Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2003

¾اكستان Ù

63 - 65
	(٢٣)  لوگوں نے بارہا حضرت جنید بغدادی رحمةاللہ علیہ (م:٢٩٧ھ)کے بارہ میں گواہی دی کہ یہ کافر ہیں پہلے آپ علمِ توحید کے بارہ میں برسرِ عام گفتگو فرمایاکرتے تھے پھر یہ حالت ہو گئی کہ گھر کے تہہ خانے میں تقریر کرنے لگے اور یہ صورتِ حال آپ کی وفات تک رہی۔
	(٢٤)  حضرت جنیدبغدادی ، حضرت رُوَیم ،حضر ت سمنون ،حضرت ابن عطائ پر سب سے زیادہ نکیر کرنے والا شخص ابن ِدانیال تھا، وہ ان حضرات کی بڑی بے عزتی کرتا تھا اگر کسی کو اِن کا تذکرہ کرتے سنتا تو بھڑک اُٹھتا اور اس کا رنگ بدل جاتا۔
	(٢٥)  لوگوں نے محمد بن فضل بلخی رحمة اللہ علیہ (م: ٣١٩ھ )کو بلخ سے صرف اس بنا پر نکال دینے کا ارادہ کر لیا کہ انہوں نے محدثین کا مذہب اپنایا تھا کہ وہ صفاتِ باری سے متعلق آنے والی آیات واحادیث کو کسی تاویل کے بغیر اُن کے ظاہر پر محمول کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان پر اس طرح ایمان لے آئو کہ ان کے(مفہوم ومطلب کے ) علم کواللہ کے حوالے کردو۔ جب اہلِ بلخ نے اُنھیں نکالنا چاہا تو اُنہوںنے کہا کہ میں تو صرف اسی صورت یہاں سے نکل سکتا ہوں کہ تم میری گردن میں رسی ڈالو اور مجھے شہر کے گلی بازاروں میں گھمائو اور لوگوں سے کہو کہ یہ بدعتی ہے ہم اسے اپنے شہر سے نکال رہے ہیں ۔لوگوںنے ایسا ہی کیا اورآپ کو بلخ سے نکال دیا ۔آپ اہلِ بلخ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : بلخ والو! اللہ نے تمہارے قلوب سے اپنی معرفت سلب کرلی ہے ، مشائخ رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ محمد بن فضل  کی اس بددعا کے بعد بلخ سے کوئی صوفی نہیں نکلا حالانکہ بلخ صوفیا ء کا بہت بڑا شہر تھا(سمر قند میں آپ کی وفات ہوئی )۔
	(٢٦)  شیخ یوسف بن حسین رازی  (م : ٣٠٤ھ ) کو رَی سے لوگوں نے نکالا اور اُن کے خلاف رَی کے صوفیاء وزھاء تک اُٹھ کھڑے ہوئے۔
	(٢٧)  اہلِ مکہ نے شیخ ابو عثمان مغربی   (م: ٣٧٣ھ )کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا باوجودیکہ آپ کے مجاہدات کثیر اور علم تام تھا۔ اُنہوںنے آپ کو بہت سخت مارا اور ایک اُونٹ پر بٹھا کر آپ کو گلیوں میں گھمایا آپ بغداد چلے آئے وہیں آپ کا انتقال ہوا۔  ١  
	(٢٨)  حضرت ابوبکر شبلی (م:٣٣٤ھ) پر لوگوںنے بارہا کفر کا فتوٰی لگایا باوجودیکہ آپ مکمل عالم اور کثرت سے مجاہدہ کرنے والے تھے آپ کوآپ کے شاگردوں نے ایک عرصہ تک ہسپتال میں داخل کیے رکھا تاکہ لوگ آپ کا پیچھا چھوڑدیں 
	(٢٩)  اہلِ مغرب نے حضرت امام ابوبکر نابلسی (م :    ) کو مغرب سے جلا وطن کرکے مصر روانہ کردیا اور ان 
  کے خلاف مصر کے بادشاہ کے سامنے یہ گواہی دی کہ یہ زندیق ہیں بادشاہ نے حکم دیا کہ انھیں اُلٹا کرکے ان کی کھال کھینچ لی 
جائے ۔آپ نے فوراً  ہی غور وتدبر اور خشوع و خضوع کے ساتھ قرآن پڑھنا شروع کردیا اور جلادآ پ کی کھال کھینچنے لگے۔    
  ١   نفحات الانس میں آپ کا مزار نیشا پور میں بتلایا گیا ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
50 درس حدیث 6 1
51 فضیلت حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما 6 50
52 حضرت عائشہ کی غیرت : 6 50
53 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا : 7 50
54 حضرت عائشہ کی باری، لوگوں کا رویہ ، اس کی وجہ : 7 50
55 ازواجِ مطہرات کی دو جماعتیں : 7 50
56 سوکن کی برداشت : 7 50
57 حضرت اُم ِ سلمہ کی گفتگو ،بعد ازاں تائب ہونا : 8 50
58 ایک اور کوشش اور بیٹی کی سعادت مندی : 8 50
59 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کامان : 9 50
60 حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمہ اللہ 10 1
61 جیل خانے یا عبادت گاہیں،ان حضرات کے مشاغل کی ایک جھلک : 10 60
62 جمعیة علماء ہند کی نظامت : 12 60
63 ١٩٤٧ء کے بعد حالات اور خدمات : 12 60
64 ٤٧ء کے بعد پیش آنے والے حالات کے ضمن میں : 14 60
65 جدید دفترجمعیة علماء ہند : 15 60
66 آخری دور کی تصانیف : 15 60
67 سلوک واحسان : 17 60
68 تعلیمی اشغال مدارس سے شغف : 18 60
69 عادات واخلاق : 20 60
70 عبادت وریاضت : 21 60
71 آخر وقت تک عزیمت پر عمل پیرا رہنے کی کوشش : 21 60
72 علالت : 22 60
73 وفات : 22 60
74 حُسنِ خاتمہ : 23 60
75 ایک اہم اعلان 25 1
76 قسط :١حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ اور حضرت علی کے ساتھ اُن کا اتصال 27 1
77 نشو ونما : 30 76
78 حسن بصری نے کن صحابہ سے روایت کی : 34 76
79 فہمِ حدیث 37 1
80 ٭قیامت اور آخرت کی تفصیلات 37 79
81 شفاعت : 37 79
82 شفاعت کون کون کرے گا : 42 79
83 جہنم میں داخلہ سے پہلے شفاعت : 42 79
84 اکمالِ دین 43 1
85 قرآن وحدیث میں تحریف : 43 84
86 (٢) اکمالِ دین ادلہ ٔ اربعہ کی صورت میں : 48 84
87 دعوت الی الحق : 50 84
88 آپ کے دینی مسائل 51 1
89 ٭( نماز پڑھنے کا طریقہ ) 51 88
90 نماز کی سنتیں : 51 88
91 حاصل مطالعہ 55 1
92 بے ادب بے نصیب : 55 91
93 قبلہ کی طرف تھوکنا بے ادبی ہے : 55 91
94 پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے : 57 91
95 ھَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ : 59 91
96 وَکَذَالِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُ وًَّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ : 60 91
Flag Counter