ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004 |
¾اكستان Ù |
|
انگلستان کا وزیرِ اعظم ،جنرل ایلبنی (فاتح فلسطین) کے سینہ پر تمغۂ فتح لگاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ : ''یہ ہلال پر صلیب کی فتح ہے اور آج ہم نے سلطان صلاح الدین کے ہاتھوں ہوئی اپنی شکست کا انتظام لے لیا ہے ''۔ یا بقول فرانسیسی جنرل گورو،جب اس نے سلطان ایوبی کی قبر پر کھڑے ہوکرکہا : ''اے صلاح الدین قبرسے باہر نکل ، دیکھ آج صلیبی جنگوں کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے'' ۔ (انقلابی شخصیات ٩٢) اگر صرف ان جملوں کی دوررس معنویت کا فلسفیانہ تجزیہ کرلیا جائے تو مغربی تہذیب کی ساخت و پرداخت اور اس کے کار پردازوں کی درپردہ سازشوں کو سمجھنا مشکل نہیں رہ جاتا کہ تہذیب نو کی جگمگاتی دنیا میں مادیت کے اصنام کس کس طشک میں کہاں کہاں بارودی سر نگوں کی طرح ملک و ملت اسلامیہ کے حرم میں چھپا کر رکھدئے ہیں ۔ اسی فریب طلسم کا انکشاف ع فساد ِقلب ونظر ہے فرنگ کی تہذیب اور اپنے اسلاف کی امانت کو سینے سے لگائے رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے اقبال نے قوم کو اس طرح پیغام دیا : اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ علامہ اقبال نے خدا داد ذہانت و فراست اور اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں تہذیب نو کے قزاقوں کی فسوں کاری وتخریب کاری کی اصل رُوح کواُمّت مسلمہ کے سامنے بطورِ مثال اس طرح پیش کیا : حرم نہیں ہے فرنگی کرشمہ سازوں نے تن ِحرم میں چھپا دی ہے رُوح ِبت خانہ یہ بت کدہ اِنہیں غارت گروں کی ہے تعمیر دمشق ہاتھ سے جن کے ہوا ہے ویرانہ اور پھر تاریخ کے ان آباد ویرانوں میں فرنگی روح کی تربیت وپرورش کے لیے دنیا کی بساط پر جس نظامہائے فکر کی تشکیل کی جارہی تھی اس کے اجزائے ترکیبی اس طرح بیان فرمائے : نسل ، قومیت ، کلیسا ، سلطنت ،تہذیب ورنگ خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے مسکرات سرمایہ دارانہ نظام سلطنت کی یہ تدبیر اوررنگ ونسل ، تہذیب وتمدن ، قومیت ووطنیت ، کلیسائیت وسلطنت کی یہ سیاسی ترجیحات کیوں ہیں ؟ اس کی تہ داریوں میں فرنگی تخیلات کی نفسیات کیا ہیں ؟ افرنگ کی حکمت اور ابراہیم کی ملت میں فرق کیاہے؟ اقبال نے کہا : تفریقِ ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود اسلام کا مقصود فقط ملتِ آدم