Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004

¾اكستان Ù

20 - 65
اگرچہ اس شعر میں ایک خاصتاریخی واقعہ کی طرف اشارہ ہے، لیکن حالات کے عمومی منظر نامے کا مکمل عکس بھی ہے۔
	بات تین چوتھائی صدی کے آس پاس کی ہے جب اقبال نے فکروعمل کے لیے اپنا تجرباتی سرمایہ حسرتوں اورتمنائوں کے ساتھ مستقبل کی نسلوں کو اس آگہی کے ساتھ حوالہ کیا کہ  :
کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں 		آنیوالے دور کی دُھندلی سی اک تصویر دیکھ
	یہ وہ زمانہ ہے جب مغربی تہذیب کا چلن ابتدائی مرحلے میں تھا۔ اقبال نے اس کی بلاخیزیوں کے مضمرات سے یہ اندازہ لگایا کہ وہ مستقبل میں اسلامی تہذیب و روایات اور اسلامی اقدار واخلاقیات کے لیے ارتقائی نقطہ نہیں بلکہ ناقابلِ تلافی خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ۔اقبال چونکہ مغربی تہذیب کے سمندر میں غوطہ لگا کر آئے تھے اس لیے اس کی حقیقی رُوح سے بھی واقف تھے کہ مغربی تہذیب سب سے پہلے انسان کی ظاہر ی کیفیت پراثر انداز ہوتی ہے، پھررفتہ رفتہ اُس کی طبیعت ومزاج کو بدل کر رکھ دیتی ہے ۔  ع  
  مغربی اس کی طبیعت کوبدل دیتے ہیں
	اس تبدیلی کا مستقبل میں سودوزیاں کیا ہوگا ،اقبال نے اپنی نوائے پریشاں میں اس راز کو بے حجاب کرنے کی یوں سعی کی ہے ۔
عہد ِنو برق ہے آتش زنِ ہر خرمن ہے 		ابھی اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہے
اس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہے		ملتِ ختمِ رُسل شعلہ یہ پیراہن ہے
	سوچئے  !  کیا عالمی سطح پر اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش ہے؟ لیکن جن کے نزدیک نئی تہذیب کی طلسماتی دنیا اور اس کی چمک دمک ہی انسانی ترقی کا مفروضہ و محور ہے وہاں مستقبل کی ہلاکت خیزیوں کا اندازہ ، سرمایہ دارانہ چیرہ دستیوں کے نتائج ، استعماریت واستبداد کی سیاسی وذہنی فریب کاری کا تصور ، آزادی افکار ورائے سے فسادِ قلب ونظر کے امکانات کیوں کر روشن ہوتے۔
	اسلامی طرزِ زندگی پر ،انتہا پسندی ، بنیادپرستی یا پھر دہشت گردی کے لگائے گئے الزامات کے شوروغل میں، ملت اسلامیہ ، اسلامی شخصیات ،اسلامی اداروںاور مسلم ملکوں کو مفلوج ومحدود کرنے کی موضوعی اصطلاح کو کس طرح محسوس کرتے اور پھر جن دانشورانِ قوم کو ان کی خود فریبی نے یہ سبق پڑھا دیا ہو کہ'' وہ تہذیب (اقبال کے تہذیبی رویے) بہر حال ایک عالمی اورمکمل اکائی ہے اور تہذیب کوقومیت ، مذہب ، علاقے یا دور میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا ہے ''تو ان کے بارے میں .......اگر یہ کہہ دیا جائے توشاید غلط نہ ہو کہ اس قسم کے تصورات قرآن کے فلسفہ سے عدم واقفیت یا لامذہبیت کا نتیجہ ہیں،

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
57 اس شمارے میں 3 1
58 حرف آغاز 4 1
59 درس حدیث 6 1
60 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کاقوی حافظہ 6 59
61 ہمیشہ جوان رہے : 6 59
62 تکلیفوں پر صبر : 7 59
63 دینی طلباء کی تعریف قرآن میں : 7 59
64 مسجد میں سونا مکروہ ہے سوائے...... : 7 59
65 محبت کی دعاء : 8 59
66 کثرت روایات کی وجہ اور یادداشت کا امتحان : 8 59
67 حضرت ابو ہریرہ کی احادیث کی جانچ : 9 59
68 عبداللہ بن عمر وسے کثرتِ روایات اور اُس کی وجہ : 9 59
69 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 10 1
70 جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 11 1
71 ٣۔ مدرسہ کے مہتمم صاحبان : 13 70
72 ٤۔ یہ تاریخی تبدیلی کب سے؟ : 13 70
73 وفیات 18 1
74 اقبال کے آئینہ گفتار میں 19 1
75 کمال ِ انسانی کے راز 26 1
76 اخلاق ِنبوت ۖ کی چند جھلکیاں 29 1
77 انسانیت کے نجات دہندہ : 30 76
78 سراپا شفقت : 31 76
79 منبع جودوسخا : 31 76
80 پیکر شرم وحیا : 32 76
81 رحمتِ عالم : 32 76
82 بہترین شوہر : 34 76
83 علماء اہلِ سنت والجماعت دیوبند اور عصر ہذا کے معتزلہ کے مابین فاصلہ 36 1
84 دعاء کی افادیت و اہمیت 43 1
85 بقیہ : دعاء کی افادیت و اہمیت 42 84
86 دُعا کے فوائد و ثمرات : 43 84
87 رُوح دُعاء : 44 84
88 آدابِ دعاء : 44 84
89 ہاتھ اُٹھانے کی ہیئت و کیفیت کا بیان 49 84
90 ١۔ دعا ء میں ہاتھ کس قدر بلند کیے جائیں : 49 89
91 دعاء کی اقسام اور ہاتھ اُٹھانے کی کیفیت 52 84
92 سلام بدرگاہِ خیر الانام علیہ الصلٰوة والسلام 54 1
93 مسواک کے دینی و طبی فوائد 55 1
94 مسواک کا حکم کیوں نازل ہوا؟ : 55 93
95 مسواک تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے : 55 93
96 مسواک احادیث کی روشنی میں : 55 93
97 نبی کریم ۖ کے مسواک کرنے کے اوقات : 56 93
98 مسواک کا ساتھ رکھنا : 56 93
99 گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک : 56 93
100 گھر سے نکلتے وقت مسواک : 56 93
101 روزہ دار کے لئے مسواک : 56 93
102 تلاوت ِقرآن کے لئے مسواک : 56 93
103 مسواک کی فضیلت : 57 93
104 اگر مسواک نہ ہو تو انگلی کو مسواک بنالیں : 57 93
105 برش کا حکم : 57 93
106 خواتین کے لئے مسواک : 57 93
107 مسواک کے طبی ورُوحانی فوائد : 58 93
108 مالِ محمود اور مالِ مذمُوم 59 1
109 دینی مسائل 61 1
110 ( قضا نمازوں کے پڑھنے کا بیان ) 61 109
111 اہم اعلان 64 1
Flag Counter