ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004 |
¾اكستان Ù |
|
اگرچہ اس شعر میں ایک خاصتاریخی واقعہ کی طرف اشارہ ہے، لیکن حالات کے عمومی منظر نامے کا مکمل عکس بھی ہے۔ بات تین چوتھائی صدی کے آس پاس کی ہے جب اقبال نے فکروعمل کے لیے اپنا تجرباتی سرمایہ حسرتوں اورتمنائوں کے ساتھ مستقبل کی نسلوں کو اس آگہی کے ساتھ حوالہ کیا کہ : کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں آنیوالے دور کی دُھندلی سی اک تصویر دیکھ یہ وہ زمانہ ہے جب مغربی تہذیب کا چلن ابتدائی مرحلے میں تھا۔ اقبال نے اس کی بلاخیزیوں کے مضمرات سے یہ اندازہ لگایا کہ وہ مستقبل میں اسلامی تہذیب و روایات اور اسلامی اقدار واخلاقیات کے لیے ارتقائی نقطہ نہیں بلکہ ناقابلِ تلافی خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ۔اقبال چونکہ مغربی تہذیب کے سمندر میں غوطہ لگا کر آئے تھے اس لیے اس کی حقیقی رُوح سے بھی واقف تھے کہ مغربی تہذیب سب سے پہلے انسان کی ظاہر ی کیفیت پراثر انداز ہوتی ہے، پھررفتہ رفتہ اُس کی طبیعت ومزاج کو بدل کر رکھ دیتی ہے ۔ ع مغربی اس کی طبیعت کوبدل دیتے ہیں اس تبدیلی کا مستقبل میں سودوزیاں کیا ہوگا ،اقبال نے اپنی نوائے پریشاں میں اس راز کو بے حجاب کرنے کی یوں سعی کی ہے ۔ عہد ِنو برق ہے آتش زنِ ہر خرمن ہے ابھی اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہے اس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہے ملتِ ختمِ رُسل شعلہ یہ پیراہن ہے سوچئے ! کیا عالمی سطح پر اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش ہے؟ لیکن جن کے نزدیک نئی تہذیب کی طلسماتی دنیا اور اس کی چمک دمک ہی انسانی ترقی کا مفروضہ و محور ہے وہاں مستقبل کی ہلاکت خیزیوں کا اندازہ ، سرمایہ دارانہ چیرہ دستیوں کے نتائج ، استعماریت واستبداد کی سیاسی وذہنی فریب کاری کا تصور ، آزادی افکار ورائے سے فسادِ قلب ونظر کے امکانات کیوں کر روشن ہوتے۔ اسلامی طرزِ زندگی پر ،انتہا پسندی ، بنیادپرستی یا پھر دہشت گردی کے لگائے گئے الزامات کے شوروغل میں، ملت اسلامیہ ، اسلامی شخصیات ،اسلامی اداروںاور مسلم ملکوں کو مفلوج ومحدود کرنے کی موضوعی اصطلاح کو کس طرح محسوس کرتے اور پھر جن دانشورانِ قوم کو ان کی خود فریبی نے یہ سبق پڑھا دیا ہو کہ'' وہ تہذیب (اقبال کے تہذیبی رویے) بہر حال ایک عالمی اورمکمل اکائی ہے اور تہذیب کوقومیت ، مذہب ، علاقے یا دور میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا ہے ''تو ان کے بارے میں .......اگر یہ کہہ دیا جائے توشاید غلط نہ ہو کہ اس قسم کے تصورات قرآن کے فلسفہ سے عدم واقفیت یا لامذہبیت کا نتیجہ ہیں،