ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004 |
¾اكستان Ù |
|
قرآن پوری کائنات کے انسانوں کو دو فرقوں میں تقسیم کرکے بہت پہلے یہ اعلانیہ دے چکا ہے ''کہ تم میں سے کچھ کافر ہیں اور تم میں سے کچھ مومن '' (سورة : تغابن )اورجب کفر وایمان کے درمیان ہمیشہ سے تصادم ، تخالف ، عناد اور تضاد کا رشتہ رہا ہے تو پھر دونوں کے درمیان تہذیب کا اتحاد کیونکر ممکن ہے ؟ اور کفر وایمان کے ہوتے ہوئے تہذیب کو عالمی اکائی ماننا اور کہنا کیسے درست ہو سکتاہے ۔ ''بری چیزیں اور اچھی چیزیں برابر نہیں ہو سکتیں ، چاہے بری چیزوں کی کثرت آپ کو اچھی معلوم ہوتی ہوں''۔ (قرآن) اگر کسی کی نظرمیں اچھی اوربری چیزیں برابر ہوجائیں یا دونوں کے درمیان فرق باقی نہ رہے تو فسادِ قلب ونظر کے سوا اس کے متعلق اور کیاکہا جاسکتا ہے۔ رہے نہ رُوح میں پاکیزگی تو ہے ضمیر پاک و خیال بلند و ذوقِ لطیف اور ایسے شخص کی نظر میں تہذیب حجازی اور تہذیب فرنگی کی تقسیم کیونکر ممکن ہے اورپھراسے ثنیت مانوی کے تہذیبی فلسفے کے فروغ سے خطرہ کس بات کا ہے ۔ بیاں میں نکتۂ توحید آ تو سکتا ہے ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے ظاہر ہے کہ جب کسی معتبر اور قد آور شخصیت یا کسی اعلیٰ کمان حاکم کا یہ تصورہوجائے کہ : ع مرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہے توگو کہ یہ ایک فرد کی اپنی سوچ ہے لیکن اس فکر سے وابستہ صاحب اقتدار شخص کی محض ایک غلطی سے صدیوں پر محیط تاریخ کا سنہرا دور اور اُ ن کی نسلوں کا روشن مستقبل سیاہ تاریک ہوجاتا ہے اس تصور کا واقعاتی رنگ اقبال کے اس شعر میں دیکھئے : بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش شریف مکہ اور حسین کی کوتاہ بینی ، مفاد پرستی ،بلکہ خود فریبی نے مغرب کے پر فریب فلسفے کی داغ بیل کے لیے جس طرح زمین فراہم کی اس کی وجہ سے ١٩١٩ء میں صرف خلافت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہی نہیں ہوا بلکہ لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز اور پھر اس کے نتیجے میں ہندوستان سے مراکش تک تمام دنیائے اسلام پر نکبت وادبار کی گھٹائیں چھاگئیں ۔ عرب انگریزوں کے چنگل میں پھنس گئے، بیت المقدس پر صلیبی پرچم لہرانے لگا، دمشق و بغداد غیروں کے قبضے میں چلے گئے ، حجاز کا حکمراں برطانیہ کا وظیفہ خوار بن گیا ۔ بظاہر ثنویت مانوی کے تہذیبی علم برداروں کی یہ انتہائی پر فریب اولین یورش ویلغار تھی ، ترکی کی حکومت کا خاتمہ محض ملک گیری کا شاخسانہ نہ تھا بلکہ توحید وتثلیث کا ایک معرکہ تھا۔