور ۖ نے اُن پر بہت احسان فرمایا۔ اُن کے حقوق مقرر فرمائے اوراپنے برتائو سے ظاہر فرمادیا کہ یہ طبقہ حقیر نہیں ہے بلکہ عزت اورہمدردی کے لائق ہے۔ آپ ۖ کے پاس ہر وقت مردوں کا مجمع رہتا تھا ، عورتوں کو آپ کی باتیں سننے کا موقع نہ ملتا تھا اسلیے خود عورتوں کی درخواست پرآپ ۖ نے اُن کیلیے ایک خاص دن مقررفرمادیا تھا ،عورتیں دلیری اوربے تکلفی سے آپ ۖ سے مسائل پوچھتیں لیکن آپ ۖ بُرا نہ مانتے ، ان کی خاطر داری کا خیال رکھتے تھے ۔ ٭ آپ ۖ ساری دُنیا کے لیے رحمت بن کر آئے تھے ، اس لیے کسی کے ساتھ بھی زیادتی اورناانصافی کو پسند نہ فرماتے تھے یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ جو لوگ بے پروائی برتتے تھے وہ بھی آپ ۖ کو گوارانہ تھی ،اوراُن بے زبانوں پر جوظلم ہوتا آیا تھا اُس کو روک دیا ۔ ٭ آپ ۖ کی نظر میںامیر وغریب سب برابر تھے ۔ ٭ لڑائی کے اکثرمعرکوں میں آپ ۖ وہاں ہوتے تھے جہاں بڑے بڑے بہادر کھڑے ہونا اپنی شجاعت کا آخری کارنامہ سمجھتے تھے ۔ ٭ ازواجِ مطہرات اوراہلِ بیت کرام رضی اللہ عنہم کے گھروں میں جو کچھ آتا وہ دوسرے ضرورت مندوں اورمحتاجوں کی نذرہو جاتا تھا اورخود آپ ۖ کی آپ کے اہل ِبیت کی زندگیاں اِسی تنگی اورغربت سے