ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004 |
¾اكستان Ù |
|
امام قرطبی اپنی تفسیر ج٢ ص٣١١ میں فرماتے ہیں : '' قال ابن عطاء ان للدعاء ارکانا و اجنحة واسبابا واوقاتا، فان وافق ارکانہ قوی وان وافق اجنحتہ طارفی السماء وان وافق مواقیتہ فاز وان وافق اسبابہ انجح''۔ ''ابن عطأ فرماتے ہیں کہ دُعا کرنے والے کو چاہیے کہ دُعا کے ارکان اوراس کے بازووں اور اس کے اسباب اور اس کے خاص اوقات کو ملحوظ رکھے تاکہ اُس کی دعامیں طاقت پرواز ہوکر دربارِ عالیہ میں پہنچنے کے بعد مژدہ اجابت لاسکے ''۔ حافظ و ظیفۂ تو دعا گفتن است و بس دربندِ آں مباش کہ نشنید یا شنید ادب ١ : '' و حقہ ان یستقبل القبلة '' '' اور آدابِ دعاء سے ایک یہ ہے کہ دُعا قبلہ رُخ ہوکر مانگے '' تشریح : سمت قبلہ ایک جہت محترم ہے ۔اس کے شرعی آداب ہیں جو اپنے مقام پر مذکور ہیں ۔ حضرت امام شعرانی لواقح الانوار القدسہ ص ٥١١ پر فرماتے ہیں کہ باری تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق وحیثما کنتم فولوا وجوھکم شطرہ کے عموم پر عمل کرتے ہوئے اپنی ہر مجلس میں قبلہ ُرخ بیٹھنا چاہیے۔ ہاں اگر مجلس میں دیگر افراد بھی موجود ہوں تو پھراہل مجلس کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے اُن کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھنا چاہیے۔ طبرانی میں باسنادِ حسن روایت ہے : ان لکل شیٍٔ سیّدا وان سید المجالس قبال القبلة ( ترجمہ ) آنحضرت ۖ نے فرمایا کہ ''ہر چیز کا ایک سردار ہوتا ہے اور نشستوں میں سب سے اچھی اور سردار نشست یہ ہے کہ انسان قبلہ رُخ ہو کر بیٹھے''۔نیز طبرانی کی ایک روایت میں ہے : '' ان لکل شیٍٔ شرفاً وان شرف المجالس ما استقبل بہ القبلہ''۔( ترجمہ) ''ہر چیز کے لیے ایک شرف ہے اور مجالس کا شرف قبلہ رُخ ہونے میںہے''۔ اور حضرت تھانوی قدس سرہ بھی امداد الفتاوٰی ص٦٧ج٤ میں مقاصد حسنہ سے یہ احادیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ ان روایات سے مستقبل قبلہ بیٹھنے کا نُدب ثابت ہوتاہے بلکہ اگر بعض طرق اعتبار سے ضعف بھی مان لیا جائے تب بھی فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف بھی کافی ہے۔ باقی دُعا کے وقت قبلہ رُخ ہونے کے متعلق زین الحلم شرح عین العلم ص١٠٢ ج ١ میں ملا علی قاری لکھتے ہیں : ''رویٰ مسلم عن جابرٍ انہ علیہ السلام اتیٰ الموقف بعرفة واستقبل القبلة ولم