ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2003 |
¾اكستان Ù |
|
یا کرتے تھے حالانکہ حضور اکرم ۖ نے آپ کے جنتی ہونے کی گواہی دی تھی، ان لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی شکایت کی کہنے لگے کہ یہ تو صحیح طرح سے نماز بھی نہیں پڑھا سکتے۔ (١٣) حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے خلفاء (بنو اُمیہ وخلفاء بنو عباس ) کی جانب سے سخت تکلیفیں برداشت کیں ۔ (١٤) اسی طرح حضرت امام مالک نے سخت تکلیفیں اُٹھائیں ۔بنا بریں آپ (اپنے گھر میں ) گوشہ نشین ہوگئے اور پچیس برس تک جمعہ وجماعت کے لیے بھی گھر سے نہیں نکلے۔ (١٥) حضرت امام شافعی رحمہ اللہ اہلِ عراق اور اہلِ مصر کی جانب سے تکلیفیں برداشت کرتے رہے ۔ (١٦) حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی سخت تکلیفیں برداشت کیں آپ کو مارا گیا ۔قیدو بند سے دوچار ہوئے۔ (١٧) حضرت امام بخاری نے کس قدر تکلیفیں برداشت کیں جبکہ آپ کو بخارٰی سے خرتنگ کی طرف نکالاگیا ۔ (١٨) ثقہ حضرات سے (جن میںشیخ ابو عبدالرحمن سلمی ، احمد بن خلکان اور شیخ عبد الغفار قوصی وغیرہم بھی ہیں)منقول ہے کہ لوگوں نے حضرت بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ (م : ٢٦١ھ) کو سات مرتبہ بُسطام سے وہاں کے علماء کی ایک جماعت کے واسطے سے جلا وطن کیا۔ (١٩) اہلِ مصر نے حضرت ذوالنون مصری رحمة اللہ علیہ (م : ٢٤٥ھ ) کو مصر سے بغداد اس طرح روانہ کیا کہ آپ کے پائو ں میں بیڑیاں اور گلے میں طوق پڑا ہوا تھا ،اہلِ مصر آپ کے ساتھ ساتھ بغداد گئے یہ گواہی دینے کے لیے کہ ذوالنون مصری زندیق ہیں (العیاذ باللہ)۔ (٢٠) لوگوں نے حضرت سَمْنُوْنْ رحمة اللہ علیہ (م: قبل از ٢٩٧ھ) پربڑے بڑے الزا م لگائے اور ایک فاحشہ عورت کو رشوت دی جس کی بناء پر اُس نے دعوٰ ی کیا کہ سمنون او ر اُس کے شاگرد اُس سے زنا کرتے ہیں اس الزام کی وجہ سے آپ پورے ایک سال تک رُوپوش رہے۔ (٢١) لوگوںنے حضرت سہل بن عبداللہ تُسْتَرِی (م : ٢٨٣ھ ) کو اُن کے شہرتُسترسے نکال کر بصرہ بھیج دیا اور بڑے بڑے فحش الزام اُ ن پر لگائے اورباوجود اُن کی امامت وجلالتِ شان کے اُنھیں کافر قرار دیا آپ پھر بصرہ ہی کے ہو کر رہ گئے وہیں آپ کا انتقال ہوا۔ (٢٢) لوگوں نے حضر ت ابو سعید الخراز رحمة اللہ علیہ (م: ٢٨٧ھ ) پر بڑے بڑے الزام عائد کیے اور علماء ظاہر نے محض اِن الفاظ کی بناپر جوانہوں نے ان کی کتابوں میں پائے تھے اُن کے کافر ہونے کا فتوٰی لگا دیا۔