ماہنامہ انوار مدینہ لاہورمئی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
دہلی کے آس پاس جتنے شہزادے ملے پکڑے گئے ان کی تعداد انتیس(٢٩) بیان کی جاتی ہے ان میں بوڑھے لنگڑے،بیمار سب کے سب پھانسی پرلٹکا دئیے گئے ،سب سے زیادہ بوڑھا شہزادہ مرزاقیصر ابن شاہ عالم ثانی اکبر شاہ کا بھائی تھا ،او ر مرزا محمود شاہ اکبر کا پوتا وجع المفاصل میں مبتلاتھا۔ اس کو بھی پھانسی دی گئی او ر اس کی لاش لٹکتی ہوئی دکھائی گئی ،جو شہزادے قید میں ڈال دیے گئے ان پر سخت مظالم ہوتے رہے ۔زینت محل کے والد بزرگوارنے جیل ہی میں وفات پائی،بہادر شاہ کے دو لڑکوںمرزا بختاور اور مینڈھو پر مقدمہ قائم کیا گیا ، پھران کو گولی مار دی گئی،اور ان کی لاشیں کوتوالیمیںلٹکائی گئیں ،اسی طرح شاہی خاندان کے چوبیس افرادپھانسی پرلٹکائے گئے ،ان میں بادشاہ کے دو برادرِنسبتی اور دو داماد تھے ، بقیہ بادشاہ کے بھتیجے وغیرہ تھے۔ اوپر جو تفصیلات لکھی گئی ہیں ان کے لیے کسی حوالہ کی ضرورت نہیں ،یہ ایسے کھلے ہوئے موٹے موٹے واقعات ہیں جواسکول کی نصابی کتابوںمیں بھی درج ہیں اور اس سلسلہ میں کسی مستند ضخیم کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو ان تفصیلات میں ایک سامراجی قوت کی ہولناکیوں ، خون ریزیوں اور سفاکیوں کی اور بھی درد ناک تصویر یں ملیں گی ۔ انگریزوں نے جس حکومت کو سفاکانہ طورپر ختم کیا اس کی بڑی لمبی تاریخ رہی ہے ،اس نے ہندوستان میں ٣٣٠ برس تک حکمرانی کی لیکن اس کی پوری تاریخ میں ایسی سفاکی کی مثال نہیں ملے گی جس کا ذکر اوپر کیاگیا ہے ۔اس کی رواداری کی تاریخ خاکسار نے دو جلدوں میں لکھی ہے اور برطانوی ر اج کے زمانہ میں ہندو مورخین نے بھی مغل حکومت کی عدل پروری ، نرمی،لینت ، فراخ دلی اور روا داری کی تعریف کی ہے۔ ان کی تفصیل میری مذہبی روا داری کی دوسری او ر تیسری جلدوں میںملیں گی جن ناظرین کو یہ دونوں جلدیںکسی وجہ سے نہ مل سکیں ان کے لیے یہاں پر ایک دو اقتباسات درج کیے جاتے ہیں۔ پر و فیسر رام پر شاد گھوسلا اپنی کتاب مغل کنگ شپ اینڈ نوبی لیٹی میں لکھتے ہیں : مغلوں کے زمانہ میں عدل و انصاف میں جو اہتمام ہوتااو ر جو ان کی مذہبی رواداری کی پالیسی تھی اس سے عوام ہمیشہ مطمئن رہے ،اسلامی ریاست میں سیاست اور مذہب کا گہرا لگائو رہا ہے لیکن مغلوں کی مذہبی روا داری کیوجہ سے اس لگائو کی وجہ سے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا ،کسی زمانہ میںبھی یہ کوشش نہیں کی گئی کہ حکمراں قوم کا مذہب محکوموںکا بھی مذہب بنادیاجائے حتی کہ ا ورنگ زیب نے بھی حصول ملازمت کے لیے اسلام کی شرط نہیں رکھی تھی ،مغلوں کے عہد میں Corporation Act جیسے قوانین منظور نہیں کیے گئے ۔ایلز بتھ کے زمانہ میں ایک ایسا