Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2003

¾اكستان Ù

61 - 65
سبق حاصل کرکے صبروثبات سے کام لیں ۔لیجیے ملاحظہ فرمائیے علامہ شعرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں  :
''علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کا ارشاد ہے یہ بات جان لو کہ جس زمانہ میں بھی کوئی بڑی ہستی گزری ہے اس زمانہ میں رزیل لوگوں میں سے ضرور کوئی نہ کوئی اُس کا دُشمن ہواہے اِ ذِ الْاَشْرَافْ لَمْ تَزَلْ تُبْتَلٰی بِالْاَطْرَافْکیونکہ ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ بڑے لوگ گٹھیا قسم کے لوگوں سے آزمائے جاتے رہے ہیں،  چنانچہ
	(١ )   حضرت آدم علیہ السلام کا دُشمن ابلیس ہوا۔
	(٢)  حضرت نوح علیہ السلام کے دُشمن حام وغیرہ ہوئے۔
	(٣)  حضرت داود علیہ السلام کے دُشمن جالوت اور اس کے ہم مثل لوگ ہوئے۔
	(٤)  حضرت سلیمان علیہ السلام کا دُشمن صخر ہوا۔ 
	(٥)  حضرت عیسیٰ السلام کا دُشمن پہلی حیات میں (یعنی رفعِ آسمانی سے پہلے)بخت نصر تھا اور دوسری حیات میں (یعنی آسمان سے نزول کے بعد )دجال ہوگا۔
	(٦)  حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دُشمن نمرود ہوا۔
	(٧)  حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دُشمن فرعون ہوا پھر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ حضرت محمد  ۖ کا دور آیا۔
	(٨)  آپ  ۖ  کا دُشمن ابوجہل ہوا۔
	(٩)  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک دُشمن تھا اس کا جب بھی آپ کے پاس سے گزر ہوتا آپ سے بیہودگی کرتا ہوا گزرتا۔
	(١٠)  حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی نماز کے بارہ میں لوگوں نے الزام لگایا کہ یہ ریا کاری اور منافقت کرتے ہیں ۔ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ دُشمنوں نے آپ کے سرپر کھولتا ہوا پانی ڈال دیا جس سے آپ کا چہرۂ اقدس اور سر مبارک جھلس گئے چونکہ آپ نماز میں استغراق کی حالت میں تھے آپ کو کچھ پتہ نہ چلا ۔جب سلام پھیرا تو پوچھنے لگے یہ میرے ساتھ کیا ہوا لوگوں نے بتلایا کہ آپ کے ساتھ تو یہ قصہ پیش آیا ہے ۔فرمایا :حُسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل آپ ایک طویل مدت تک چہرہ اور سر کی تکلیف برداشت کرتے رہے۔
	(١١)  حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا دُشمن نافع بن ازرق(خارجی ) تھا جو آپ کو سخت قسم کی ایذا ئیں دیتا تھا اور کہتا تھاکہ آپ بغیر علم کے قرآن کی تفسیر کرتے ہیں ۔ 
	(١٢)  حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے دُشمن کوفہ کے جاہلوں میں سے کچھ جاہل تھے جو آپ کو ایذائیں

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
50 درس حدیث 6 1
51 فضیلت حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما 6 50
52 حضرت عائشہ کی غیرت : 6 50
53 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا : 7 50
54 حضرت عائشہ کی باری، لوگوں کا رویہ ، اس کی وجہ : 7 50
55 ازواجِ مطہرات کی دو جماعتیں : 7 50
56 سوکن کی برداشت : 7 50
57 حضرت اُم ِ سلمہ کی گفتگو ،بعد ازاں تائب ہونا : 8 50
58 ایک اور کوشش اور بیٹی کی سعادت مندی : 8 50
59 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کامان : 9 50
60 حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمہ اللہ 10 1
61 جیل خانے یا عبادت گاہیں،ان حضرات کے مشاغل کی ایک جھلک : 10 60
62 جمعیة علماء ہند کی نظامت : 12 60
63 ١٩٤٧ء کے بعد حالات اور خدمات : 12 60
64 ٤٧ء کے بعد پیش آنے والے حالات کے ضمن میں : 14 60
65 جدید دفترجمعیة علماء ہند : 15 60
66 آخری دور کی تصانیف : 15 60
67 سلوک واحسان : 17 60
68 تعلیمی اشغال مدارس سے شغف : 18 60
69 عادات واخلاق : 20 60
70 عبادت وریاضت : 21 60
71 آخر وقت تک عزیمت پر عمل پیرا رہنے کی کوشش : 21 60
72 علالت : 22 60
73 وفات : 22 60
74 حُسنِ خاتمہ : 23 60
75 ایک اہم اعلان 25 1
76 قسط :١حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ اور حضرت علی کے ساتھ اُن کا اتصال 27 1
77 نشو ونما : 30 76
78 حسن بصری نے کن صحابہ سے روایت کی : 34 76
79 فہمِ حدیث 37 1
80 ٭قیامت اور آخرت کی تفصیلات 37 79
81 شفاعت : 37 79
82 شفاعت کون کون کرے گا : 42 79
83 جہنم میں داخلہ سے پہلے شفاعت : 42 79
84 اکمالِ دین 43 1
85 قرآن وحدیث میں تحریف : 43 84
86 (٢) اکمالِ دین ادلہ ٔ اربعہ کی صورت میں : 48 84
87 دعوت الی الحق : 50 84
88 آپ کے دینی مسائل 51 1
89 ٭( نماز پڑھنے کا طریقہ ) 51 88
90 نماز کی سنتیں : 51 88
91 حاصل مطالعہ 55 1
92 بے ادب بے نصیب : 55 91
93 قبلہ کی طرف تھوکنا بے ادبی ہے : 55 91
94 پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے : 57 91
95 ھَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ : 59 91
96 وَکَذَالِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُ وًَّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ : 60 91
Flag Counter