Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2004

¾اكستان Ù

52 - 66
میں احیاء العلوم کے حوالہ سے مذکور ہے''۔
	اورجہر مفرط کی ممنوعیت کے متعلق زین الحلم شرح عین العلم (ص١٠٢ج ١) میں ملا علی قاری فرماتے ہیں  :
ولا یبالغ فی رفع صوتہ لماروٰی ابو موسی الاشعریُّ قال قدمنا مع النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلمّا دنونا المدینة کبّروکبّر النّاس ورفعوا اصوا تھم فقال یا ایھا الناس انّ الذّی تدعون لیس باصمّ ولا غائبٍ انّ الذّی تدعون بینکم وبین اعناق رکابکم ۔  
 ''اور بوقت ِدعاء بلند آوازی میں مبالغہ نہ کرے ، چنانچہ ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے ساتھ جب ہم ایک سفر سے واپس آئے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے تکبیر کہی اورلوگوں نے بھی بلند آواز سے تکبیر کہی تو آپ نے فرمایا ۔ لوگو! تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے ہو بلکہ وہ تو تمہارے عین درمیان میں موجود ہے''۔
	اور علامہ ابو البرکات نسفی اپنی تفسیر (مدارک ص ٥٧ ج٢ اورقرطبی ص ٢٢٦ ج ٧) میں ادعواربکم تضرعاً  وخفیة انہ لا یحب المعتدین (سورة اعراف آیت ٥٠ ) کے تحت ابن جریج  سے نقل فرماتے ہیں   :  الصّیاح فی الدعائِ مکروہ وبدعة  (ہکذافی روح المعانی ص١٣٩ ج٨)  ترجمہ  :  ''دعاء میں چیخنا اور چلانا مکروہ اوربدعت ہے''۔
	اور اسی مقام پر علامہ سیّد محمود آلوسی  اپنی تفسیر رُوح المعانی ص١٣٩۔ ١٤٠ جزء ثامن میں رقمطراز ہیں  : 
وترٰی کثیراً مّن اھل زمانک یعتمدون الصّراخ فی الدّعائِ خصوصاً فی الجوامع حتّٰی یعظم اللغط و یشتدّ وتستکُّ المسامع وتستدُّ ولایدرون انھم جمعوا بین بدعتینِ رفع الصوتِ فی الدعائِ وکون ذالک فی المسجد۔
'' تو اپنے زمانہ کے بہت سے لوگوں کو دیکھے گا جو دعاء میں بہت اُونچا چلانے پر اعتماد رکھتے ہیں  خصوصاً بڑی بڑی مسجدوں میں یہاںتک کہ شور پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ اس عمل میں انہوںنے دوبدعتیں جمع کرلی ہیں ، ایک تو دعاء میں بلند کرنا آواز کا اور دوسری بلند آوازی مسجد میں''۔ 
	اورعلامہ رشید رضا مصری اپنی تفسیر المنار ص ٤٥٨ ج ٨ میں لکھتے ہیں  : جس طرح دعاء آہستہ مانگی جا سکتی ہے اسی طرح مناسب حد تک آواز کے ساتھ بھی مانگنے کی اجازت ہے ۔تنہائی میں جہاں ریاء کا خطرہ نہ ہو اور دوسروں کو اس کی آواز سے اذیت پہنچنے کا احتمال نہ ہو تو مناسب حد تک بلند آواز کے ساتھ دعاء مانگنا بہتر ہے کیونکہ اس طرح وسوسے دُور رہیں گے

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
52 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وعادات 48 51
73 اس شمارے میں 3 1
74 حرف آغاز 4 1
75 درس حدیث 6 1
76 حضرت حذیفہ اور حضرت ابن مسعود کی فضیلت 6 75
77 انہوںنے یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی : 10 75
78 یزید کی موت کے بعد اِن کی حکومت ساری دنیا پر قائم ہوگئی تھی : 10 75
79 حضرت عمر ...... فتنوں کے آگے دیوار : 7 75
80 حضرت حذیفہ کی تصدیق کرنے کا حکم : 7 75
81 اپنا خلیفہ نامزد نہ کرنے کی وجہ : 7 75
82 حضرت محمد ابن مَسلَمہ کی فضیلت : 7 75
83 ایک خاتون کی رسول اللہ ۖ کی خدمت میں نکاح کی پیش کش : 8 75
84 صحابہ کرام کی غربت : 8 75
85 بعد میں فراخی آگئی : 9 75
86 اس بچے کی فضیلت : 9 75
87 جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 11 1
88 حضرت اقدس مولانا نانوتوی اور دیوبند : 11 87
89 حضرت مولانا محمد قاسم صاحب اور نانوتہ اورآپ کا شجرہ نسب : 12 87
90 شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی عبدالحمید صاحب 19 1
91 اسراء ومعراج 24 1
92 (نقلی اور عقلی بحث) 24 91
93 اسراء و معراج کا فرق : 24 91
94 آراء مختلفہ دربارۂ معراج : 24 91
95 آغازِمعراج : 24 91
96 تعین ِسال( زمان ِسفر معراج) : 25 91
97 تعین ِماہ : 25 91
98 تعین ِرات : 25 91
99 کیفیت سفر معراج : 25 91
100 درایت : 26 91
101 اہلِ الحاد کے استدلال رؤیا وغیرہ پر بحث : 26 91
102 قرآن سے جسمانی معراج کا ثبوت : 28 91
103 واقعہ معراج پر عقلی بحث : 29 91
104 شبِ معراج 31 1
105 دُعائے مشائخ درشب ِبراء ت 33 1
106 شب ِبرا ء ت............ فضائل و مسائل 35 1
107 ماہِ شعبان کی فضیلت : 35 106
108 شبِ براء ت کی فضیلت : 35 106
109 شبِ برا ء ت میں کیا ہوتا ہے؟ : 36 106
110 ایک اعتراض اور اس کا جواب : 36 106
111 حضور علیہ الصلٰوة والسّلام کا پندرہویں شب میں معمول : 37 106
112 شب ِبراء ت میں کن لوگوں کی بخشش نہیں ہوتی ؟ : 38 106
113 پندرہویں شعبان کے روزہ کا حُکم : 38 106
114 شب براء ت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کن کاموں سے بچنا چاہیے : 39 106
115 انتقال پر ملال 39 1
116 اقبا ل کے آئینۂ گفتار میں 40 1
117 فرنگی تہذیب و جمہور یت کے خدوخال 40 116
118 عراق وایران کی جنگ : 40 116
119 شاہ فیصل کا قتل : 41 116
120 کویت پر صدام کا حملہ : 41 116
121 عراق کے بعد افغانستان آئیے : 45 116
122 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وعادات 49 1
123 دعاء کی افادیت و اہمیت 51 1
124 دینی مسائل 58 1
125 ( سجدہ سہو کا بیان ) 58 124
126 سجدہ سہو کا طریقہ : 58 124
127 سجدہ سہو کے چندمسائل : 58 124
128 سجدہ سہو واجب ہونے نہ ہونے کا ضابطہ : 59 124
129 سجدہ سہو کے تفصیلی مواقع : 59 124
130 (١) نیت باندھنا اور ثناء پڑھنا : 59 129
131 (٢) قرا ء ت کرنا : 59 129
132 (٣) رکوع کرنا : 60 129
133 (٤) سجدہ کرنا : 61 129
134 (٥) تعدیل ِارکان : 61 129
135 (٦) قعدہ کرنا : 61 129
136 (٧) التحیات پڑھنا : 62 129
137 (٨) سلام پھیرنا : 62 129
138 (٩) وتر میں قنوت پڑھنا : 62 129
139 (١٠) نماز میں سوچنے لگا : 63 129
140 نماز میں شک ہونا : 63 124
141 امام کے پیچھے سجدہ سہو کے مسائل : 64 124
Flag Counter