ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004 |
¾اكستان Ù |
|
دینی مسائل ( قضا نمازوں کے پڑھنے کا بیان ) مسئلہ : کوئی نماز چھوٹ گئی ہو تو جب یاد آئے فوراً اُس کی قضاپڑھے۔ بلا عذر کے قضا پڑھنے میں دیر لگانا گناہ ہے۔ لہٰذا جس کی کوئی نماز قضا ہوگئی اور اُس نے فوراًاُس کی قضا نہ پڑھی دوسرے وقت پر یا دوسرے دن پر ٹال دی کہ فلاں دن پڑھ لوں گا اور اُس دن سے پہلے ہی اچانک مرگیا تو دوہرا گناہ ہوا۔ ایک تو نماز کے قضا ہونے کا اور دوسرے فوراً قضا نہ پڑھنے کا۔ مسئلہ : اگر کسی کی کئی نمازیں قضا ہوگئیں تو جہاں تک ہو سکے جلدی سے سب کی قضا پڑھ لے ۔ہو سکے تو ہمت کر کے ایک ہی وقت سب کی قضا پڑھ لے اور اگر بہت سی نمازیں کئی مہینے یا کئی برس کی قضا ہوں تو اُن کی قضا میں بھی جہاں تک ہو سکے جلدی کرے، ایک ایک وقت میں دو دو چارچار نمازیں پڑھ لیا کرے۔ اگر کوئی مجبوری اور ناچاری ہوتو خیر ، ایک وقت ایک ہی نماز کی قضا سہی ۔ یہ بہت کم درجہ کی بات ہے۔ مسئلہ : قضا پڑھے کا کوئی وقت مقررنہیں ہے جس وقت فرصت ہو وضو کرکے پڑھ لے البتہ خیال رکھے کہ مکروہ وقت نہ ہو۔ مسئلہ : جس کی ایک ہی نماز قضاہوئی اُس سے پہلے کوئی نماز اُس کی قضا نہیں ہوئی یا اِس سے پہلے نمازیں قضا تو ہوئیں لیکن سب کی قضا پڑھ چکا ہے فقط اِسی ایک نماز کی قضا پڑھنا باقی ہے تو پہلے اس کی قضا پڑھ لے پھر کوئی اور نماز پڑھے ۔ اگر بغیر قضا نماز پڑھے ہوئے ادا نماز پڑھی تو ادا درست نہیں ہوئی۔ قضا پڑھ کر پھر ادا پڑھے ۔ ہاں اگر قضا کرنا یاد نہیں رہا ، بالکل بھول گیا تو ادا درست ہوگئی ۔اب جب یاد آئے تو فقط قضا پڑھ لے ادا کو نہ دہرائے۔ مسئلہ : اگر وقت بہت تنگ ہے کہ اگر قضا پڑھے گا تو ادا نماز کا وقت باقی نہ رہے گا تو پہلے ادا پڑھ لے پھر قضا پڑھے۔ مسئلہ : اگر دویاتین یا چار یا پانچ نمازیں قضا ہو گئیں اور سوائے اِن نمازوں کے اُس کے ذمہ کسی اور نماز کی قضا باقی نہیں ہے یعنی عمربھر میں جب سے جوان ہوا ہے کبھی کوئی نماز قضا نہیں ہوئی یا قضا تو ہوگئی لیکن سب کی قضا پڑھ چکا ہے تو جب تک اِن پانچوں کی قضا نہ پڑھ لے تب تک ادا نماز پڑھنا درست نہیں ہے اور جب اِن پانچوں کی قضا پڑھے تو اِس طرح پڑھے کہ جو نماز سب سے اول چھوٹی ہے پہلے اُس کی قضا پڑھے پھر اُس کے بعد والی پھر اُس کے بعد والی۔ اسی طرح ترتیب سے پانچوںکی قضا پڑھے جیسے کسی نے پورے ایک دن کی نمازیں نہیں پڑھیں ۔فجر ، ظہر، عصر، مغرب، عشاء یہ