ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
کہ تو نے میرے ساتھ دھوکہ کی بات کی لیکن میں اپنی بات پر قائم رہوں گا۔ آپ نے اُسے قتل نہیں کیا پھروہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا۔ قرآن ِحکیم میں ارشاد ہے : لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِناً (سورۂ نساء ) ''جو تم سے سلام علیک کرے اُسے یہ مت کہوکہ تو مسلمان نہیں'' ۔ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ایسے لوگوں کو بھی ماردو جو سچ مچ اسلام قبول کررہے ہوں۔ آقائے نامدار ۖ نے ایک اِسی قسم کے واقعہ پر صحابۂ کرام کو بہت ملامت فرمائی اورباربار فرماتے رہے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَبْرَأُ اِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ فُلان (اوکماقال علیہ الصلٰوة والسلام ) ''خداوندا جو کچھ فلاں شخص نے کیا ہے میں اُس سے تیرے دربار میں براء ت پیش کرتا ہوں''۔ ہماری کتب ِفقہ میں قانون بتلایا گیا ہے کہ اگر کوئی مجاہد کسی کافر کودُور سے اشارہ سے بلائے اور وہ اس کے بلانے پر پاس آجائے تو اُسے قتل کرنا جائز نہیں،اسے امان دی جائے گی کیونکہ اگرچہ صراحةً امان نہیں دی گئی ہے مگر اشارةً اوربظاہر حال امان دی گئی ہے۔ اسلام نے جملہ مظالم کی بیخ کنی کردی ہے مثلاً زمانۂ جاہلیت کا دستور تھا کہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے اوراِسے عین غیرت مندی و حیا خیال کرتے تھے۔ وَاِذَابُشِّرَاَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہ مُسْوَدًّا وَّھُوَکَظِیْم یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْئِ مَابُشِّرَبِہ ط اَیُمْسِکُہ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُ سُّہ فِی التُّرَابِ ط اَ لَا سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ ۔ (سورۂ نحل ) ''اورجب اُن میں کسی کو بیٹی کی خوشخبری ملے تو سارے دن اُس کا منہ سیاہ رہے اور دل میں گھٹتا رہے، لوگوں سے اس خوشخبری کے برائی کے مارے چھپتا پھرے کہ اس کو ذلت قبول کرکے (زندہ) رہنے دے یا اس کو مٹی میں داب دے۔ دیکھو! کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں''۔