صحابۂ کرام کا جذبۂ اتباع
چنانچہ صحابۂ کرام ہرحکم میں کامل اطاعت کے پیکرتھے ،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کو دیکھ کر چلتے تھے۔اللہ کا حکم پورا کرنے میں کوئی چیز ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنی۔
جو ایران کے پارلیمنٹ میں شاہی دسترخوان پربیٹھ کرکھاتے ہوئے لقمہ زمین پرگرگیاتواس کو اٹھا کر کھارہے ہیں………قریب والے نے اشارے سے یوں کہا کہ … اس طرح زمین سے پر لقمہ اٹھاکر کھا نا اس کے یہاں معیوب ہے یہ متمدن ملک ہے،تہذیب یافتہ لوگ ہیں ۔
اللہ اکبر!اتنے بڑے پارلیمنٹ کی اتنی بڑی بادشاہت کی……نبی کی ایک سنت کے مقابلہ میں کیا وقعت وحیثیت ہے……حذیفہ بن الیمان جواب دیتے ہیں۔
اَاَتْرُکُ سُنَّۃَ حَبِیْبِیْ لِہٰوُلاَئِ الْحُمَقَائِ؟
کیا میں اپنے محبوب کی سنت ان بے وقوفوں کی وجہ سے چھوڑدوں؟
آقاکی ایک سنت کے مقابلہ میں……پورے تہذیب وتمدن والے ملک کی ادنی حیثیت نہیں یہ جذبہ تھا ان حضرات کے دلوں میں۔
صحابہ کہتے تھے:
بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْیُسْرِ وَالْعُسْرِوَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ(مشکوٰۃ ص ۳۱۹)
ہم نے رسول اللہ کے ہاتھ پربیعت کی ہے کہ آپ کی سنیں گے،آپؐ کی مانیں گے ،حالات تنگی کے ہوں تو… فراخی کے ہوں تو… ہماری طبیعتیں چاہ رہی ہوتو… ہماری طبیعتوں پربوجھ پڑرہا ہوتو… ہرحال میں سنیں گے ،