ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2004 |
اكستان |
|
(٤) سجدہ کرنا : مسئلہ : اگر بھولے سے تین سجدے کرلیے تو سجدہ سہو کرنا واجب ہے۔ مسئلہ : اگر سجدہ میں سبحان ربی الاعلی نہیں کہا تو سجدہ سہو کرنا واجب نہیں۔ (٥) تعدیل ِارکان : تعدیل ارکان یعنی رکوع اور سجدہ اور قومہ اور جلسہ میں اطمینان یعنی کم از کم ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار ٹھہرنا واجب ہے۔ اگر بھول کراس کو چھوڑ دے گا تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔ (٦) قعدہ کرنا : مسئلہ : تین رکعت یا چار رکعت والی نماز میں بیچ میں بیٹھنا بھول گیا اور دو رکعت پڑھ کے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو اگر نیچے کا آدھا دھڑابھی سیدھا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے اور التحیات پڑھ لے تب کھڑا ہو اور ایسی حالت میں سجدہ سہو کرنا واجب نہیں ۔اگر نیچے کا آدھا دھڑ ابھی سیدھا ہوگیا تو نہ بیٹھے بلکہ کھڑے ہو کر چاروں رکعتیں پڑھ لے فقط اخیر میں بیٹھے اور اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہے۔ اگرسیدھا کھڑا ہو جانے کے بعد پھر لوٹ آئے گا اور بیٹھ کر التحیات پڑھے گا تو گناہ گار ہوگا لیکن نماز ہو جائے گی اور سجدہ سہو کرنا بھی واجب ہوگا۔ مسئلہ : اگر ظہر، عصر یا عشاء کی چوتھی رکعت پر بیٹھنا بھول گیا اور نیچے کا دھڑ ابھی سیدھا نہیں ہوا تو بیٹھ جائے اور التحیات اور درُد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے اورسجدہ سہو نہ کرے اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تب بھی بیٹھ جائے بلکہ اگر الحمد اور سورت بھی پڑھ چکا ہو یا رکوع بھی کر چکا ہو تب بھی بیٹھ جائے اور التحیات پڑھ کے سجدہ سہو کرلے۔ البتہ رکوع کے بعد بھی یاد نہ آیا اور پانچویں رکعت کا سجدہ کر لیا تو فرض نماز پھر سے پڑھے یہ نماز نفل ہوگئی۔ ایک رکعت اور ملا کر پوری کرلے اور سجدہ سہو نہ کرے اور اگر ایک رکعت اور نہیں ملائی اور پانچویں رکعت پر سلام پھیر دیا تو چار رکعتیں نفل ہو گئیں اور ایک رکعت اکارت گئی۔ فجر میں ایسی صورت پیش آگئی تو کل چار رکعت پوری کرلے اور مغرب میں چار کعتوں کے بعد پانچویں کو نہ ملائے۔ مسئلہ : اگر چوتھی رکعت پر بیٹھا اور التحیات پڑھ کے کھڑا ہوگیا تو سجدہ کرنے سے پہلے جب یاد آئے بیٹھ جائے اور التحیات نہ پڑھے بلکہ بیٹھ کر فوراً سلام پھیر کے سجدہ سہو کرے اوراگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرچکا تب یاد آیاتو ایک رکعت اورملا کر چھ رکعت کرلے، چار فرض ہو گئے اور دونفل اور چھٹی رکعت پر سجدہ سہو بھی کرلے۔ اگر پانچویں رکعت پر سلام پھیردیا او ر سجدہ سہو کرلیا تو برا کیا، چار فرض ہوئے اور ایک رکعت اکارت گئی۔ عصر کی نماز کا بھی یہی حکم ہے مغرب میں تین کے بعد دورکعتیں پوری کی جائیں۔