Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004

¾اكستان Ù

61 - 65
دینی مسائل
(  قضا نمازوں کے پڑھنے کا بیان  )
	مسئلہ  :  کوئی نماز چھوٹ گئی ہو تو جب یاد آئے فوراً اُس کی قضاپڑھے۔ بلا عذر کے قضا پڑھنے میں دیر لگانا گناہ ہے۔ لہٰذا جس کی کوئی نماز قضا ہوگئی اور اُس نے فوراًاُس کی قضا نہ پڑھی دوسرے وقت پر یا دوسرے دن پر ٹال دی کہ فلاں دن پڑھ لوں گا اور اُس دن سے پہلے ہی اچانک مرگیا تو دوہرا گناہ ہوا۔ ایک تو نماز کے قضا ہونے کا اور دوسرے فوراً قضا نہ پڑھنے کا۔
	مسئلہ  :  اگر کسی کی کئی نمازیں قضا ہوگئیں تو جہاں تک ہو سکے جلدی سے سب کی قضا پڑھ لے ۔ہو سکے تو ہمت کر کے ایک ہی وقت سب کی قضا پڑھ لے اور اگر بہت سی نمازیں کئی مہینے یا کئی برس کی قضا ہوں تو اُن کی قضا میں بھی جہاں تک ہو سکے جلدی کرے، ایک ایک وقت میں دو دو چارچار نمازیں پڑھ لیا کرے۔ اگر کوئی مجبوری اور ناچاری ہوتو خیر ، ایک وقت ایک ہی نماز کی قضا سہی ۔ یہ بہت کم درجہ کی بات ہے۔
	مسئلہ  :  قضا پڑھے کا کوئی وقت مقررنہیں ہے جس وقت فرصت ہو وضو کرکے پڑھ لے البتہ خیال رکھے کہ مکروہ وقت نہ ہو۔
	مسئلہ  :  جس کی ایک ہی نماز قضاہوئی اُس سے پہلے کوئی نماز اُس کی قضا نہیں ہوئی یا اِس سے پہلے نمازیں قضا تو ہوئیں لیکن سب کی قضا پڑھ چکا ہے فقط اِسی ایک نماز کی قضا پڑھنا باقی ہے تو پہلے اس کی قضا پڑھ لے پھر کوئی اور نماز پڑھے ۔ اگر بغیر قضا نماز پڑھے ہوئے ادا نماز پڑھی تو ادا درست نہیں ہوئی۔ قضا پڑھ کر پھر ادا پڑھے ۔ ہاں اگر قضا کرنا یاد نہیں رہا ، بالکل بھول گیا تو ادا درست ہوگئی ۔اب جب یاد آئے تو فقط قضا پڑھ لے ادا کو نہ دہرائے۔
	مسئلہ  :  اگر وقت بہت تنگ ہے کہ اگر قضا پڑھے گا تو ادا نماز کا وقت باقی نہ رہے گا تو پہلے ادا پڑھ لے پھر قضا پڑھے۔
	مسئلہ  :  اگر دویاتین یا چار یا پانچ نمازیں قضا ہو گئیں اور سوائے اِن نمازوں کے اُس کے ذمہ کسی اور نماز کی قضا باقی نہیں ہے یعنی عمربھر میں جب سے جوان ہوا ہے کبھی کوئی نماز قضا نہیں ہوئی یا قضا تو ہوگئی لیکن سب کی قضا پڑھ چکا ہے تو جب تک اِن پانچوں کی قضا نہ پڑھ لے تب تک ادا نماز پڑھنا درست نہیں ہے اور جب اِن پانچوں کی قضا پڑھے تو اِس طرح پڑھے کہ جو نماز سب سے اول چھوٹی ہے پہلے اُس کی قضا پڑھے پھر اُس کے بعد والی پھر اُس کے بعد والی۔ اسی طرح ترتیب سے پانچوںکی قضا پڑھے جیسے کسی نے پورے ایک دن کی نمازیں نہیں پڑھیں ۔فجر ، ظہر، عصر، مغرب، عشاء یہ

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
57 اس شمارے میں 3 1
58 حرف آغاز 4 1
59 درس حدیث 6 1
60 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کاقوی حافظہ 6 59
61 ہمیشہ جوان رہے : 6 59
62 تکلیفوں پر صبر : 7 59
63 دینی طلباء کی تعریف قرآن میں : 7 59
64 مسجد میں سونا مکروہ ہے سوائے...... : 7 59
65 محبت کی دعاء : 8 59
66 کثرت روایات کی وجہ اور یادداشت کا امتحان : 8 59
67 حضرت ابو ہریرہ کی احادیث کی جانچ : 9 59
68 عبداللہ بن عمر وسے کثرتِ روایات اور اُس کی وجہ : 9 59
69 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 10 1
70 جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 11 1
71 ٣۔ مدرسہ کے مہتمم صاحبان : 13 70
72 ٤۔ یہ تاریخی تبدیلی کب سے؟ : 13 70
73 وفیات 18 1
74 اقبال کے آئینہ گفتار میں 19 1
75 کمال ِ انسانی کے راز 26 1
76 اخلاق ِنبوت ۖ کی چند جھلکیاں 29 1
77 انسانیت کے نجات دہندہ : 30 76
78 سراپا شفقت : 31 76
79 منبع جودوسخا : 31 76
80 پیکر شرم وحیا : 32 76
81 رحمتِ عالم : 32 76
82 بہترین شوہر : 34 76
83 علماء اہلِ سنت والجماعت دیوبند اور عصر ہذا کے معتزلہ کے مابین فاصلہ 36 1
84 دعاء کی افادیت و اہمیت 43 1
85 بقیہ : دعاء کی افادیت و اہمیت 42 84
86 دُعا کے فوائد و ثمرات : 43 84
87 رُوح دُعاء : 44 84
88 آدابِ دعاء : 44 84
89 ہاتھ اُٹھانے کی ہیئت و کیفیت کا بیان 49 84
90 ١۔ دعا ء میں ہاتھ کس قدر بلند کیے جائیں : 49 89
91 دعاء کی اقسام اور ہاتھ اُٹھانے کی کیفیت 52 84
92 سلام بدرگاہِ خیر الانام علیہ الصلٰوة والسلام 54 1
93 مسواک کے دینی و طبی فوائد 55 1
94 مسواک کا حکم کیوں نازل ہوا؟ : 55 93
95 مسواک تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے : 55 93
96 مسواک احادیث کی روشنی میں : 55 93
97 نبی کریم ۖ کے مسواک کرنے کے اوقات : 56 93
98 مسواک کا ساتھ رکھنا : 56 93
99 گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک : 56 93
100 گھر سے نکلتے وقت مسواک : 56 93
101 روزہ دار کے لئے مسواک : 56 93
102 تلاوت ِقرآن کے لئے مسواک : 56 93
103 مسواک کی فضیلت : 57 93
104 اگر مسواک نہ ہو تو انگلی کو مسواک بنالیں : 57 93
105 برش کا حکم : 57 93
106 خواتین کے لئے مسواک : 57 93
107 مسواک کے طبی ورُوحانی فوائد : 58 93
108 مالِ محمود اور مالِ مذمُوم 59 1
109 دینی مسائل 61 1
110 ( قضا نمازوں کے پڑھنے کا بیان ) 61 109
111 اہم اعلان 64 1
Flag Counter