Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004

¾اكستان Ù

21 - 65
قرآن پوری کائنات کے انسانوں کو دو فرقوں میں تقسیم کرکے بہت پہلے یہ اعلانیہ دے چکا ہے ''کہ تم میں سے کچھ کافر ہیں اور تم میں سے کچھ مومن '' (سورة  :  تغابن )اورجب کفر وایمان کے درمیان ہمیشہ سے تصادم ، تخالف ، عناد اور تضاد کا رشتہ رہا ہے تو پھر دونوں کے درمیان تہذیب کا اتحاد کیونکر ممکن ہے ؟ اور کفر وایمان کے ہوتے ہوئے تہذیب کو عالمی اکائی ماننا اور کہنا کیسے درست ہو سکتاہے ۔ ''بری چیزیں اور اچھی چیزیں برابر نہیں ہو سکتیں ، چاہے بری چیزوں کی کثرت آپ کو اچھی معلوم ہوتی ہوں''۔ (قرآن)
	اگر کسی کی نظرمیں اچھی اوربری چیزیں برابر ہوجائیں یا دونوں کے درمیان فرق باقی نہ رہے تو فسادِ قلب ونظر کے سوا اس کے متعلق اور کیاکہا جاسکتا ہے۔ 
رہے نہ رُوح میں پاکیزگی تو ہے		ضمیر پاک و خیال بلند و ذوقِ لطیف
	اور ایسے شخص کی نظر میں تہذیب حجازی اور تہذیب فرنگی کی تقسیم کیونکر ممکن ہے اورپھراسے ثنیت مانوی کے تہذیبی فلسفے کے فروغ سے خطرہ کس بات کا ہے ۔    
بیاں میں نکتۂ توحید آ تو سکتا ہے 		ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے
	ظاہر ہے کہ جب کسی معتبر اور قد آور شخصیت یا کسی اعلیٰ کمان حاکم کا یہ تصورہوجائے کہ  :  ع
مرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہے
	توگو کہ یہ ایک فرد کی اپنی سوچ ہے لیکن اس فکر سے وابستہ صاحب اقتدار شخص کی محض ایک غلطی سے صدیوں پر محیط تاریخ کا سنہرا دور اور اُ ن کی نسلوں کا روشن مستقبل سیاہ تاریک ہوجاتا ہے اس تصور کا واقعاتی رنگ اقبال کے اس شعر میں دیکھئے  :    
بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی		خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش
	شریف مکہ اور حسین کی کوتاہ بینی ، مفاد پرستی ،بلکہ خود فریبی نے مغرب کے پر فریب فلسفے کی داغ بیل کے لیے جس طرح زمین فراہم کی اس کی وجہ سے ١٩١٩ء میں صرف خلافت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہی نہیں ہوا بلکہ     
لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل 		خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز
	اور پھر اس کے نتیجے میں ہندوستان سے مراکش تک تمام دنیائے اسلام پر نکبت وادبار کی گھٹائیں چھاگئیں ۔ عرب انگریزوں کے چنگل میں پھنس گئے، بیت المقدس پر صلیبی پرچم لہرانے لگا، دمشق و بغداد غیروں کے قبضے میں چلے گئے ، حجاز کا حکمراں برطانیہ کا وظیفہ خوار بن گیا ۔ بظاہر ثنویت مانوی کے تہذیبی علم برداروں کی یہ انتہائی پر فریب اولین یورش ویلغار تھی ، ترکی کی حکومت کا خاتمہ محض ملک گیری کا شاخسانہ نہ تھا بلکہ توحید وتثلیث کا ایک معرکہ تھا۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
57 اس شمارے میں 3 1
58 حرف آغاز 4 1
59 درس حدیث 6 1
60 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کاقوی حافظہ 6 59
61 ہمیشہ جوان رہے : 6 59
62 تکلیفوں پر صبر : 7 59
63 دینی طلباء کی تعریف قرآن میں : 7 59
64 مسجد میں سونا مکروہ ہے سوائے...... : 7 59
65 محبت کی دعاء : 8 59
66 کثرت روایات کی وجہ اور یادداشت کا امتحان : 8 59
67 حضرت ابو ہریرہ کی احادیث کی جانچ : 9 59
68 عبداللہ بن عمر وسے کثرتِ روایات اور اُس کی وجہ : 9 59
69 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 10 1
70 جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 11 1
71 ٣۔ مدرسہ کے مہتمم صاحبان : 13 70
72 ٤۔ یہ تاریخی تبدیلی کب سے؟ : 13 70
73 وفیات 18 1
74 اقبال کے آئینہ گفتار میں 19 1
75 کمال ِ انسانی کے راز 26 1
76 اخلاق ِنبوت ۖ کی چند جھلکیاں 29 1
77 انسانیت کے نجات دہندہ : 30 76
78 سراپا شفقت : 31 76
79 منبع جودوسخا : 31 76
80 پیکر شرم وحیا : 32 76
81 رحمتِ عالم : 32 76
82 بہترین شوہر : 34 76
83 علماء اہلِ سنت والجماعت دیوبند اور عصر ہذا کے معتزلہ کے مابین فاصلہ 36 1
84 دعاء کی افادیت و اہمیت 43 1
85 بقیہ : دعاء کی افادیت و اہمیت 42 84
86 دُعا کے فوائد و ثمرات : 43 84
87 رُوح دُعاء : 44 84
88 آدابِ دعاء : 44 84
89 ہاتھ اُٹھانے کی ہیئت و کیفیت کا بیان 49 84
90 ١۔ دعا ء میں ہاتھ کس قدر بلند کیے جائیں : 49 89
91 دعاء کی اقسام اور ہاتھ اُٹھانے کی کیفیت 52 84
92 سلام بدرگاہِ خیر الانام علیہ الصلٰوة والسلام 54 1
93 مسواک کے دینی و طبی فوائد 55 1
94 مسواک کا حکم کیوں نازل ہوا؟ : 55 93
95 مسواک تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے : 55 93
96 مسواک احادیث کی روشنی میں : 55 93
97 نبی کریم ۖ کے مسواک کرنے کے اوقات : 56 93
98 مسواک کا ساتھ رکھنا : 56 93
99 گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک : 56 93
100 گھر سے نکلتے وقت مسواک : 56 93
101 روزہ دار کے لئے مسواک : 56 93
102 تلاوت ِقرآن کے لئے مسواک : 56 93
103 مسواک کی فضیلت : 57 93
104 اگر مسواک نہ ہو تو انگلی کو مسواک بنالیں : 57 93
105 برش کا حکم : 57 93
106 خواتین کے لئے مسواک : 57 93
107 مسواک کے طبی ورُوحانی فوائد : 58 93
108 مالِ محمود اور مالِ مذمُوم 59 1
109 دینی مسائل 61 1
110 ( قضا نمازوں کے پڑھنے کا بیان ) 61 109
111 اہم اعلان 64 1
Flag Counter