ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
اسلام نے احسان فرمایا کہ ہرسفاکی کا خاتمہ کردیا۔ ایک صحابی نے ایک مرتبہ آقائے نامدار ۖ کو واقعہ سنایا کہ میری ایک بچی تھی جو میری غیر موجودگی میں پیدا ہوئی ،میں جب سفرسے واپس آیا تو معلوم ہوا کہ بچہ ہوا تھا اورمرگیا، کچھ مدت بعد ہمارے یہاں ایک بچی آنے لگی جو اِسے بہت مانوس ہو گئی اورمیں اُس سے مانوس ہوگیا۔ خود بخود مجھے محبت کا جوش آتاتھا۔ایک دن میری بیوی نے اتنی محبت دیکھتے ہوئے مجھ سے حقیقت ِ حال ظاہر کی کہ جب میں سفرپر تھا تو یہ بچی پیدا ہوئی تھی اوراس خیال سے کہ کہیں میں زندہ درگور نہ کردوں کسی کے یہاں پرورش کے لیے دیدی تھی۔ مجھے یہ حقیقت معلوم ہونے کے بعدفکر لگ گیا کہ کسی نہ کسی طرح اِسے زندہ درگورکرنا چاہیے ۔چنانچہ ایک دن اس کی ماں مجھ پر اعتماد کرکے اسے میرے پاس چھوڑ گئی میں اسے باہر لے گیا اورگہرا گڑھا کھودا ۔اس میں اُسے ڈال کر اُوپر سے مٹی ڈالنے لگا وہ مجھے ابا ابا کہہ کر پکارتی رہی اورمیں مٹی ڈالتا رہا۔ آخری آواز میرے کانوں میں ابا ابا ہی کی آرہی تھی حتی کہ میں نے اسے دفن کردیا اورچلاآیا۔ یہ واقعہ جناب رسالتمآب ۖ نے سنا تو مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ صحابہ کرام نے اس صحابی کوملامت کی مگر رسول اللہ ۖ نے انہیں منع فرمایا کہ یہ اپنا دُکھ کہہ رہا ہے اِسے کہنے دو۔ قرآن حکیم نے اُن کی اس عادتِ خبیثہ کو نہایت موثر اورتاکیدی انداز میں پیش فرمایا : اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ وَاِذَا الْعِشَارُعُطِّلَتْ وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ وَاِذَا الْمَوْئ دَةُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ۔(سورۂ تکویر) ''جب سورج کی دھوپ تہہ ہو جائے اورجب تارے میلے ہو جائیں اورجب پہاڑ ہلائے جائیں اورجب بیاتی اُونٹنیاں چھٹی پھریں اورجب جانور اکھٹے کردئیے جائیں اورجب دریا جھونکے جائیں اور جب جانیں جسموں سے ملائی جائیں اورجب زندہ درگور بیٹی کے بارے میں پوچھا جائے کہ کس گناہ پر ماری گئی تھی''۔ بعض جاہل دماغ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے کھانے کے لیے خود میسر نہیں آتا اپنی اولاد کو کہاں سے کھلائیں گے اولاد کو مار دینا چاہیے ۔فرمایا گیا کہ اس جاہلانہ خیال کو چھوڑ دو۔