ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004 |
¾اكستان Ù |
|
اور ہلاکت کی دلیل ہے اوردین ،دنیا کی بھلائی کا حاصل ہونا ادب پر ہی موقوف ہے اور ان سے محرومی قلتِ ادب کے باعث ہی ہوتی ہے ادب تاجیست از فضلِ الٰہی بنہ برسر برو ہر جاکہ خواہی اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ احکم الحاکمین کے دربارِ عالیہ میں درخواست پیش کرنے کے آداب نہ ہوں چنانچہ علامہ ابن القیم مدارج السالکین ج٢ ص ٣٧٨ میں فرماتے ہیں : '' وتامل احوال الرسل صلوات اللّٰہ وسلامہ علیھم مع اللّٰہ وخطا بھم وسوالھم کیف کانت تجدھا کلھا مشحونہ بالادب قائمة بہ ''۔ '' اگر تو انبیاء علیھم السلام کے حالات اور اُن کی مناجات اور معروضات میں غور و فکر کرے گا کہ وہ جناب باری سبحانہ وتعالیٰ کے حضور میں کس انداز کے تھے تو سب کو انتہائی ادب سے متصف پا ئے گا'' اورابن المجالس السنیہ شرح اربعین نوویہ ص٥٧ میں علامہ شیخ احمد الفشنی فرماتے ہیں : '' قال ابو علی الروذ باری العبد یصل بادبہ الیٰ ربہ وبطاعتہ الی الجنة ''۔ ''ابوعلی روزباری فرماتے ہیں ادب کی وجہ سے بندہ خدا تعالیٰ تک پہنچتاہے اور بندگی و طاعت کی بدولت جنت تک''۔ اور حضرت سری سقطی فرماتے ہیں کہ ایک رات کو نماز سے فراغت کے بعد میں نے اپنے پائوں کو محراب میں دراز کردیا تو غیب سے آواز آئی ، کیا بادشاہوں کی مجالس میں بیٹھنے کا یہی طریقہ ہے، تو میں نے عرض کیا کہ اس طرح ہرگز نہیں ؛ چنانچہ اس کے بعد میں نے ساری زندگی پھر کبھی پائوں اس طرح دراز نہیں کیا۔ اور نیز ایک عارف سے منقول ہے ، انہوں نے فرمایاہے کہ میں نے ایک بارحرم شریف میں اپنے پائوں کو دراز کیا تو ایک خاتون نے مجھے ٹوکا اور کہا کہ ادب کے ساتھ بیٹھو ورنہ تمہارا نام مقربین کی فہرست سے کاٹ دیا جائے گا۔ از خدا خواہیم توفیقِ ادب بے ادب محروم ماند از فضلِ رب بہرحال اس شہنشاہِ حقیقی کے دربارِ عالیہ کے بھی آداب ہیں ( شرح اربعین للفشنی ص ٥٧ ،٥٨) جو قرآنِ مجید و احادیث ِشریفہ میں بیان فرمادیے گئے ہیں۔ اب اس رسالہ حافلہ و عجالہ نافعہ میں چند آداب و شرائط بسلسلہ دعاء آئندہ اوراق میں آپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں تاکہ آپ ان کو ملحوظ فرماکر اپنے مقاصدِ دارین میں کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں۔