ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْأً کَبِیْرًا۔( سورۂ بنی اسرائیل ) ''اوراپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے نہ مار ڈالو ،ہم روزی دیتے ہیں اُن کو اورتم کو یقینا ان کامارنا بڑی خطا ہے''۔ ان مقدس آیات اور ضوابط کی روشنی میں جہاں قصاص کا حق دیا گیا ہے وہاں قصاص لیا جا سکتا ہے ،ساتھ ہی ورثہ مقتول کو حق ہے کہ خون بہا لے لیں یا بالکل معاف کردیں ، تعدی(زیادتی) کی جن صورتوں میں کوئی حکم نازل نہیں فرمایا گیا اُن میں حاکم کو تعزیر کا حق ہوگا۔ عزیزانِ ملت ! کبھی اس بات پر بھی غور فرمایا کہ دنیا کے حالات کیا سے کیا ہوتے جا رہے ہیں؟ چاروں طرف ایک اضطرابِ عظیم پھیلتا جا رہا ہے آخر یہ کیوں؟ہر ایک کام کی ایک وجہ ہوتی ہے اوریہ اضطرابِ عظیم بھی بلاوجہ نہیں،آج کی متمدن دُنیا اوراس کا مطمحِ ارتقا ء اسکی ذ ہنی اور فکری کاوشیں فی الحقیقت تباہ کن نتائج پیدا کررہی ہیں۔ یہ غارت گرانِ امن ایسی ایجادات میں منہمک اور مستغرق ہیں کہ کس طرح ایک لمحہ میں کائنات کی ہر ایک چیز کو پھونک کرتباہ وبرباد کیا جاسکتا ہے ۔ یہ متمدن اقوام تباہی کوترقی، ذلت کو عزت ، فریب ودجل کو حکمت، ناکامی کو کامیابی، درندگی کو انسانیت سمجھنے والی نہ تو امن لا سکتی ہیں اور نہ امن پا سکتی ہیں۔ حضرات ! میرا یہ پیغام تمام عالم کے لیے ایک دعوتِ غوروفکر ہے اور حق تو یہ ہے کہ اس دورِالحاد میں جہاں موت کو زندگی، ظلمت کو نوراور انتہائی پستی اور تنزلی کو بلندی اورارتقاء سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔شاید یہ قیامِ قیامت کے اوّلین آثارہوں ۔میرے احساسات اور مشاہدات نے مجھے مجبور کردیا کہ میں آپ کے دلوں کی گہرائیوں تک اُتر کر خدائے واحدکے ارشادات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرائوں۔ آج اس سرزمین کا ذرّہ ذرّہ میری اس دعوت کا شاہد ہوگا کہ مجھ پر جو فرض عائدہوتا تھا میں نے حجت تمام کرنے کے لیے اپنا فرض پورا کیا ۔ آئو سب مل کر اس دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے عہد کرلیں کہ خداوندِقدوس نے ہماری فلاح وبہبود کیلیے جو راہ معین فرمائی ہے ،اُس پر گامزن ہو کر تمام عالم کو اس دعوتِ عظیم سے روشناس کرائیں اور دنیا کو اس حقیقت کے منوا لینے پر مجبور کردیں کہ امنِ عالم کے قیام کیلیے صرف ایک ہی علاج ہے اوروہ اللہ کی آخری کتاب قرآن پاک کی تعلیمات ہیں ۔وما علینا الا البلاغ ا لمبین۔