ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2003 |
اكستان |
|
علالت : خونی بواسیر سب سے بڑا عارضہ تھا جس کا دورہ اس سال ١٥رمضان سے شروع ہوا اس میں اس قدرشدت ہوتی تھی کہ بدن کا جیسے سارا خون نکل گیاہو لیکن اس کے باوجود میرے پھوپا سیّد سادات حسن صاحب کی وفات پر ١٩ رمضان کو سفر مراد آباد کیا اور روزہ سے رہے صرف تین روزے قضا ء ہوئے اور تین دن تراویح نہیں پڑھ سکے ،جتنے کام وہ کرتے تھے یقینا وہ بغیر توفیقِ خاص کے ناممکن ہیں۔ وفات : رمضان کے بعد ڈاکٹر وں نے تجویز کیا کہ خون چڑھانا ضروری ہے جسے انہوں نے پسند نہ فرمایا ا س کا بدل جوس وغیرہ تجویز کیے گئے لیکن غذا کی اشتہا ء ختم ہو چکی تھی بالآخر کمزوری بڑھتی گئی۔ ایک عزیز حافظ طاہر صاحب وفات سے دودن پہلے مزاج پُرسی کے لیے آئے تو فرمانے لگے بھائی !میں تو یہ آیت تلاوت کررہا ہوں فاطر السمٰوات والارض انت ولی فی الدنیا والاخرة توفنی مسلما والحقنی بالصالحین (آخر سورة یوسف پارہ ١٣ رکوع٥ ) اور انتظار میں ہوں کہ کب رُوح پرواز کرجائے۔ زندگی کی آخری شب عشاء کی نماز اذان ہوتے ہی پڑھی پھر سانس میں دقت محسوس ہونے لگی ۔ڈاکٹروںخصوصاً حکیم اجمل خان صاحب مرحوم کے پوتے ڈاکٹر علیم صاحب کے مشورہ سے ہسپتال میں آکسیجن کے لیے جانا ضروری سمجھا گیا تو گیارہ ساڑھے گیارہ بجے وہاں داخلہ ہوا ۔اگلے روز صبح سے وقفہ وقفہ سے سبحان اللہ وغیرہ کلمات فرماتے رہے۔ کوئی بات کرتا تھا تو اس کا جواب عنایت فرماتے تھے لیکن کمزوری کے باعث آواز بہت ہلکی تھی ،شام کو سب کا خیال ہوا کہ گھر لیجایا جائے خود والد صاحب نے بھی یہی فرمایا لیکن خون کی تین اُلٹیاں آئیں اس کے بعد طبیعت جیسے پرسکون ہوگئی ہو۔ساڑھے پانچ بجے ڈاکٹر رائونڈ پر آئے تو اُن سے گھر لانے کی اجازت لی گئی ۔ڈاکٹر سے اجازت ملتے ہی گلو کوز کی بوتل الگ کردی گئی اس سے ان کے چہرے پر مزید سکون ظاہر ہوا۔ میرا چھوٹا بھائی شاہد میاں سلمہ آخری شب جب انہیں ہسپتال لے جایا گیا حاضرِ خدمت رہا ۔اس نے بیان کیاکہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے والد صاحب رحمة اللہ علیہ گھر سے ہسپتال جاتے وقت ہی سمجھ گئے تھے اور انہیں خود کو آخری لمحات کا اندازہ ہوگیا تھا جسے انہوں نے ہم سے نہیں ظاہر کرنا چاہا کیونکہ انہوں نے وہاں جا کر کسی سے بات نہیں کرنی چاہی اور صرف ذکرِ الٰہی کی طرف متوجہ رہے سانس سے بھی اور زبان سے بھی، شاہد میاں نے کہا کہ شب کے اڑھائی بجے کے قریب ایک دفعہ جب ہاتھ سے سوئی نکالی گئی تو انہوں نے ہاتھ ایسے رکھے جیسے نماز میں باندھے جاتے ہیں ۔میں نے بات