ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2005 |
¾اكستان Ù |
|
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ۔(سورۂ مائدہ) ''اورہم نے اُن پر اس کتاب میں لکھ دیا کہ جان کے بدلے جان آنکھ کے بدلے آنکھ ناک کے بدلے ناک کان کے بدلے کان دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلا اُن کے برابر (لیا جائے گا)پھر جس نے معاف کردیا تو وہ گناہ سے پاک ہوگیا اورجو لوگ اللہ کے اُتارے ہوئے حکم کے موافق حکم نہ کریں تو وہ ظالم ہیں''۔ جرمِ قتل کی ہولناکی اورآخرت کی سزا متعدد آیات میں بیان فرمائی گئی : سورۂ مائدہ کی آیت کے اس حصہ میں فرمایا گیا ہے : مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ۔(سورۂ مائدہ) '' جو کوئی ایک جان کو بغیر جان کے بدلہ کے یا ملک میں فساد کے بغیر قتل کرے تو گویا اُس نے سب لوگوں کو قتل کرڈالااور جس نے ایک جان کو زندہ رکھا تو گویا اس نے سب لوگوں کو زندہ کردیا''۔ پانچویں پارہ سورہ نساء میں ارشاد ہے : وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ ےَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّاخَطَأً ''اور مسلمان کو قتل کرنا مسلمان کا کام نہیں مگر غلطی سے'' ۔ پھر ارشاد فرمایا : وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآئُ ہ جَھَنَّمُ خَالِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہ وَاَعَدَّلَہ عَذَابًا عَظِیْمًا۔(سورۂ نسائ) ''اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی سزا دوزخ ہے۔ اس میں پڑا رہے گا اس پر اللہ کا غضب ہوا اُس کو لعنت کی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیا رکیا'' ۔(والعیاذ باللہ ) اگر قصاص نہ رکھا جائے تو امن ِعالم درہم برہم ہو جائے اور قاتل یکے بعد دیگرے قتل کرتا جائے ،اس لیے ارشاد ہوا :