ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004 |
¾اكستان Ù |
|
سرمایہ دار اور وسیع اختیار رکھنے والے اربابِ اقتدار بھی ترستے ہیں لیکن یہ نعمت ملتی اُسی کو ہے جو ایمان باللہ ،ایمان بالآخرة اور حُبّ ِرسول کی دولت سے مالا مال ہو اللّٰھم اجعلنا منھم نیز دعا مانگنے کا عظیم فائدہ یہ ہے کہ دعا مانگنے والا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرتا ہے کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس بندے سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ مانگتا ہے ان اللّٰہ یُحِبُّ الْمُلِحِینَ فِی الدُّعَائِ اے اللہ ہم کو اپنے دَر کا سوالی بنا دے اے ربِ کریم ہم کو مانگنا سکھلا دے رُوح دُعاء : دُعاء کے لُطف سے صحیح معنی میں انسان اُسی وقت آشنا ہو سکتا ہے جبکہ وہ اپنے اُوپر وہی کیفیت طاری کرلے جسے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اِن لفظوں میں بیان کیا ہے : '' وروح الدعاء ان یری کل حول وقوةٍ من اللّٰہ ویصیرکالمیت فی ید الغسال و کالتّمثال فی ید محرک التماثیل و یجد لذة المناجاة''۔ (حجة اللّٰہ البالغة صفحہ ٥١ ج٢) '' دعاء کی رُوح یہ ہے کہ دعا کرنے والا ہر قوت وحرکت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھے اور اُس کی قدرت و عظمت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو اِس طرح بے کس اور بے بس سمجھے جیسے مُردہ غسال کے ہاتھوں میں یا بے جان صورتیں حرکت دینے والے کے قبضے میں ہوتی ہیں ،پھراس کیفیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مناجات اور سرگوشی کی لذت و حلاوت اُسے حاصل ہوگی۔'' آدابِ دعاء : معمولی دنیوی بادشاہوں بلکہ ان کے ماتحت حاکموں کے سامنے درخواست پیش کرنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں ۔ غلط طریقے پر مانگنے کا نتیجہ نہ صرف محرومی ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات سائل حاکم کے عتاب کا شکار ہو جاتا ہے۔ مدارج السالکین ج٢ ص٣٩١ پر علامہ ابن قیم جوزی فرماتے ہیں : '' وادب المرئِ عنوان سعادتہ وفلاحہ ۔ وقلة الادبِ عنوان شقاوتہ وبوارہ وما استجلب خیر الدنیا والآخرة بمثل الادب ولا استجلب حرمانھا بمثل قلة الادب''۔ '' آدمی کا باادب ہونا اس کی سعادت اور کامیابی کی علامت ہے اور بے ادب ہونا اس کی شقاوت