ٹوکن دے کر زمین کی خرید و فروخت اور تجارتی انعامی اسکیمیں |
یک علمی |
|
طرف منفعت مباحہ، لہٰذا یہ تعریف ان تمام صورتوں کوشامل ہوگی، کتاب کا کتاب سے تبادلہ، کتاب کا حق مرور سے تبادلہ، حق مرور کا کتاب سے تبادلہ ، ایک گھر کے حق مرور کا دوسرے گھر کے حق مرور سے تبادلہ‘‘۔ (شرح منتہی الارادات:۲/۱۴۰، الموسوعۃ الفقہیۃ :۹/۶) فقہاء مالکیہ نے بیع کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے:’’ عقد معاوضۃ علی غیر منافع ولا متعۃ لذۃ ‘‘۔’’بیع ایسا عقد معاوضہ ہے جو منافع پر نہ کیا جائے اور نہ ہی لذت حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔‘‘(مواہب الجلیل للحطاب: ۴/۲۲۵، الموسوعۃ الفقہیۃ :۹/۵) ان تعریفات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شافعیہ، حنابلہ اور مالکیہ نے بیع کی تعریف کو عام کرکے منافع کو بھی اس میں شامل کیا ہے، اس لیے اُن کے نزدیک اکثر حقوقِ مجردہ کی بیع جائز ہے۔