ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2004 |
¾اكستان Ù |
|
میں احیاء العلوم کے حوالہ سے مذکور ہے''۔ اورجہر مفرط کی ممنوعیت کے متعلق زین الحلم شرح عین العلم (ص١٠٢ج ١) میں ملا علی قاری فرماتے ہیں : ولا یبالغ فی رفع صوتہ لماروٰی ابو موسی الاشعریُّ قال قدمنا مع النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلمّا دنونا المدینة کبّروکبّر النّاس ورفعوا اصوا تھم فقال یا ایھا الناس انّ الذّی تدعون لیس باصمّ ولا غائبٍ انّ الذّی تدعون بینکم وبین اعناق رکابکم ۔ ''اور بوقت ِدعاء بلند آوازی میں مبالغہ نہ کرے ، چنانچہ ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے ساتھ جب ہم ایک سفر سے واپس آئے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے تکبیر کہی اورلوگوں نے بھی بلند آواز سے تکبیر کہی تو آپ نے فرمایا ۔ لوگو! تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے ہو بلکہ وہ تو تمہارے عین درمیان میں موجود ہے''۔ اور علامہ ابو البرکات نسفی اپنی تفسیر (مدارک ص ٥٧ ج٢ اورقرطبی ص ٢٢٦ ج ٧) میں ادعواربکم تضرعاً وخفیة انہ لا یحب المعتدین (سورة اعراف آیت ٥٠ ) کے تحت ابن جریج سے نقل فرماتے ہیں : الصّیاح فی الدعائِ مکروہ وبدعة (ہکذافی روح المعانی ص١٣٩ ج٨) ترجمہ : ''دعاء میں چیخنا اور چلانا مکروہ اوربدعت ہے''۔ اور اسی مقام پر علامہ سیّد محمود آلوسی اپنی تفسیر رُوح المعانی ص١٣٩۔ ١٤٠ جزء ثامن میں رقمطراز ہیں : وترٰی کثیراً مّن اھل زمانک یعتمدون الصّراخ فی الدّعائِ خصوصاً فی الجوامع حتّٰی یعظم اللغط و یشتدّ وتستکُّ المسامع وتستدُّ ولایدرون انھم جمعوا بین بدعتینِ رفع الصوتِ فی الدعائِ وکون ذالک فی المسجد۔ '' تو اپنے زمانہ کے بہت سے لوگوں کو دیکھے گا جو دعاء میں بہت اُونچا چلانے پر اعتماد رکھتے ہیں خصوصاً بڑی بڑی مسجدوں میں یہاںتک کہ شور پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ اس عمل میں انہوںنے دوبدعتیں جمع کرلی ہیں ، ایک تو دعاء میں بلند کرنا آواز کا اور دوسری بلند آوازی مسجد میں''۔ اورعلامہ رشید رضا مصری اپنی تفسیر المنار ص ٤٥٨ ج ٨ میں لکھتے ہیں : جس طرح دعاء آہستہ مانگی جا سکتی ہے اسی طرح مناسب حد تک آواز کے ساتھ بھی مانگنے کی اجازت ہے ۔تنہائی میں جہاں ریاء کا خطرہ نہ ہو اور دوسروں کو اس کی آواز سے اذیت پہنچنے کا احتمال نہ ہو تو مناسب حد تک بلند آواز کے ساتھ دعاء مانگنا بہتر ہے کیونکہ اس طرح وسوسے دُور رہیں گے