ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوة (سورۂ بقرہ) '' اورتمہارے واسطے قصاص میں بڑی زندگی ہے'' حضراتِ مفسرین نے کلام ِالٰہی کی خوبیاں نہایت مختصر مگر جامع طورپر اس طرح بیان فرمائی ہیں کہ پہلے اہلِ عرب محاورةً کہا کرتے تھے اَلْقَتْلُ اَنْفٰی لِلْقَتْلِ قتل ہی قتل کی پوری طرح نفی کرتا ہے ۔اور یہ محاورہ فصیح ترین شمار ہوتا تھا کیونکہ اس کے الفاظ بہت مختصر اورمعنی بہت جامع ہیںلیکن جب قرآن کریم کی آیت مبارکہ نازل ہوئی تو یہ محاورہ ماند پڑ گیا بلکہ نہ معلوم کہاں مستور ہوگیا۔ اولاً تو یہ دیکھیں کہ آیت مبارکہ کے حروف صرف دس ہیں اور محاورہ کے چودہ۔دوسرے یہ کہ محاورہ میں صرف یہ اظہار کیا گیا ہے کہ قتل قتل کو زیادہ مٹاتا ہے مگر یہ نہیں بتلایا گیا کہ کونسا قتل قتل کو مٹاتا ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ظلماًقتل کیا جائے تو کیا وہ بھی قتل کو مٹا ئے گا؟ہرگز نہیں بلکہ وہ قتل کا فتنہ اور بڑ ھادے گا۔ قرآن ِحکیم کی عبارت میں یہ خوبی ہے کہ پہلے ہی بجائے لفظ قتل کے لفظ قصاص استعمال کیا اور قصاص اُس قتل ہی کو کہا جاتا ہے جو مظلوم کی فریاد رَسی اور ظالم کی سرکوبی کے لیے کیا جائے۔ محاورہ میں تھا کہ قتل قتل کی زیادہ نفی کرتاہے۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہ قصاص لے لینے میں زندگی ہے یعنی قاتل کی موت سے سینکڑوں ہونے والے قتل رُک جاتے ہیں اوریہ گویا سب پُرخطر زندگی گزارنے والوں کوایک قسم کی زندگی حاصل ہو رہی ہے۔ یہ مضمون محاورہ کے معنوں سے نہایت بلند ہے۔ یہ قرآنِ حکیم کا اعجاز ہے کہ الفاظ کم اورجامعیت زیادہ ہے ۔ساتھ ہی بعد کی آیتوں میں اپنے بندوں کو عفو کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے۔ قدم قدم پرحکام کو عدل کا حکم ہے اس لیے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کو حکم فرمایا تھا کہ غلطی سے سزا نہ دینا بہتر ہے اورغلطی سے سزادے بیٹھنا بہت بُرا ہے، اس کا خیال رکھو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایرانی حاکم کو گرفتار کرکے لایا گیا ،اس کے قتل کا حکم دے دیا گیا۔اُس نے پانی مانگا۔پانی لایا گیا، کہنے لگا جب تک میں یہ پانی نہ پی لوں مجھے امان دیں آپ نے منظور فرمایا ۔ اُس نے بجائے پانی پینے کے پانی زمین پر پھینک دیا اور کہنے لگا کہ آپ کا وعدہ تھا کہ جب تک میں یہ پانی نہ پی لوں مجھے امان دیں گے۔ یہ پانی زمین سے اُٹھایا نہیں جا سکتا جو میں پیوں لہٰذا مجھے امان رہے گی۔ آپ نے فرمایا