ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2005 |
اكستان |
|
اِحْتَجِبِیْ اس سے پردہ کرو۔ پھر آگے ہے : اس لیے رسول اللہ ۖ نے حضرت سودہ رضی اللہ عنھاسے ارشاد فرمایا : فَمَارَاٰھَا حَتّٰی لَقِیَ اللّٰہَ (بخاری شریف ج١ ص٢٧٦) اس نے کبھی مرتے دم تک حضرت سودہ رضی اللہ عنھا کو نہیں دیکھا ۔ اور ص ٢٩٦ پر یہ بھی ہے : وَاحْتَجِبِیْ مِنْہُ یَا سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ فَلَمْ تَرَہ سَوْدَةُ قَطُّ ۔ اے سودہ بنت زمعہ اِن سے پردہ کرو تو انہیں حضرت سودہ نے کبھی نہیں دیکھا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ۖ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف فرماتھے مکان میں ایک مخنث (ہجڑہ ) بھی تھا اُس نے حضرت اُمِ سلمہ کے بھائی سے کہا کہ اگر اللہ نے تمہیں کل کو طائف فتح کرادیا تو میں تمہیں بنت ِغیلان (جس کا یہ حلیہ ہے )بتلائوں گا۔ نبی کریم علیہ الصلٰوة والتسلیم نے یہ بات سنی تو ارشاد فرمایا : لَایَدْخُلَنَّ ھٰذَا عَلَیْکُمْ ۔ (بخاری شریف ج٢ ص٧٨٨) ہرگز آئندہ یہ تمہارے پاس نہ آئے ۔ حالانکہ وہ پیدائشی معذور تھا (پیدائشی مخنث تھا) مگرچونکہ وہ حلیہ بیان کرکے عورتوں کی بے پردگی کرسکتا تھا اس لیے اسے بھی منع فرمادیا اوراس کا بھی پردہ کرادیا۔بخاری شریف میں دوسری جگہ ہے :لَا یَدْخُلَنَّ ھٰؤُلَآئِ عَلَیْکُمْ (بخاری شریف ص٦١٩) یعنی ایسے مخنث (کوئی بھی ہوں ) ہرگز تمہارے پاس گھر میں نہ آیا کریں۔ یہ تو بعض صحیح روایات پیش کی گئی ہیں جن سے آیت کی تفسیر اور علماء اُمت کے بالاتفاق عمل کی وجہ معلوم ہورہی ہے اوریہ کہ یہ شرعی مسئلہ ہے۔ دوسری بحث یہ ہے کہ یہ شعائر اسلام میں ہے یا نہیں؟ شعائر اسلام کا لفظی ترجمہ ہے'' اسلام کی نشانیاں'' یا ''علامتیں '' یعنی وہ شرعی احکام جن سے اسلام والے دوسروں سے ممتاز ہو سکیں ۔ تو اس کا جواب علماء سے فتوے کی صورت میں عدالت طلب کرسکتی ہے نیز یہ کہ پردہ کا انکار کس درجہ کی معصیت ہے ۔ اس کا جواب بھی علماء سے فتوٰی