ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2005 |
اكستان |
|
کی صورت میں لیا جاسکتا ہے۔ تیسری بحث یہ ہے کہ حاکم اعلیٰ (جو اسلامی حکومت کاہو) اس کی اطاعت کن باتوں میں فرض ہوتی ہے اور کن باتوں میں نہیں ؟اس کے بارے میں احادیث میں آتاہے کہ گناہ کے کام میں نہ باپ کی اطاعت بیٹے پر فرض ہوتی ہے ،نہ شوہر کی اطاعت بیوی پر ،نہ حاکم کی اطاعت محکوم پر۔ خاص حاکم کی اطاعت کے بارے میں ارشاد ہے : فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَةٍ فَلا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ ۔ (بخاری شریف ج دوم کتاب الاحکام ص١٠٥٧) جب گناہ کے کام کا حکم دیا جائے تو نہ سننا واجب ہے نہ اطاعت کرنی ۔ اسی صفحہ پر اسی کے حاشیہ ١١ میں ہے : لَاطَاعَةَ لِمَنْ لَمْ یُطِعِ اللّٰہَجو اللہ کی اطاعت نہ کرے اُس کی اطاعت واجب نہیں ہوتی ۔پھر لکھا ہے اِلَّا اَنْ یَّرَوْا کُفْرًا بَوَاحاً ۔ کہ۔ اگر رعایا کھلم کھلا حاکم سے کفر کی بات دیکھے تو وہ حاکم خودبخود معزول ہو جائے گا بالاجماع ۔ لہٰذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ حکم الٰہی پر جما رہے جو اسکی قوت رکھتا ہے تو اُسے ثواب ملے گا اور جو خوشامد کریگا اُسے گناہ ہوگا اور جو بالکل مقابلہ کی قوت نہ رکھتا ہو عاجز ہو تو اُس پر ایسی سرزمین سے ہجرت کرجانی واجب ہوگی ''۔ اسی سے ملتا جلتا مسئلہ بخاری ص١٠٤٥ میں حاشیہ ١٠ میں بھی ہے۔ یہ مسئلہ بہت تفصیل سے شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری کی سولہویں جلد میں ص ١١٤ اور ص ٢٤١ پر بیان کیا ہے، وہیں یہ بھی تحریر ہے۔وہاں خروج یعنی مقابلہ میں نکل کھڑے ہونے کی (جسے جہاد یا بغاوت کہا جائے )بحث ہے اس میں تحریر فرماتے ہیں :وَالصَّحِیْحُ الْمَنْعُ اِلَّا اَنْ یَّکْفُرَ فَیَجِبُ الْخُرُوجُ عَلَیْہِ ۔ صحیح یہ ہے کہ بغاوت نہ کی جائے سوائے اس کے کہ حاکم سے کھلم کھلا کفر سرزد ہو تو اُس وقت اُس کے خلاف بغاوت واجب ہوگی ۔ ص١١٤ ج١٦ فتح الباری نمبر١ مطبوعہ مصطفیٰ البابی المجلسی وعمدة القاری (عینی) شرح بخاری میں ج نمبر١١ ص٣٣٣ پر بھی یہی عبارت ہے مطبوعہ دار الطباعة العامرہ سلطنة ترکیہ عبدالحمید خاں ۔( باقی صفحہ ٢٧ )